فواد چوہدری شرعی دلیل دیں تو غور کریں گے: قبلہ ایاز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری ہماری سفارشات پر شرعی دلیل دیں تو ہم غور کے لیے تیار ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے وفاقی وزیر کے ٹویٹ پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فواد چوہدری کا ٹویٹ میں نے ابھی پڑھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، ان کا یہ ٹویٹ سمجھ سے بالاتر ہے۔

قبلہ ایاز نے کہا کہ 20 ممبران پر مشتمل اسلامی نظریاتی کونسل آئینی ادارہ ہے، جس کے ارکان و چیئرمین کی تقرری وزیرِ اعظم کی سفارش سے صدرِ مملکت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب قوانین کے بارے میں حکومت خود بھی عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بھی نیب پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہیں۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ ہم نے نیب قوانین کا شرعی لحاظ سے جائزہ لیا ہے، فواد چوہدری کے ساتھ بہت اچھے مراسم ہیں، معلوم نہیں ان کے ذہن میں کیوں تکدر پیدا ہوا اور انہوں نے اس قدر سخت ٹویٹ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فواد چوہدری کے قمری کیلنڈر کی ہم نے بہت تحسین کی تھی، کابینہ نے فیصلہ کیا کہ قمری کیلنڈر کا معاملہ وزارت مذہبی امور دیکھے۔

قبلہ ایاز نے یہ بھی کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم وزارتِ مذہبی امور کو اپنی تجاویز دیں گے۔ فواد چوہدری کھلے ڈلے آدمی ہیں، ان کو ہمارے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے تھا، وہ ہمارے ساتھ رابطہ کرتے تو ہم ان کو مطمئن کرتے۔

واضح رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے نیب آرڈیننس کی کچھ دفعات کو غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دیا تھا۔

انہوںنے نیب آرڈیننس کی دفعات 14 ڈی، 15 اے اور26 کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیب ملزمان کو ہتھکڑی لگانا، میڈیا پر ان کی تشہیر کرنا، حراست میں رکھنا، بے گناہ کو ملزم ثابت کرنا، وعدہ معاف گواہ بننا اور پلی بارگین کی دفعات بھی غیراسلامی ہیں۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کی پریس کانفرنس پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply