تھپڑوں کا موسم

محمد حنیف - صحافی و تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گاؤں سے فون آیا، کہا گیا ٹی وی کا ایک بہت بڑا اینکر ہے اسے ایک وزیر نے تھپڑ مارا، سب کے سامنے۔ اب اس اینکر کی ایف آئی آر بھی کوئی کاٹنے کو تیار نہیں نہیں۔ تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو؟

میں نے آگے سے آئیں بائیں شائیں کرتے ہوے کہا کہ میں تو ایک نیم ریٹائرڈ دانشور ہوں، میں نے کیا کیا ہے۔ آخر میں یہ کہہ کر فون بند کر دیا گیا کہ اپنا خیال رکھنا۔

مجھے حیرت نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن ہوئی کہ یہ بڑے شہروں کی بدعتیں دیہات میں بھی پہنچ گئی ہیں لیکن پھر خیال آیا کہ اب بزرگوں نے فیس بک پر اپنے اکاؤنٹ بنا لیے ہیں یا سارا دن واٹس ایپ پر انگلی ایسے گھماتے ہیں جیسے تسبیح پڑھ رہے ہوں تو کیسا گاؤں اور شہر ہم سب اپنے ہاتھ میں پکڑے سمارٹ فون کی دنیا کے شہری ہیں۔

زمانے کے ساتھ ساتھ علیک سلیک کے طریقے بھی بدلتے رہتے ہیں۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے خدا حافظ، اللہ حافظ ہو گیا۔ السلام علیکم طویل سے طویل تر ہوتا گیا اور اس کا مخرج بھی بدل گیا لیکن کئی برس پہلے ٹی وی پر جب کسی کو ایک پروگرام کے آخر میں یہ کہتے سنا کہ اپنا خیال رکھیے گا تو اچنبھا ہوا۔ دل سے آواز نکلی کہ کیا کہہ رہے ہو بھائی، میں نہیں رکھوں گا تو کون رکھے گا۔

اب بھی جب کسی کے منھ سے یہ الفاظ سنتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ اصل میں یہ کہا جارہا ہے کہ سن اس دنیا میں تیرا خیال رکھنے والا کوئی نہیں، تو اپنا خیال خود ہی رکھ۔

ایک بہت ہی سینیئر ٹی وی اینکر یہ بھی کہتے پائے جاتے ہیں کہ اپنا اور اپنے ہمسایوں کا خیال رکھیے گا۔ میں پوچھتا ہوں کہ کبھی بڑے شہر کے ہمسائے دیکھے ہیں۔ ساری عمر ایک گلی میں رہ لو تو پتا نہیں چلتا کہ ہمسایہ کون ہے۔ ہمسائے کا خیال رکھنے کی کوشش کروں گا تو آگے سے تھپڑ نہ کھانا پڑ جائے۔

مشہور لوگوں سے ملنے سے بچپن سے ہی خوف آتا ہے لیکن اگر کسی سیاستدان، عالم دین یا بڑے لکھاری سے ملنا پڑ جائے تو ادھر ادھر کی بات کر کے وقت گزارنے کی کوشش کرتا ہوں۔

اندر کی خبر جاننے کی کبھی خواہش نہیں رہی۔ ایک عالم دین سے ملنا پڑا تو اپنے مسائل کے بجائے ان کے پسندیدہ کھانوں کے بارے میں باتیں کیں۔ ایک دفعہ دھرنے کے دوران عمران خان صاحب سے بات ہوئی ان کی فٹنس کا راز جاننے کی کوشش میں لگا رہا۔ عبداللہ حسین جب حیات تھے تو ادب سے زیادہ اسی زمانے کی بات کیا کرتے تھے جب وہ لندن میں دارو کی دکان چلاتے تھے۔

تھپڑ مارنے والے وزیر سے کئی برس پہلے ایک ہوٹل کے صحن میں ملاقات ہوئی تھی۔ میں سگریٹ پی رہا تھا، وہ میرے پاس آئے اور ہم نے آپ کو کون نہیں جانتا ٹائپ علیک سلیک کی۔

انھوں نے مجھ سے سگریٹ مانگا۔ مجھے پتا تھا کہ وہ اس زمانے میں بلاول بھٹو کے سیاسی مشیر تھے لیکن میں نے بلاول ہاؤس کی اندر کی خبر جاننے کے بجائے ان سے پوچھا کہ وہ دن میں کتنے سگریٹ پیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں میں تو سگریٹ پیتا ہی نہیں، بس ایسے ہی کبھی آپ جیسا کوئی مل جائے تو پی لیتا ہوں ہوں۔ انہوں نے میرے بغیر پوچھے بلاول ہاؤس کے اندر کی کوئی خبر سنانی شروع کی تو مجھے اچاناک یاد آ گیا کہ بچے کے سکول کی چھٹی کا وقت ہوا چاہتا ہے، سو اجازت لی اور چل دیا۔

اب انھیں ٹی وی پر دیکھتا ہوں تو خوش ہوتا ہوں کہ دیکھیں ہمارا سوٹا شریک دوست اتنا طاقتور وزیر ہے۔ ان کے تھپڑ کی خبر سے بھی یہی لگا کہ وہ شاید ہمارے عہد کا ایک استعارہ ہیں۔

اس ہفتے اسمبلی میں تالیوں کا شور ہوا تو ایک لمحے کے لیے لگا کہ شاید اجتماعی تھپڑوں کی آواز ہے۔ بلیک اینڈ وائٹ زمانے کی خاموش مزاحیہ فلمیں یاد آ گئیں جن میں ایک کردار دوسرے کو تھپڑ مارتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ تیسرے نے مارا ہے اور وہ سے ایک جڑ دیتا ہے اور یہ سلسلہ چل نکلتا ہے۔ جلد ہی پورا کمرہ تھپڑوں کی آواز سے گونجنے لگتا ہے۔

میں نے گاؤں سے فون کرنے والے بزرگ سے وعدہ کیا کہ اپنا خیال رکھوں گا۔ پھر ان کی یہ نصیحت بھی یاد آ گئی کہ جو تھپڑ وقت کے بعد یاد آئے وہ اپنے ہی منھ پر مار لینا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •