سگریٹ، الحاد اور مذہب بطور فیشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو سال گزرے کہ ایک مولانا گھبرائے ہوئے ان باکس میں تشریف لائے۔ انہوں نے جہادی طبیعت پائی ہے اور القاعدہ ان کو عین حق پر لگتی ہے اور مسلم ممالک کی حکومتوں اور فوج کے متعلق ان کا بھی وہی نظریہ ہے جو کہ القاعدہ کا ہے۔ ہم سے کافی تنگ ہیں کیونکہ ہم ان کے جہادی نظریات کی حمایت نہیں کرتے ہیں اور یہ لیکچر دیا کرتے ہیں کہ دیرپا تبدیلی بندوق کی نال پر برپا کیے جانے والے انقلاب سے نہیں بلکہ تعلیمی اور ذہنی انقلاب سے آتی ہے۔

کہنے لگے کہ بظاہر تو پاکستان میں ہر طرف اسلام کا بول بالا ہے، مگر چند دن پہلے فلاں یونیورسٹی میں گئے تو وہاں طلبا کی ایک بڑی تعداد کو ملحد پایا۔ اس کے بعد فلاں فلاں یونیورسٹی کے بارے میں بھی یہی سنا کہ وہاں الحاد پھیل رہا ہے۔ کچھ مشورہ دیں۔

ان کو یہی مشورہ دیا کہ انقلاب لانے کے لئے بندوق کا استعمال ترک کر دیں کیونکہ نئی نسل کو اسلام سے دور دھکیلنے میں داعش ٹائپ جہادی تنظیموں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ جب طلبہ ان کے کیے ہوئے خودکش حملے دیکھتے ہیں یا انہیں لوگوں کو زندہ جلاتے پاتے ہیں، یا کٹے ہوئے انسانی سروں سے فٹ بال کھیلنے کا منظر دیکھتے ہیں تو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ اسلام ہے۔ اب ان کچے ذہنوں کی نظر میں اسلام سلامتی کا مذہب نہیں رہا ہے بلکہ اسے وہ عام شہریوں پر خونریز حملوں سے جوڑنے لگے ہیں۔ خیر مولانا کو بات سمجھ نہیں آئی۔

نوجوانی بھی کیا عمر ہوتی ہے۔ جب بندہ یونیفارم والے سکول سے نکل کر کالج پہنچتا ہے تو اسے پہلی بار آزادی ملتی ہے۔ وہ خود کو بڑا محسوس کرتا ہے اور اپنے اندر اتنی توانائی بھی پاتا ہے کہ انقلاب لا کر دنیا کی تمام برائیوں کو جڑ سے مٹا دے، غربت ختم کر دے، حکومت کے خلاف بغاوت کر دے، دشمن ملک از قسم بھارت وغیرہ پر تن تنہا جا کر حملہ کر دے، یا بس میں بیٹھ کر سیدھا کہوٹہ پہنچے اور ڈپو سے ایٹم بم ایشو کروائے اور سیدھا چک لالہ پہنچ کر اسے ایف سکسٹین میں رکھے اور دہلی پر پھینک آئے۔

لیکن خوش قسمتی سے سٹوڈنٹ ہمیشہ غریب ہی ہوتا ہے اور اس غربت میں وہ کہوٹہ کا ٹکٹ خریدنا افورڈ نہیں کرتا۔ اس کی جیب میں گھر جانے کا کرایہ نکال کر اتنے ہی پیسے باقی بچتے ہیں کہ گولڈ فلیک کی دو سگریٹیں خرید لے اور انہیں پی کر معاشرے اور رسوم و رواج کے خلاف بغاوت کر دے۔

سگریٹ بھی کیا شے ہے۔ جب کوئی بچہ جلدی بڑوں کی دنیا میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اسے ایک ہی شارٹ کٹ دکھائی دیتا ہے، سگریٹ۔ آٹھ دس سال کا محنت کش بچہ جب مکینک کی دکان میں دن بھر مشقت کرنے کے بعد شام کو سو روپے پاتا ہے، تو نزدیکی کھوکھے سے ایک سگریٹ خرید کر ایک گہرا کش لگاتا ہے اور خود استاد بن جاتا ہے۔

نوجوان خون کو بغاوت چاہیے ہوتی ہے۔ سگریٹ سلگا کر وہ بڑوں کے احکامات کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور انہیں دھویں میں اڑا کر جب گھر کا رخ کرتا ہے تو ایک الائچی چباتا ہوا لوٹتا ہے تاکہ اسے بغاوت کرنے کے جرم میں دھر نہ لیا جائے۔

پرانے وقت بھلے ہوا کرتے تھے۔ ایک طرف سرمایہ دار امریکہ تھا تو دوسری انتہا پر مزدور دوست کمیونسٹ سوویت یونین کا راج تھا۔ اس وقت کالج کے نوجوان کے پاس بغاوت کرنے کے لئے سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات ہوا کرتے تھے۔ معاشرے میں تبدیلی لانے اور انسانوں کو برابر کرنے کی خاطر وہ سرخوں کی طلبہ یونین میں شامل ہو جاتا تھا۔ دوسری طرف وہ نوجوان تھے جو کمیونسٹ ہونے کو قومی نظریات اور مذہب سے بغاوت قرار دیتے تھے اور مخالف طلبہ کی اس بغاوت کو دبانے کے لئے مذہبی طلبہ تنظیم میں شامل ہو جاتے تھے۔ کچھ نوجوان طاقت پانے کی چاہ میں بھی بطور فیشن بھی کمیونسٹ یا مذہبی ہو جاتے تھے۔

اب نہ سوویت یونین رہا، نہ کمیونزم رہا۔ اب کالج کے اس باغی نوجوان کے پاس اسلامی طلبہ تنظیم میں شامل ہونے کا راستہ تو ہے، لیکن اگر وہ اس کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتا ہے تو اس کے پاس متبادل یہی ہے کہ وہ فیس بک کھولے اور خود کو ملحد قرار دے دے اور اسلام پسندوں کے خلاف محاذ کھول لے۔ اس کا اسلام یا کسی دوسرے مذہب کا مطالعہ بھی اتنا ہی واجبی ہوتا ہے جتنا کہ الحاد کا۔ نہ اس نے مختلف مذاہب عالم کا مطالعہ کیا ہوتا ہے اور نہ ہی وہ یہ جانتا ہے کہ انسانی تاریخ میں مذہب نے کس طرح نشو و نما پائی۔ وہ چند ویب سائٹس دیکھتا ہے، ان میں سے چند اقتباسات پڑھتا ہے اور ان کی بنیاد پر اعلان بغاوت کر ڈالتا ہے۔

دوسری طرف مذہبی طبقے میں بھی ایسے نوجوان دکھائی دیتے ہیں جو چند کتابیں پڑھ کر ان میں بیان کیے گئے عقیدے کو ہی اسلام سمجھ لیتے ہیں۔ ان کو ہر شے حرام دکھائی دینے لگتی ہے۔ مختلف فرقے والا ہر شخص ان کی نگاہ میں کافر ٹھہرتا ہے۔

یہ دونوں طرف کے کچے علم والے لوگ ویسے ہی فیشن کی خاطر ایک عقیدہ اختیار کرتے ہیں جیسے فرسٹ ائیر کا باغی نوجوان سگریٹ سلگا کر اعلان بغاوت کرتا ہے۔ چند سال بعد جب اس کی سوچ پختہ ہو جاتی ہے، علم بڑھتا ہے، تو پھر وہ خود ہی سنجیدگی سے کسی ایک لائن پر لگ جاتا ہے۔ بڑھتی عمر میں مذہب کی لائن پر لگنے والوں کی تعداد ہمیشہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا عبدالماجد دریابادی جیسے بڑے عالم بھی کسی زمانے میں کتابیں پڑھ پڑھ کر اسلام بیزار ہو گئے تھے اور خود کو ملحد کہنے لگے تھے۔ کئی برس اسی حالت میں رہے، حتی کہ انہوں نے مزید کتابیں پڑھیں، دنیا دیکھی، لوگوں سے بات کی، اور پھر اسلام کی طرف پلٹ کر اپنے دور کے بڑے علما میں شامل ہو گئے۔ یہ حضرات اپنے علم کے باعث مذہب سے دور ہوئے تھے اور مزید علم کے باعث ہی مذہب کی طرف پلٹے تھے۔

تو اگر کوئی نوجوان ملحد ہو گیا ہے، انتہاپسند ملا ہو گیا ہے، یا سگریٹ پینے لگا ہے تو اسے وقتی فیشن ہی سمجھیں۔ اس کی بہت زیادہ مخالفت کریں گے تو وہ اپنے فیشن کو مزید شدت سے اختیار کرے گا۔ اسے سوچنے سمجھنے کا وقت دیں کہ دانا بیان کرتے ہیں کہ وقت ہی سب سے بڑا استاد ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1249 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “سگریٹ، الحاد اور مذہب بطور فیشن

  • 24/10/2016 at 7:47 pm
    Permalink

    What one will do with general like muzafar usmani.
    What he did for what and why
    When he was core commonder karachi.his mentalaty was just like teen agers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *