عزت نفس کا احساس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے آبا و اجداد کا تعلق مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر کی تحصیل نکودر کے چھوٹے سے گاؤں مظفر پور سے تھا۔ اس گاوں کا ایک فرد بیسویں صدی کے آغاز میں بارہ برس کی عمر میں گھر سے نکلا اور امریکہ چلا گیا۔ کمال اس نے یہ کیا کہ وہاں جا کر پڑھائی کی اور کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے کیلی فورنیا کی برکلے یونیورسٹی میں کیمسٹری کا پروفیسر بنا۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں سن 1945 میں وہ امریکی فوج کے ساتھ ہندوستان آیا۔ اس وقت وہ گاوں بھی آیا۔

ابا جان اس کی کچھ باتیں بہت مزے سے بیان کیا کرتے تھے لیکن اس کا ایک مشاہدہ ایسا بتایا کہ وہ جب بھی یاد آتا ہے دل میں چھید کرکے رکھ دیتا ہے۔ یہاں وہ بہت سے لوگوں سے ملتا رہا، دفتروں میں بھی جانا ہوتا رہا۔ کسی نے ہندوستان کے بارے میں اس کی رائے پوچھی تو اس نے جواب دیا ہندوستان منگتوں کا ملک ہے۔ جہاں بھی جس سے بھی ملا ہوں اس نے مجھ سے کچھ نہ کچھ مانگا ضرور ہے۔ اس کی اس بات کی تصدیق گاوں میں ہی ہو گئی۔

ہمارے ساتھ جو گاوں تھا وہاں کے ایک ڈاکٹر صاحب تھے جو اس زمانے میں بھی ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ بعد میں پاکستان میں بھی بہت نام کمایا تھا۔ ان ڈاکٹر صاحب کے والد بزرگوار کے بارے میں ابا جان بتایا کرتے تھے کہ وہ ہر وقت بہت عمدہ لباس پہنے ہوتے تھے۔ ہمیشہ تھری پیس سوٹ پہن کر گھر سے باہر نکلتے۔ جیب میں چاندی کی زنجیر سے بندھی جیبی گھڑی ہوتی۔ وہ بھی اس امریکن مہمان سے ملاقات کی غرض سے تشریف لائے۔ رخصت ہوتے وقت کہنے لگے یار وہ وکنسن سورڈ کے بلیڈ بہت اچھے ہوتے تھے آج کل مل نہیں رہے۔ اس نے کہا کوئی بات نہیں چاچا جی میں آپ کو ایک پیکٹ دے دوں گا۔ جب وہ چلے گئے تو اس امریکن ڈاکٹر نے کہا یہ دیکھ لیں۔ موصوف کا بیٹا اتنے اعلیٰ عہدے پر فائز ہے لیکن فرمائش کرنے میں ان کو بھی کوئی قباحت محسوس نہیں ہوئی۔

اتنے برسوں بعد یہ واقعہ یاد آنے کا سبب یہ خبر ہے کہ گریڈ سترہ سے اکیس تک کتنے ہی گزیٹڈ افسران اپنی بیگمات کے نام پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے پیسے لیتے رہے ہیں۔ مجھے اس پر کوئی اچنبھا نہیں ہوا کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے اچھے عہدوں پر فائز افسران کو پھل کی دکانوں سے مفت پھل اٹھاتے دیکھا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ گریڈ انیس یا بیس کے افسر کی تنخواہ اب اتنی کم بھی نہیں ہے کہ وہ اپنے کنبے کا پیٹ نہ پال سکتا ہو۔

میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب تو نہیں ہے لیکن میرے خیال میں اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی عزت نفس سے عاری لوگ ہیں۔ خوف خدا کس قدر کارآمد ہوتا ہے اس کا تو مجھے پتہ نہیں کیونکہ بظاہر بڑے دین دار لوگوں کو بھی مال حرام کی رغبت سے پاک نہیں دیکھا۔ دنیا کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اپنی عزت کا احساس انسان کو بہت سے غلط کاموں سے بازر رہنے میں ممد و معاون ہوتا ہے۔

ہمارا تاریخی المیہ یہ ہے کہ ہم صدیوں سے تذلیل سہنے کے عادی ہو چکے ہیں جس نے ہمارے اندر عزت نفس کے احساس کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ ہندو معاشرے کے جاتیوں کے نظام نے بنی نوع انسان کی ایک کثیر تعداد کو ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ ان جاتیوں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ان کے مقدر کا سورج بھی روایات کے گھنے بادلوں سے باہر نہ آ سکا۔ اوپر سے مسلمان حاکم غیر ملکی ہوتے تھے۔ مذہب ایک ہونے کے باوجود زبان اور نسل کا فرق موجود تھا چنانچہ وہ مقامی مسلمانوں کو حقیر گردانتے تھے۔ بڑے عرصے تک مقامی مسلمانوں کو بھی ہندو ہی کہا جاتا تھا۔ حکمرانوں کے رویے کی ایک مثال ہمیں حضرت اورنگ زیب عالمگیر کے وصیت نامے میں ملتی ہے۔ فرماتے ہیں “پیشکار کے عہدے پر بلکہ جنگ میں بھی کام کرنے کے لیے ایرانیوں سے بہتر اور کوئی نہیں۔۔۔ مشکل امور انھیں سونپنے چاہییں۔ تورانی لوگ جانے ہوئے سپاہی ہیں۔۔۔ اہل ہند کے اس جہل مرکب سے کہ ‘سر جائے تو جائے جگہ نہ جائے’ کوسوں دور رہیں۔” (بحوالہ دربار ملی۔ اردو ترجمہ خواجہ عبد الحمید یزدانی۔ ص 456 )

تو یہ تھی حضرت عالمگیر کی رائے ہم اہل ہند کے بارے میں کہ ہم جہل مرکب کا مجموعہ ہیں اس لیے سرکاری مناصب کے لائق نہیں۔ مسلمان بادشاہوں کا دربار ہمیشہ غیر ملکیوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ مقامی مسلمان شاید کبھی پنج ہزاری کے منصب تک بھی نہ پہنچ پایا ہو۔ مغلوں کے آخری دور میں پنجاب میں ایک اعلیٰ منصب دار ادینہ بیگ کا ذکر ملتا ہے جس نے کچھ جنگی کارنامے انجام دیے تھے۔ مجید شیخ کی تحقیق کے مطابق وہ شرق پور کا ارائیں تھا۔ کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ شرقپور کے ارائیں کو منصب پانے کے لیےادینہ بیگ کا روپ دھارنا پڑے۔

 انگریز اور مسلمان حکم ران اگرچہ دونوں غیر ملکی تھے لیکن یہ فرق ضرور تھا کہ مسلمان حکمران یہاں آباد ہو گئے تھے لیکن انگریز یہاں غیر ملکیوں کی طرح ہی رہے۔ لارڈ میکالے جب ہندوستان آیا تھا تو مدراس سے مالابار جاتے ہوئے اس نے ایک خط میں اپنا یہ تاثر بیان کیا تھا کہ انگریزوں کے مکانات کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے مکینوں کا یہاں مستقل آباد ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔

اس ہزار سال کی غلامی میں ہماری عزت نفس کو اتنا پامال کیا گیا ہے کہ آج ہم اپنے نسب، تہذیب اور زبان پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ جعلی نسب نامے گھڑتے ہیں۔ غیر ملکی انداز اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اپنی زبان کو حقیر جانتے ہیں۔ آج کتنے گھرانے ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ انگریزی میں بات کرتے ہیں۔ سکولوں میں اپنی زبان بولنے پر پابندی عاید کی جاتی ہے۔ ان تمام باتوں کے نتیجے میں اخلاقی بالیدگی پیدا نہیں ہو سکتی۔ غلامانہ ذہنیت خوشامد اور سازش کرنا سکھاتی ہے، سچ بولنا نہیں۔ اقبال نے کہا تھا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

اگر ہم تاریخ کے اس بندی خانے سے رہائی پانا چاہتے ہیں، جو مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں، تو ہمیں اپنی نئی نسلوں کی تربیت کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ اگر ہم ان کے اندر احساس خود داری کو اجاگر کر سکیں، تو شاید وہ سچ کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کو اپنانے پر آمادہ ہو سکیں۔ اگر ہم چاہیں تو اپنے مستقبل کو بدل سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں جاپان سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

 جاپانیوں نے انیسویں صدی کی پچاس کی دہائی میں جدید مغربی تعلیم حاصل کرنا شروع اور پچاس سال کے اندر اندر وہ ایشیا کی ایک بڑی طاقت بن گئے تھے۔ اس وقت ان کے نزدیک تعلیم حاصل کرنے کا مقصد خود کو بڑی فوجی طاقت بنانا تھا۔ چنانچہ بیسیوں صدی کے نصف اول میں وہ مشرق میں فوجی کارروائیوں میں مصروف رہے۔ میرے گاوں میں ایک صاحب تھے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران میں جاپانیوں کی قید میں رہ چکے تھے۔ وہ قیدیوں پر ان کے ظلم و ستم کی داستانیں سنایا کرتے تھے۔ لیکن جنگ میں ایٹمی تباہی کا سامنا کرنے کے بعد اس قوم نے سبق سیکھا اور اپنی صلاحیتوں کو سائنس، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی ترویج کے لیے وقف کر دیا۔ اس قوم کے اعلیٰ اخلاقی معیار کا وہاں سونامی آنے کے بعد پوری دنیا نے مشاہدہ کیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خوابوں اور خیالوں کے سنہرے ماضی کے قفس سے خود کو رہائی دلائیں۔ ترقی یافتہ دنیا سے سبق سیکھ کر اپنے لیے راہ عمل کا تعین کریں اور پھر پورے صبر اور عزم کے ساتھ اس پر گامزن رہیں۔ امید ہے کہ دو تین نسلوں میں اس قوم کے افراد عزت نفس کے ساتھ جینے کا ڈھنگ سیکھ جائیں گے وگرنہ ہم اسی طرح لڑھکتے رہیں گے۔ یاد رہے زوال کی بھی کوئی حد نہیں ہوتی۔ عزیز دوست باصر کاظمی کا ایک شعر یاد آ گیا ہے:

جن کو ملیں بلندیاں، دیکھی انھوں نے پستیاں

ہوتی ہے ہر دفعہ مگر وجہ زوال مختلف

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *