اللہ کا بڑا فضل ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 20
  •  

اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان …. ایک وہ زمانہ جہالت تھا کہ جگہ جگہ کچہریاں تھیں۔ ہائی کورٹیں تھیں۔ تھانے تھے ، چوکیاں تھیں، جیل خانے تھے، قیدیوں سے بھرے ہوئے۔ کلب تھے جن میں جوا چلتا تھا۔ شراب اڑتی تھی۔ ناچ گھر تھے ، سینما تھے ، آرٹ گیلریاں تھیں اور کیا کیا خرافات نہ تھیں …. اب تو اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان۔ کوئی شاعر دیکھنے میں آتا ہے نہ موسیقار …. لاحول ولا۔ یہ موسیقی بھی ایک لعنتوں کی لعنت تھی …. یعنی آخر گانا بھی انسانوں کا کام ہے …. تنبورہ لے کر بیٹھے ہیں اور گلا پھاڑ رہے ہیں۔ صاحب ، کیا گا رہے ہیں ، درباری کا نہڑہ، مالکونس ، میاں کی ٹوڈی ، اڈانہ اور جانے کیا کیا بکواس …. کوئی ان سے پوچھے کہ جناب آخر ان راگ راگنیوں سے انسانیت کو کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ آپ کوئی ایسا کام کیجیے جس سے آپ کی عاقبت سنورے۔ آپ کو کچھ ثواب پہنچے۔ قبر کا عذاب کم ہو۔

اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان …. موسیقی کے علاوہ اور جتنی لعنتیں تھیں ان کا اب نام و نشان تک نہیں اور خدا نے چاہا تو آہستہ آہستہ یہ زندگی کی لعنت بھی دور ہو جائے گی۔

میں نے شاعر کا ذکر کیا تھا …. عجیب و غریب چیز تھی یہ بھی …. خدا کا خیال نہ آسکے رسول کی فکر نہ ہو بس معشوقوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ کوئی ریحانہ کے گیت گا رہا ہے کوئی سلمیٰ کے…. لاحول ولا، زلفوں کی تعریف ہو رہی ہے کبھی گالوں کی …. وصل کے خواب دیکھے جا رہے ہیں …. کتنے گندے خیالات کے تھے یہ لوگ، ہائے عورت وائے عورت …. لیکن اب اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان اول تو عورتیں ہی کم ہو گئی ہیں اور جو ہیں پڑی گھر کی چار دیواری میں محفوظ ہیں …. جب سے خطہ زمین شاعروں کے وجود سے پاک ہوا ہے فضا بالکل صاف اور شفاف ہو گئی ہے۔

میں نے آپ کو بتایا نہیں۔ شاعری کے آخری دور میں کچھ شاعر ایسے بھی پیدا ہو گئے تھے جو معشوقوں کے بجائے مزدوروں پر شعر کہتے تھے۔ زلفوں اور عارض کی جگہ ہتھوڑوں اور درانتیوں کی تعریف کرتے تھے …. اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان کہ ان مزدوروں سے نجات ملی، کم بخت انقلاب چاہتے تھے۔ سنا آپ نے ؟ تختہ الٹنا چاہتے تھے حکومت کا، نظام معاشرت کا ، سرمایہ داری کا اور نعوذ باللہ مذہب کا۔

اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ان شیطانوں سے ہم انسانو ں کو نجات ملی۔ عوام بہت گمراہ ہو گئے تھے۔ اپنے حقوق کا ناجائز مطالبہ کرنے لگے تھے۔ جھنڈے ہاتھ میں لے کر لادینی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے …. خدا کا شکر ہے کہ اب ان میں سے ایک بھی ہمارے درمیان موجود نہیں اور لاکھ لاکھ شکر ہے پروردگار کا اب ہم پر ملاﺅں کی حکومت ہے اور ہر جمعرات ہم حلوے سے ان کی ضیافت کرتے ہیں۔

آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ اس زمانے میں حلوے کا نام و نشان تک اڑ گیا تھا …. مسجدوں میں حجروں کے اندر بے چارے ملا ، خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، پڑے حلوے کو ترستے تھے۔ ان کی لمبی لمبی نورانی داڑھیوں کا ایک ایک بال شیطانی استروں کی موت کی دعائیں مانگتا تھا۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ یہ دعائیں قبول ہوئیں۔ اب آپ کو اس کونے سے اس کونے تک چلے جائیے ساری دکانیں چھان مارئیے ، ایک استرا بھی آ پ کو نہیں ملے گا۔ البتہ حلوہ جوکہ ہمارے رہنما ملاﺅں کی مذہبی خوراک ہے آپ کو اب ہر جگہ اور ہر مقدار میں دستیاب ہو سکتا ہے۔

اللہ کا بڑا فضل ہے …. اب کوئی ٹھمری داورا نہیں گاتا۔ فلمی دھنیں بھی مر کھپ گئی ہیں۔ موسیقی کا ایسا جنازہ نکلا ہے اور اس طور پر اسے زمین میں دفن کیا گیا ہے کہ اب کوئی مسیحا اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا۔ کتنی بڑی لعنت تھی یہ موسیقی۔ لوگ کہتے تھے آرٹ ہے۔ کیسا آرٹ ، کہاں کا آرٹ۔ یہ بھی کوئی آرٹ ہے کہ آپ نے کوئی گانا سنا اور دنیا کے دکھ تھوڑی دیر کے لیے بھول گئے۔ کوئی گیت سنا اور دل آپ کا بلیوں اچھلنے لگا …. حسن و عشق کی دنیا میں جا پہنچے …. لاحول ولا۔ آرٹ کبھی ایسا گمراہ کن نہیں ہو سکتا۔ ”گھونگھٹ کے پٹ کھول ….پائل باجی چھنن چھنن …. بابل نیر مورا چھوٹو جائے …. رتیاں کہاں گوائیں رے “ …. کوئی شرافت ہے ان بولوں میں …. اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اب ایسی خرافات موجود نہیں۔ الحمد للہ قوالی ہے۔ سنئے اور سر دھنیے۔ حال کھیلئے، ہُو حق کے نعرے لگائیے اور ثواب حاصل کیجئے۔

مصوری بھی کچھ کم لعنت نہیں تھی۔ تصویریں بنتی تھیں برہنہ نیم برہنہ۔ مصور اپنی پوری قوت تصور حسن کو تخلیق کرنے میں صرف کر دیتے تھے لیکن یہ کفر تھا۔ تخلیق صرف خدا کا کام ہے۔ اس کے بندوں کا نہیں اور پھر حسن کی تخلیق ، یہ تو گناہ کبیرہ تھا۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ہمارے درمیان آج ایک بھی مصور موجود نہیں۔ جو تھے ان کی انگلیاں قلم کر دی گئیں تاکہ وہ اپنی شیطانی حرکت سے باز رہیں۔ اب یہ عالم ہے کہ اس سرزمین پر آپ کو ایک سیدھی لکیر بھی کہیں دیکھنے میں نہیں ملے گی …. ایک آدمی بھی ایسا موجود نہیں جو غروب آفتاب کے حسین منظر کو دیکھ کر اٹھے اور اسے کاغذ یا کپڑے پر منتقل کرنے کا خیال اپنے دل و دماغ میں لائے۔ سچ پوچھئے تو اب وہ خوف ناک حس ہی مٹ چکی ہے جسے طلب حسن کہتے ہیں۔ تخلیق حسن کی بات تو الگ رہی۔

ننگی عورتوں کی تصویریں بنائی جاتی تھیں۔ ننگی عورتوں کے مجسمے تراشے جاتے تھے۔ اسی پر موقوف نہیں۔ ان کو بڑے پیار سے عجائب خانوں میں سجایا جاتا تھا۔ ان کے بنانے والوں کو انعام و اکرام دیے جاتے تھے …. جی ہاں ، انعام و اکرام۔ وظیفے دیے جاتے تھے۔ القاب عنایت کیے جاتے تھے کہ واہ مصور صاحب۔ آپ نے ننگی عورت کی تصویر کیا خوب کھینچی ہے …. یہ پستان …. لا حول ولا ، میں نے کس چیز کا نام لے لیا۔ معاف کیجئے میں ابھی حاضر ہوا …. ذرا کلی کر آﺅں ….

کلی کر آیا لیکن منہ کا ذائقہ ابھی تک خراب ہے۔ معاف کر دیجئے گا مجھے سہواً میرے منہ سے ایک غلیظ چیز کا نام نکل گیا۔ لیکن آپ تو اس کا مطلب نہیں سمجھے ہوں گے کیونکہ جتنے گندے اور خراب لفظ تھے سب کے سب لغات میں سے نکال دیے گئے ہیں۔

میں کیا عرض کر رہا تھا …. جی ہاں …. اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اب کوئی ایسا عجائب خانہ موجود نہیں جہاں ننگی تصویریں یا صرف تصویریں جنہیں آرٹ کا نمونہ کہا جاتا تھا ، دیکھنے میں آئیں، ایسے جتنے عجائب خانے تھے ان کو فوراً ہی ڈھا دیا گیا اور ملبہ دریاﺅں میں ڈال دیا گیا تا کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔

عریانی کی وبا صرف تصویروں اور مجسموں ہی تک محدود نہ تھی …. شعروں اور افسانوں میں بھی پھیلی ہوئی تھی۔ وہ غزل اور وہ افسانہ بہت کامیاب متصور کیا جاتا تھا جس میں عورت اور مرد کے جسمانی رشتے پر بحث کی گئی ہو۔ کس قدر مریضانہ ذہنیت کے تھے وہ لوگ …. روحانیت کے بارے میں کبھی کچھ سوچتے ہی نہیں تھے۔ زمین کی باتیں کرتے تھے۔ اوپر سات آسمان پڑے ہیں۔ اس کا علم ہی نہیں تھا ان کو …. جسم کی بھوک کا سوچتے تھے، روح کی بھوک کیا ہوتی ہے ان کے فلک کو بھی اس کا پتا نہیں تھا ….اللہ کا بڑا فضل ہے کہ جسم کی بھوک اب بالکل مٹ چکی ہے …. اور اللہ کا فضل شامل حال رہا تو صرف روح ہی روح رہ جائے گی اور ہم فانی انسانوں کا جسم سرے سے غائب ہی ہو جائے گا …. خس کم جہاں پاک!

کوئی زمانہ تھا کہ سینکڑوں پرچے ادب کے نام پر شائع ہوتے تھے۔ ان میں لوگوں کا اخلاق بگاڑنے والی ہزاروں تحریریں آئے دن چھپتی تھیں …. سمجھ میں نہیں آتا یہ ادب کیا بلا تھی۔ ادب آداب سکھانے کی کوئی چیز ہوتی تو ٹھیک تھا۔ جو کہانیاں ، افسانے، مضمون ، نظمیں ، غزلیں ادب کا نام لے کر چھاپی جاتی تھیں ان میں نہ تو چھوٹوں کو بڑوں کا لحاظ کرنے کی تعلیم دی جاتی تھی اور نہ مغرب زدہ لوگوں کو ڈھیلا لگانے کی ترکیب ہی بتائی جاتی تھی۔ یہ تو ایک بہت بڑا پاکیزہ فن ہے کہ آتے آتے ہی آتا ہے لیکن اتنا بھی نہ تھا کہ عوام کو داڑھی رکھنے اور لبیں کتروانے کی طرف مائل کیا جاتا۔

ادب ان نااہل ہاتھوں میں بس یہ رہ گیا تھا ….عورت اور مرد کے جنسی مسائل …. لاحول ولا قوة…. انسان کی نفسیات نعوذ باللہ ۔ یعنی ہم فانی انسانوں کی غیر فانی روح تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی۔ حسن و عشق کی داستانیں۔ خوبصورت مناظر کی تعریفیں، بڑے ہی خوش نما الفاظ میں …. کوئی شام اودھ کی مدح سرائی کر رہا ہے ، کوئی صبح بناس کی۔ قوس قزح کے رنگوں کو کاغذ پر اتارتا جا رہا ہے۔ پھولوں، بلبلوں ، کوئلوں اور چڑیوں پر ہزاروں صفحے کالے کیے جا رہے ہیں ، لیکن صاحبان سوال تو یہ ہے …. تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا۔

اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اب کوئی پھول رہا نہ بلبل …. پھولوں کا ناس مارا گیا ہے تو بلبلیں خود بخود دفعان ہو گئیں …. اسی طرح اور بہت سی واہیات چیزیں آہستہ آہستہ اس سرزمین سے جہاں ان کے سینگ سمائے، چلی گئی ہیں۔

میں ادب کے متعلق عرض کر رہا تھا۔ ہاں صاحب میں نے آپ کو بتایا ہی نہیں آخر میں ادب کی ایک بالکل ہی نئی تقسیم پیدا ہو گئی تھی ….اس وقت لوگ کہتے تھے یہ حقیقی ادب ہے۔ یعنی جو کچھ ہم دیکھتے ہیں بیان کر دیتے ہیں۔ غضب خدا کا …. خود غور فرمائیے اگر آپ کو اس وقت خدانخواستہ چھینک آجائے تو مجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ میں اس افسوس ناک واقعے کو قلم بند کروں اور پھر ادب کے نام سے اسے دوسروں کے سامنے پیش کروں۔ چھینک آنا تھی ، آگئی۔ اب اس حادثے کی تفصیلات میں جانے کی کیا ضرورت ہے …. اول تو یہ بات ہی سمجھ میں نہیں آسکتی کہ چھینک کے نفسیاتی پہلو کیا ہو سکتے ہیں؟ فرمائیے ہو سکتے ہیں ؟ ہر چیز اسی ذات پاک کی طرف سے آتی ہے اور اسی کی طرف واپس چلی جاتی ہے۔

اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اس نام نہاد ادب اور ان برخود غلط ادیبوں کا اب نام و نشان نہیں رہا۔ کوئی رسالہ چھپتا ہے نہ جریدہ، صحیفہ …. نعوذ باللہ …. اس زمانے میں لوگوں کو اتنی جرات تھی کہ اپنے ذلیل پرچوں کو صحیفے کہتے تھے اور خود کو صحافی کہتے تھے …. اب تو صاحب کوئی اخبار بھی نظر نہیں آتا۔ حاکم لوگ البتہ کبھی کبھار جب ضرورت پڑے تو ہماری معلومات کے لیے چند سطریں شائع کر دیتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر سلا۔

اب صرف ایک اخبار حکومت کی طرف سے چھپتا ہے اور آپ جانتے ہی ہیں سال میں ایک آدھ بار جبکہ اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ خبریں ہوتی ہی کہاں ہیں۔ اب کوئی ایسی بات ہونے ہی نہیں دی جاتی جو لوگ سنیں اور آپس میں چہ میگوئیاں کریں۔ وہ زمانہ تھا لوگ بے کار ہوٹلوں اور گھروں میں یہ لمبے لمبے اخبار لیے گھنٹوں بحث کر رہے ہیں۔ کون سی پارٹی برسراقتدار ہونی چاہیے۔ کس لیڈر کو ووٹ دینا چاہیے۔ شہر کی صفائی کا انتظام ٹھیک نہیں ۔ آرٹ سکول کھلنے چاہئیں۔ عورتوں کے مساوی حقوق کا مطالبہ درست ہے یا نادرست اور خدا معلوم کیا کیا خرافات۔

اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ہماری دنیا ایسے ہنگاموں سے پاک ہے۔ لوگ کھاتے ہیں، پیتے ہیں ۔ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ کسی کی برائی میں نہ کسی کی اچھائی میں۔

صاحبان !میں سائنس کا ذکر کرنا تو بھول ہی گیا ….یہ ادب کی بھی خالہ تھی۔ خدا محفوظ رکھے اس بلا سے۔ نعوذ باللہ۔ اس فانی دنیا کو جنت بنانے کی فکر میں تھے ۔ یہ لوگ جو خود کو سائنس دان کہتے تھے۔ ملعون کہیں کے۔ خدا کے مقابلے میں تخلیق کے دعوے باندھتے تھے۔ ہم مصنوعی سورج بنائیں گے جو رات کو تمام دنیا روشن کر دے گا۔ ہم جب چاہیں گے بادلوں سے بارش دوہ لیا کریں گے …. ذرا غور فرمائیے۔ نمرود کی خدائی تھی، جی اور کیا؟ سرطان جیسی لاعلاج اور مہلک بیماری کا علاج ڈھونڈا جا رہا ہے یعنی ملک الموت کے ساتھ پنجہ لڑانے کی سعی فرمائی جا رہی ہے۔ ایک صاحب ہیں وہ دوربین لیے بیٹھے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ چاند تک پہنچ جائیں گے۔ ایک سرپھرے بوتلوں اور مرتبانوں میں بچے پیدا کر رہے ہیں۔ خدا کا خوف ہی نہیں رہا پاجیوں کو …. اللہ کا بڑا فضل ہے کہ یہ سب شیطان ہمارے درمیان سے اٹھ گئے۔

اب چاروں طرف سکون ہے۔ کوئی ہنگامہ نہیں، کوئی واردات نہیں۔ کوئی شاعر نہیں، کوئی مصور نہیں۔ زندگی یوں گزر رہی ہے جیسے گزر ہی نہیں رہی۔ قلب کے لیے یہ کتنی اطمینان دہ چیز ہے۔ لوگ پیدا ہوتے ہیں مر جاتے ہیں۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ زندگی سے لے کر موت تک ایک بے آواز، صاف شفاف دھارا بہا چلا جا رہا ہے۔ کوئی بھنور ہے نہ بلبلہ، لوگ دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی ٹھنڈی ریت پر لمبی تانے سو رہے ہیں اور کیوں صاحبان!کیا جی نہیں چاہتا کہ اسی طرح سوئے رہیں حتیٰ کہ جنت میں دودھ کی نہروں کے کنارے ہماری آنکھیں کھلیں …. اوپر دیکھیں تو انگور کے خوشے جھک کر ہمارے منہ میں آجائیں اور ہم پھر سو جائیں۔

یہ …. یہ اخبار کہاں سے آیا ؟ …. اوہ ہم سو گئے تھے …. سرکاری ڈاکیا پھینک گیا ہو گا …. بڑی دیر کے بعد آیا ہے یہ پرچہ …. دیکھیں کیا لکھا ہے …. وہ زمانہ برا تھا صاحبان لیکن ایک بات تھی۔ سنا ہے کہ اخباروں کی لکھائی چھپائی بہت ہی خوبصورت ہوتی تھی …. لیکن خوبصورتی کا کیا ہے …. معاذ اللہ …. یہ کیا ؟

ٹھہریئے ٹھہریئے …. لیکن میری نظریں دھوکا تو نہیں دے رہیں ؟ جی نہیں صاف پڑھا جا رہا ہے …. حکومت شش و پنج میں …. مملکت میں ایک آدمی گرفتار کیا گیا …. گرفتار ؟ …. گرفتار کیا گیا ہے ؟ …. الزام یہ ہے کہ وہ گلی گلی اور کوچے کوچے یہ شور مچاتا پھرتا تھا کہ میں اس مملکت میں نہیں رہنا چاہتا جہاں خدا تو ہے پر شیطان نہیں ہے …. نعوذ باللہ …. نامہ نگار خصوصی کا بیان ہے کہ جب ملزم کو حکام بالا کے حضور پیش کیا گیا تو اس نے چلانا شروع کر دیا …. ”یہاں جلدی شیطان بلاﺅ ورنہ میں پاگل ہو جاﺅں گا “ …. نامہ نگار خصوصی یہ بھی بیان کرتا ہے کہ ملزم نے اپنی صفائی میں یہ انکشاف کیا کہ اس کے قبضے میں حضرت علامہ اقبال نور اللہ مرقدہ کا شعر موجود ہے۔ شعر فارسی زبان کا ہے جسے ہم یہاں در ج کرتے ہیں۔

مزی اندر جہان کور ذوقے

کہ یزداں دار دو شیطان ندارد

(میں ایسے کور ذوق جہاں میں نہیں جینا چاہتا جہاں خدا تو ہو مگر شیطان نہ ہو)

لیکن یہ شعر علامہ مرحوم کے مطبوعہ کلام میں کہیں بھی موجود نہیں۔ حالانکہ وہ حکومت کی نگرانی میں چھاپا جاتا رہا ہے …. بالکل درست ہے ….

ملزم صریحاً چال بازی کر رہا ہے …. آگے کیا لکھا ہے …. جی میں پڑھتا ہوں ….الزام کی نوعیت بہت سنگین ہے لیکن حکومت سخت شش و پنج میں ہے کہ ملزم پر مقدمہ کیسے چلائے کیونکہ کوئی عدالت ہی موجود نہیں۔ مقدمے کی سماعت ہو تو سزا ملنے کی صورت میں اسے کہاں رکھا جائے کیونکہ مملکت میں ایک بھی جیل موجود نہیں …. لیکن سنا ہے کہ حکومت فوراً ہی ایک حوالات ، ایک جیل اور ایک عدالت تعمیر کرا رہی ہے۔

اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان کہ حکومت نے معاملے کی اہمیت اور نزاکت کو سمجھ لیا ہے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 20
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں