منٹو نے فحاشی کے الزام پر اپنا دفاع کیسے کیا؟

منٹو کے چھے افسانوں، ”کالی شلوار“، ”دھواں“، ”بو“، ”ٹھنڈا گوشت“، ”کھول دو“، اور ”اوپر نیچے اور درمیان“ پر فحاشی کے الزام کے تحت فوجداری مقدمے چلائے گئے۔ ان میں سے ابتدائی تین کہانیوں پر مقدمات برطانوی دور حکومت میں قائم ہوئے اور بقیہ تین تحریروں پر مملکت پاکستان میں درج ہوئے۔ آج پاکستان میں منٹو کی شائع ہونے والی کتابوں میں یہ افسانے شائع کیے جا رہے ہیں۔ ان کے فحش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ وقت نے کیا

Read more

منٹو کا فحش افسانہ؟ ٹھنڈا گوشت

ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا۔ کلونت کور پلنگ پر سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کردی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔ کلونت کور پلنگ پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گئی۔ ایشرسنگھ جو غالباً اپنے پراگندہ خیالات کے الجھے ہوئے دھاگے کھول رہا، ہاتھ میں کرپان لیے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ چند لمحات اسی طرح خاموشی میں گزر گئے۔

کلونت کور کو تھوڑی دیر کے بعد اپنا آسن پسند نہ آیا، اور وہ دونوں ٹانگیں پلنگ سے نیچے لٹکا کر ہلانے لگی۔ ایشر سنگھ پھر بھی کچھ نہ بولا۔ کلونت کور بھرے بھرے ہاتھ پیروں والی عورت تھی۔ چوڑے چکلے کولہے، تھل تھل کرنے والے گوشت سے بھرپور کچھ بہت ہی زیادہ اوپر کو اٹھا ہواسینہ، تیز آنکھیں۔ بالائی ہونٹ پر بالوں کا سرمئی غبار، ٹھوڑی کی ساخت سے پتہ چلتا تھا کہ بڑے دھڑلے کی عورت ہے۔ ایشر سنگھ گوسرنیوڑھائے ایک کونے میں چپ چاپ کھڑا تھا۔

Read more

سیاہ حاشیے۔ فسادات پر منٹو کی مختصر کہانیاں

انتساب، اس آدمی کے نام
جس نے اپنی خونریزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
”جب میں نے ایک بڑھیا کو مارا تو مجھے ایسا لگا مجھ سے قتل ہوگیا ہے۔

الُہنا: ”دیکھو یار، تم نے بلیک مارکیٹ کے دام بھی لئے اور ایسا ردی پٹرول دیا کہ ایک دکان بھی نہ جلی۔ “

آرام کی ضرورت: ”مرا نہیں۔ ۔ ۔ دیکھو ابھی جان باقی ہے“۔ ”رہنے دو یار۔ ۔ ۔ میں تھک گیا ہوں۔ “

”پوں پوں۔ ۔ ۔ پوں پوں۔ “۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موٹر کے ہارن کی آواز کے ساتھ دو عورتوں کی چیخیں بھی تھیں۔
لوہے کا ایک سیف دس پندرہ آدمیوں نے کھینچ کر باہر نکالا اور لاٹھیوں کی مدد سے اس کو کھولنا شروع کیا۔

”گو اینڈ گیٹ۔ “ دودھ کے کئی ٹین دونوں ہاتھوں پر اٹھائے اپنی ٹھوڑی سے ان کو سہارا دیے ایک آدمی دکان سے باہر نکلا اور آہستہ آہستہ بازار میں چلنے لگا۔
بلند آواز آئی۔ ”آؤ آؤ لیمونیڈ کی بوتلیں پیو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گرمی کا موسم ہے۔ “ گلے میں موٹر کا ٹائر ڈالے ہوئے آدمی نے دو بوتلیں لیں اور شکریہ اداکیے بغیر چل دیا۔

Read more

میں نے منٹو سے کیا سیکھا؟

چیخوف کے بارے میں یہ بات اردو کے ایک رائٹر محمد مجیب نے کہی تھی کہ اس کا دل بہت بڑا تھا، وہ انسانیت کے تمام گناہوں کو معاف کرسکتا تھا۔ منٹو کے بارے میں بھی عین یہی بات کہی جا سکتی ہے۔ آپ کہیں گے کہ رائٹر گناہوں کو معاف کرنے کا ٹھیکیدار ہے کیا؟ میرے خیال میں منٹو سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے، بلکہ ہر اس بات کا ٹھیکہ لینے کی بھی، جس کے لیے یار

Read more

منٹو کا خود پر لکھا ہوا خاکہ

یہ مضمون منٹو صاحب نے انتقال سے تقریباً تین ماہ قبل ستمبر1954ء میں رسالہ نقوش کے لئے لکھا۔ مدیر نے ’طلوع‘ (رسالے کے پیش لفظ) میں اس تحریرکے لئے ’ایک نیا سلسلہ‘ کی سُرخی کے تحت یہ نوٹ لکھا:

’’ہمارا خیال ہے خود ادیبوں سے بھی اپنی ذات کے بارے میں لکھوانا چاہیے کہ وہ خود کو کس عینک سے دیکھتے ہیں۔ اس شمارہ میں منٹو نے اپنے بارے میں کچھ فرمایا ہے۔ ان کا قلم چونکہ بڑا بے باک ہے اس لئے وہی بے باکی انہوں نے اپنے بارے میں بھی اختیار کی ہے۔ ویسے یہ بڑی ہمت کی بات ہے کہ جس طرح ان کا قلم دوسروں کے لئے ’بے لگام‘ ہے، وہی قلم اپنے لئے بھی اتنا ہی بے رحم ہے‘‘۔ (محمد طفیل )

Read more

منٹو پڑھنا منع ہے

عدالت کھچا کھچ بھری ہوئی تھی کہ منصف کے سامنے ایک ایسے انسان کا مقدمہ پیش کیا جانے والا تھا جو کہ کئی دہائیاں قبل وفات پا چکا تھا۔ مقدمے کا لبِ لباب یہ تھا کہ سعادت حسن منٹو نامی ایک مصنف طبی موت پاجانے کے باوجود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا اور مسلسل معاشرے میں بگاڑ کا باعث بن رہا ہے۔
ہرکارے نے آواز دی۔
سعادت حسن منٹوحاضر ہو۔

دنیا نے دیکھا کہ سادہ سا لباس پہنے، خدائی عذاب میں مسلسل مبتلا رہنے کے سبب مدقوق الحال منٹو، اپنی لاش گھسیٹتا ہوا کٹہرے تک پہنچا۔ ایک نظر زمینی خدا پر ڈالی اور پھر مجمعے کی جانب دیکھنے لگا۔

Read more

ماتمی جلسہ۔۔۔ منٹو کی ایک کہانی جو پرانی نہیں ہو گی

 رات رات میں یہ خبر شہر کے اس کونے تک پھیل گئی کہ اتا ترک کمال مر گیا۔ ریڈیو کی تھرتھراتی زبان سے یہ سنسنی پھیلانے والی خبر ایرانی ہوٹلوں میں سٹے بازوں نے سنی جو چائے کی پیالیاں سامنے رکھے آنے والے نمبر کے بارے میں قیاس دوڑا رہے تھے۔ اور وہ سب کچھ بھول کر کمال اتا ترک کی بڑائی میں گم ہو گئے۔ ہوٹل میں سفید پتھر والے میز کے پاس بیٹھے ہوئے ایک سٹوری نے اپنے

Read more

منٹو کا فحش افسانہ؟ کالی شلوار – مکمل متن

دہلی آنے سے پہلے وہ ابنالہ چھاؤنی میں تھی جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی، ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ دہلی میں آئی اوراس کا کاروبار نہ چلا تو ایک روز اس نے اپنی پڑوسن طمنچہ جان سے کہا۔
”دِس لیف۔ ویری بیڈ۔ “

یعنی یہ زندگی بہت بُری ہے جبکہ کھانے ہی کو نہیں ملتا۔ ابنالہ چھاؤنی میں اس کا دھندا بہت اچھی طرح چلتا تھا۔ چھاؤنی کے گورے شراب پی کر اس کے پاس آجاتے تھے اور وہ تین چار گھنٹوں ہی میں آٹھ دس گوروں کو نمٹا کر بیس تیس روپے پیدا کر لیا کرتی تھی۔ یہ گورے، اس کے ہم وطنوں کے مقابلے میں بہت اچھے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایسی زبان بولتے تھے جس کا مطلب سلطانہ کی سمجھ میں نہیں آتا تھا مگر ان کی زبان سے یہ لاعلمی اس کے حق میں بہت اچھی ثابت ہوتی تھی۔ اگر وہ اس سے کچھ رعایت چاہتے تو وہ سر ہلا کرکہہ دیا کرتی تھی۔
”صاحب، ہماری سمجھ میں تمہاری بات نہیں آتا۔ “

اور اگر وہ اس سے ضرورت سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کرتے تو وہ ان کو اپنی زبان میں گالیاں دینا شروع کردیتی تھی۔ وہ حیرت میں اس کے منہ کی طرف دیکھتے تو وہ ان سے کہتی
”صاحب، تم ایک دم اُلو کا پٹھا ہے۔ حرامزادہ ہے۔ سمجھا۔ “

Read more

منٹو، فحش نگار اور چغد

منٹو فحش نگار ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں شاید ان کو معلوم نہیں ہے کہ عام آدمی اردو ادب میں پہلا نام ہی منٹو کا لیتا ہے۔

جو لوگ کتب بینی نہیں بھی کرتے وہ بھی منٹو اور عصمت چغتائی کا نام جانتے ہیں اور ان کی کتب ایسے گھروں میں دیکھی ہیں جہاں اور کوئی کتاب نہیں ہوتی لیکن منٹو اور عصمت چغتائی کی کتاب موجود ہوتی ہے اپنے ذاتی تلذذ کے لئے اور یہی وہ لوگ ہیں جو منٹو کے چند افسانے پڑھ کر منٹو کو فحش نگار قرار دیتے ہیں۔ منٹو ایک ادیب تھے جن کے قلم سے نکلے نشتر رہتی دنیا تک ایسے لوگوں کے دماغوں میں چبھتے رہیں گے جن کی سوچ جنس اور مذہب سے باہر نہیں نکلتی۔

Read more

منٹو کا فحش افسانہ؟ اوپر، نیچے اور درمیان

میاں صاحب: بہت دیر کے بعد آج مل بیٹھنے کا اتفاق ہوا ہے۔
بیگم صاحبہ: جی ہاں!

میاں صاحب: مصروفیتیں۔ بہت پیچھے ہٹتا ہوں مگر نا اہل لوگوں کا خیال کرکے قوم کی پیش کی ہوئی ذمہ داریاں سنبھالنی ہی پڑتی ہیں
بیگم صاحبہ: اصل میں آپ ایسے معاملوں میں بہت نرم دل واقع ہوئے ہیں، بالکل میری طرح

میاں صاحب: ہاں! مجھے آپ کی سوشل ایکٹی وٹیزکا علم ہوتا رہتا ہے۔ فرصت ملے تو کبھی اپنی وہ تقریریں بھجوا دیجئے گا جو پچھلے دنوں آپ نے مختلف موقعوں پر کی ہیں۔ میں فرصت کے اوقات میں ان کا مطالعہ کرنا چاہتا ہوں۔
بیگم صاحبہ: بہت بہتر

Read more

منٹو کا فحش افسانہ؟ دُھواں

وہ جب اسکول کی طرف روانہ ہوا تو اس نے راستے میں ایک قصائی دیکھا، جس کے سر پر ایک بہت بڑا ٹوکرا تھا۔ اس ٹوکرے میں دو تازہ ذبح کیے ہُوئے بکرے تھے کھالیں اُتری ہُوئی تھیں، اور ان کے ننگے گوشت میں سے دُھواں اٹھ رہا تھا۔ جگہ جگہ پر یہ گوشت جس کو دیکھ کر مسعود کے ٹھنڈے گالوں پر گرمی کی لہریں سی دوڑ جاتی تھیں۔ پھڑک رہا تھا جیسے کبھی کبھی اس کی آنکھ پھڑکا کرتی تھی۔ اس وقت سوا نو بجے ہوں گے مگر جھکے ہوئے خاکستری بادلوں کے باعث ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بہت سویرا ہے۔

سردی میں شدت نہیں تھی، لیکن راہ چلتے آدمیوں کے منہ سے گرم گرم سما وار کی ٹونٹیوں کی طرح گاڑھا سفید دُھواں نکل رہا تھا۔ ہر شے بوجھل دکھائی دیتی تھی جیسے بادلوں کے وزن کے نیچے دبی ہُوئی ہے۔ موسم کچھ ایسی ہی کیفیت کا حامل تھا۔ جو ربڑ کے جوتے پہن کر چلنے سے پیدا ہوتی ہو۔ اس کے باوجود کہ بازار میں لوگوں کی آمدورفت جاری تھی اور دکانوں میں زندگی کے آثار پیدا ہو چکے تھے آوازیں مدھم تھیں۔ جیسے سرگوشیاں ہورہی ہیں، چپکے چپکے، دھیرے دھیرے باتیں ہورہی ہیں، ہولے ہولے لوگ قدم اُٹھا رہے ہیں کہ زیادہ اونچی آواز پیدا نہ ہو۔

Read more

منٹو کا فحش افسانہ؟ کھول دو

امرتسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی اور آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی۔ راستے میں کئی آدمی مارے گئے۔ متعدد زخمی ہوئے اور کچھ اِدھر اُدھر بھٹک گئے۔ صبح دس بجے۔ کیمپ کی ٹھنڈی زمین پر جب سراج الدین نے آنکھیں کھولیں اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک متلاطم سمندر دیکھا تو اس کی سوچنے سمجھنے کی قوتیں اور بھی ضعیف ہو گئیں۔ وہ دیر تک گدلے آسمان کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔ یوں تو کیمپ میں ہر طرف شور برپا تھا۔ لیکن بوڑھے سراج الدین کے کان جیسے بند تھے۔ اسے کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔

کوئی اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ وہ کسی گہری فکر میں غرق ہے مگر ایسا نہیں تھا۔ اس کے ہوش و حواس شل تھے۔ اس کا سارا وجود خلا میں معلق تھا۔ گدلے آسمان کی طرف بغیر کسی ارادے کے دیکھتے دیکھتے سراج الدین کی نگاہیں سورج سے ٹکرائیں۔ تیز روشنی اس کے وجود کے رگ و ریشے میں اتر گئی اور وہ جاگ اٹھا۔ اوپر تلے اس کے دماغ پر کئی تصویریں دوڑ گئیں۔ لوٹ، آگ۔ بھاگم بھاگ۔ اسٹیشن۔ گولیاں۔ رات اور سکینہ۔ سراج الدین ایک دم اٹھ کھڑا ہوا اور پاگلوں کی طرح اس نے اپنے چاروں طرف پھیلے ہوئے انسانوں کے سمندر کو کھنگالنا شروع کیا۔ پورے تین گھنٹے وہ
”سکینہ سکینہ“

Read more

منٹو کا فحش افسانہ؟ بُو

برسات کے یہی دن تھے۔ کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے اسی طرح نہا رہے تھے۔ ساگوان کے اس اسپرنگ دار پلنگ پر جو اب کھڑکی کے پاس سے تھوڑا ادھر سرکا دیا گیا تھا ایک گھاٹن لونڈیا رندھیر کے ساتھ چپٹی ہُوئی تھی۔ کھڑکی کے پاس باہر پیپل کے نہائے ہُوئے پتے رات کے دودھیا اندھیرے میں جھومروں کی طرح تھرتھرا رہے تھے۔ اور شام کے وقت جب دن بھر ایک انگریزی اخبار کی ساری خبریں اور اشتہار پڑھنے کے بعد کچھ سُنانے کے لیے وہ بالکنی میں آکھڑا ہوا تھا تو اس نے اس گھاٹن لڑکی کو جو ساتھ والے رسیوں کے کارخانے میں کام کرتی تھی اور بارش سے بچنے کے لیے املی کے پیڑ کے نیچے کھڑی تھی، کھانس کھانس کر اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا اور اس کے بعد ہاتھ کے اشارے سے اوپر بُلا لیا تھا۔

وہ کئی دن سے شدید قسم کی تنہائی سے اُکتا گیا تھا۔ جنگ کے باعث بمبئی کی تقریباً تمام کرسچین چھوکریاں جو سستے داموں مل جایا کرتی تھیں عورتوں کی انگریزی فوج میں بھرتی ہو گئی تھیں، ان میں سے کئی ایک نے فورٹ کے علاقے میں ڈانس اسکول کھول لیے تھے جہاں صرف فوجی گوروں کو جانے کی اجازت تھی۔ رندھیر بہت اداس ہو گیا تھا۔ اس کی انا کا سب تو یہ تھا کہ کرسچین چھوکریاں نایاب ہو گئی تھیں اور دوسرا یہ کہ فوجی گوروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہذب، تعلیم یافتہ اور خوبصورت نوجوان اس پر فورٹ کے لگ بھگ تمام کلبوں کے دروازے بند کردیے تھے۔

Read more

اللہ کا بڑا فضل ہے

اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان …. ایک وہ زمانہ جہالت تھا کہ جگہ جگہ کچہریاں تھیں۔ ہائی کورٹیں تھیں۔ تھانے تھے ، چوکیاں تھیں، جیل خانے تھے، قیدیوں سے بھرے ہوئے۔ کلب تھے جن میں جوا چلتا تھا۔ شراب اڑتی تھی۔ ناچ گھر تھے ، سینما تھے ، آرٹ گیلریاں تھیں اور کیا کیا خرافات نہ تھیں …. اب تو اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان۔ کوئی شاعر دیکھنے میں آتا ہے نہ موسیقار …. لاحول ولا۔ یہ موسیقی

Read more

صرف 42 برس اور سات مہینے

انیس سو بارہ سے انیس سو پچپن کا زمانہ، مجھے بہت پسند ہے۔ اس زمانے میں ایک ایسا انسان ہندوستان کی سر زمین پر تھا، جس نے سوچ اور فکر کا نیا اور انوکھا انداز متعارف کرایا۔ اس انسان کے بارے میں سمجھ نہیں آتا کہ کیسے اور کس طرح بات کی جائے۔ کیسے اس انسان کی کہانی بیان کی جائے۔ کہاں سے اس کے بارے میں بات کی جائے۔ اس لیے کبھی موقع ملے تو انیس سو بارہ سے

Read more

منٹو کی اداکاری، فلائٹ لیفٹینٹ کرپارام اور ایٹم بم کی دھمکی

سعادت حسن منٹو نے فلموں کا اسکرپٹ لکھا۔ مکالمے سپرد قلم کئے۔ فلمی پرچوں سے جڑے رہے۔ نامورفلمی ستاروں سے دوستانہ رہا۔ پری چہرہ نسیم، نرگس، شیام، اشوک کمار، کے کے(کلونت کور)، نورجہاں، ستارہ، پراسرارنینا اور پارو دیوی کے زبردست خاکے لکھے، جو ” گنجے فرشتے “اور” لاﺅڈ اسپیکر“ میں شامل ہیں۔ قلم کار کی حیثیت سے فلمی دنیا سے منٹوکے تعلق پر کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ منٹو کا ایک فلم کی حد تک ہی سہی، اداکاری سے بھی

Read more

منٹو اور شلوار

حالانکہ میرے معزز جج ساتھیوں نے تمہیں کالی شلوار کے مقدمے میں بری کردیا لیکن ایک سوال جو مقدمے کے دوران تم سے پوچھنا چاہیئے تھا وہ یہ تھا کہ منٹو میاں آپ بار بار شلوار میں کیوں گھستے ہیں۔ کالی شلوار کی مرکزی کردار سلطانہ اداس ہے۔ شاید اِس لیئے اُداس ہے کہ بڑے شہر میں تنہا ہے۔ اپنا جسم بیچ کر زندہ ہے۔ بس اُسے ایک دھن ہے کہ کسی طرح ایک کالی شلوار مل جائے تو عزت

Read more