پختونخواہ کی سیاسی تاریخ اور دو ہزار اٹھارہ کا انتخابی عجوبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر ہم دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف کی غیر متوقع اور چونکا دینے والی کامیابی کو عمران خان کی شخصی مقبولیت کے ساتھ جوڑ دیں تو پھر اس سوال کا جواب کہاں تلاش کیا جائے کہ اُنیس سو ستّر میں تو ذوالفقار علی بھٹو عمران خان سے بھی زیادہ مقبول تھے بلکہ عمران خان کے بر عکس بھٹو کی سیاسی بلوغت اور ذہانت بھی بد درجہ اتم زیادہ تھی لیکن خیبر پختون خواہ میں انیس سو ستر کے الیکشن کے نتائج کیا رہے؟

چالیس ممبران پر مشتمل صوبائی اسمبلی میں نیپ (اے این پی) تیرہ سیٹیں لے کر سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری تھی۔

مسلم لیگ کے پاس بھی تیرہ سیٹیں تھیں لیکن یہ جماعت تین دھڑوں (قیوم مسلم لیگ، کنونشن مسلم لیگ اور کونسل مسلم لیگ ) میں بٹی ہوئی تھی تاہم قیوم لیگ نے اکیلے دس سیٹیں جیتیں جبکہ جمیعت العلماء اسلام نے بھی چار سیٹیں جیتیں۔

گویا خیبر پختونخواہ (تب صوبہ سرحد ) کی مضبوط سیاسی جماعتوں اور اس کی بالغ نظر قیادتوں نے بھٹو کی سیاسی طاقت اور مبالغہ آمیز مقبولیت کو اٹک سے آگے بڑھنے ہی نہیں دیا اور یوں پورے صوبے سے پیپلز پارٹی کو صرف تین سیٹیں ہی ملیں۔

اس لئے پختونخواہ کی سیاسی تاریخ اور اجتماعی نفسیات کا گہرا مشاہدہ رکھنے والے تجزیہ نگاروں کے لئے ناممکن حد تک مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ دو ہزار اٹھارہ میں خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی مبالغہ آمیز لیکن حد درجہ حیرت انگیز کامیابی کو محض عمران خان اور ان کی جماعت کی مقبولیت ہی سے جوڑ دیں، خصوصًا اُس صورت میں جب تحریک انصاف اس صوبے میں شدید ناکامیوں سے دوچار اور کارکردگی سے محروم اپنی پانچ سالہ حکومت کا لاشہ کندھوں پر اُٹھائے الیکشن کے میدان میں اُتری تھی لیکن ان سوالات سے الگ جب ہم سیاسی تاریخ کے تناظر میں معروضی حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو انتخابی میدان میں روایتی سیاسی جماعتوں کو مکمل طور پر اکھاڑنا نا ممکنات ہی میں سے ہے کیونکہ خیبر پختونخواہ بنیادی طور پر چار بڑے ووٹ پاکٹس (انتخابی غلبے ) میں منقسم ہے جس میں مرکزی منطقہ یعنی سنٹرل ووٹ پاکٹ جس میں پشاور کے علاوہ نوشہرہ، صوابی، مردان، چارسدہ اور سوات کے زیریں اضلاع شامل ہیں۔

اس منطقے میں عمومی طور پر اے این پی کا طاقتور ووٹ بینک اور سخت جان کارکن انتخابی پلڑا اکثر وبیشتر اپنی پارٹی کے حق میں ہی کرتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اے این پی کا انتخابی ریکارڈ اس پاکٹ میں قابل اطمینان حد تک بہتر رہا ہے تاہم مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور جمیعت العلماء اسلام بھی روایتی طور پر یہاں مؤثر ووٹ بینک کی حامل جماعتیں رہی ہیں۔

نارتھ پاکٹ جس میں چترال اور اپردیر کے ساتھ لوئر دیر بھی شامل ہے یہاں جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ اے این پی اور جے یو آئی کا مؤثر ووٹ بینک بھی موجود ہے لیکن دوہزار اٹھارہ کے الیکشن نے اس ووٹ بینک کو بھی عنقا کردیا تھا۔

ہزارہ پاکٹ بنیادی طور پر قیام پاکستان بلکہ اس سے بھی پہلے کا مسلم لیگ کا گڑھ چلا آ رہا ہے ماضی قریب میں یہاں مسلم لیگ کے ٹکٹ کا حصول انتخابی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا لیکن ایک پراسرار حالات اس دیوھیکل ووٹ بینک کے ایک بڑے حصے کو ہڑپ کر چکے تھے حالانکہ ماضی قریب میں ہزارہ صوبہ تحریک کے ذریعے اس ووٹ بینک کو توڑنے کی مو ثر کوششیں بھی ہوئیں لیکن یہاں کا مسلم لیگی ووٹر توقع سے کہیں زیادہ سخت جان نکلا تھا۔

ساؤتھ پاکٹ میں روایتی طور پر جمیعت العلماء اسلام کا بھاری بھر کم ووٹ اور مدارس کی کثیر تعداد انتخابات میں عمومًا جے یو آئی کا پلڑا بھاری کرتا رہا، اس بیلٹ میں جنوبی اضلاع کوھاٹ، کرک، لکی مروت، بنوں، ڈی آئی خان، ٹانک اور ہنگو شامل ہیں (فاٹا انضمام کے بعد، شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ساتھ ساتھ کرم اور اورکزئی کے اضلاع بھی اس پاکٹ میں شامل ہیں )

چونکہ ڈیرہ اسماعیل خان مفتی محمود مرحوم اور مولانا فضل الرحمٰن کا آبائی علاقہ بھی ہے اس لئے ڈی آئی خان اور ملحقہ اضلاع مثلاً ٹانک لکی مروت اور بنوں میں جے یو آئی کا اثر ورسوخ بہت توانا ہے تاہم ان اضلاع میں پیپلز پارٹی اے این پی اور مسلم لیگ بھی مختلف حلقوں میں مؤثر ووٹ بینک کی حامل جماعتیں ہیں حتٰی کہ مسلم لیگ کے عمر فاروق میانخیل اور پیپلز پارٹی کے فیصل کریم کنڈی مولانا فضل الرحمٰن کو ان کے آبائی سیٹ پر بھی شکست دے چکے تھے۔

اس طویل تمہید اور حوالوں کا مقصد ہی یہی ہے کہ جب ان پرانی اور تجربہ کار سیاسی جماعتوں کے پاس طاقتور ووٹ بینک اور زیر قابو ووٹ پاکٹس اور حلقے موجود تھے تو صوبے میں ناکام حکومت اور عمران خان کی گہنائی ہوئی مقبولیت نے کیوں اور کیسے پچھلے انتخابات میں انہیں اکھاڑ کر رکھ دیا حالانکہ بھٹو بغیر کسی ناکامی کے داغ اور اپنی دیو ہیکل مقبولیت اور کرشماتی شخصیت کے باوجود بھی ایسا کرنے میں ناکام ہوا تھا۔

اور ہاں خیبر پختونخواہ میں ان پرانی سیاسی جماعتوں کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جب جنرل ضیاء نے اُنیس سو پچاسی میں غیر جماعتی انتخابات کرائے اور ان جماعتوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا اور پولنگ سٹیشن ویران پڑے رہے تو قومی اسمبلی میں پہنچنے والے زیادہ تر کامیاب امیدوار کے حاصل کردہ ووٹ چھ ہزار سے دس ہزار تک ہی تھے

ان پہاڑ جیسے حقائق اور تاریخ کے باوجود بھی دو ہزار اٹھارہ کے عجیب و غریب انتخابات اور اس کے نتائج ایک ایسے انتخابی عجوبے کو جنم دے گئے جس کے سامنے پختون خطے کی سیاسی تاریخ ہمیشہ انگشت بدنداں ہی کھڑی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *