ہجرتی! گھر چھوڑنے کے بھی کوئی آداب ہوتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری سالگرہ کے موقع پر میری روس نژاد اہلیہ نے ایک روسی شاعر کی یہ نظم مجھے ارسال کی ۔ ہم دونوں میں کوئی سال بھر پہلے علیحدگی ہوئی ہے۔ نظم کا ترجمہ آپ سب کے لیے ” ہم سب ” میں پیش کر رہا ہوں – مجاہد مرزا

٭٭٭   ٭٭٭

کبھی، کسی وجہ سے کسی بات کا دکھ نہ کرو
پانی بہتا ہے
اگر ایسا ہے کہ کچھ ہو چکا ہے
تو بدلے گا نہیں
ماضی کے ورق پہ، تلملانے کا فائدہ؟
چناچہ ماضی سے بندھا دھاگہ توڑ دو

جو ہو چکا
اس پہ کبھی پشیمان مت ہو
یا اس بارے میں
جو ابھی ہوا ہی نہیں، نہ ہوگا شاید
کہیں تمہاری روح کی جھیل
گدلی نہ پڑ جائے
ہاں امید، پرندوں کی طرح
روح میں گھل کے معدوم ہو چکی

اپنے رحم اور مقدر کا دکھ مت کرو
چاہے سارے ہی
اس کی جواز دہی میں
جت کیوں نہ جائیں
کوئی عبقری ہو کے ناخوش
تو کوئی سربراہ بن کے آزردہ
دکھ مت کر، کہ ان میں سے ایک
تم کیوں نہ ہوئے

کبھی کسی بات کا غم مت کر
کہ دیر بعد شروع کیا
یا وقت سے پہلے چلے گئے
کوئی شاید بنسری بہت اچھی بجاتا ہو
بجاتا رہے
لیکن لے تو اس نے
تمہاری ہی روح سے کشید کی نا

کسی بھی بات پر کبھی نہیں، کبھی نہیں
آزردہ ہونا
کھوئے گئے دنوں کے بارے میں
یا بھسم ہو چکی محبت سے متعلق
سازندہ مدھر بانسری بجاتا رہے
مگر اس سے بہتر
سننے والے تو تم ہی ہو نا

شاعر: آندرے دیمنتی ایو

ترجمہ: ڈاکٹر مجاہد مرزا

بشکریہ: نینا انتونوونا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *