میرا کپتان، قبر میں سکون اور بڑھیا کا طوطا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل سے بکاؤ میڈیا میرے کپتان کی تقریر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ شغل لگا رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میرے کپتان نے ملکی ترقی اور معاشی بحالی کو کوئی نایاب اور یونیک قسم کا آئیڈیا دیا ہو گا، مگر یہ پیلے سکولوں کے پڑھے پٹواری اس کی فہم و فراست کو کہاں پہنچ سکتے ہیں؟ تو لگ گئے مذاق اڑانے۔

میں تو اِس ملک کے باسیوں کی قوت برداشت، سینس آف ہیومر اور ڈھیٹ پن پر حیران ہوں۔ دال چنا کے نرخ میں اِسی ہفتے چونتیس روپے فی کلو کا اضافہ ہوا ہے۔ سونا بانوے ہزار روپے تولا ہے۔ غریب اور مڈل کلاس اپنی بچیوں کو ایک تولا سونا نہیں دے سکتا۔ پہلے مڈل کلاس خاندان پانی بھر کر آدھا کلو دال پکا لیتا تھا اب یہ بھی نا ممکن ہوچکا۔ ٹماٹر کی چٹنی کھانے پر لوگ طعنے دیا کرتے تھے اب شاید امرا ہی کھا پاتے ہوں گے۔ مگر پاکستانیوں کی شوخیاں ہیں کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہیں۔

مجھے یقین ہے کہ میرے کپتان نے روحونیت پر بات کرتے ہوئے کہا ہوگا کہ انسان کو سکون تو صرف قبر میں ہی مل سکتا ہے۔ اب یہ بات اِن جاہلوں کے دماغوں میں کیسے سمائے جو روحونیت کو روحانیت کہتے ہیں۔

صبح سے دیکھ رہا ہوں کہ لوگ پوسٹس لگا رہے ہیں کہ ”اللہ پاک میرے کپتان کو بھی سکون عطا فرمائے۔ “ اور چند لونڈے لپاڑے ”آمین آمین“ لکھے جا رہے ہیں۔

معاملہ بہت نازک ہے۔ میرے کپتان کی عزت کا مسئلہ ہے تو میں ایسے نوٹنکی چھوکروں کو جواب دینا اپنا اہم ترین فریضہ سمجھتا ہوں جیسے میرے کپتان نے ملکی ترقی، روزگار اور گھروں کے بجائے لنگر اور پناہ گاہیں متعارف کروانا اپنا قومی فریضہ سمجھا تھا۔

غصہ تو مجھے بہت ہے مگر ہوں تو میں بھی پاکستانی گو کہ الیکشن سے قبل عمران کی مخالفت کی وجہ سے لوگ پاکستانی نہیں مانتے تھے مگر جب سے حمایت شروع کی ہے اب پکا پاکستانی مانا جاتا ہوں، تو مجھے بھی اس ساری سیچیوشن کو دیکھتے ہوئے ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے آپ دوستوں کے گوش گزار کرتا ہوں۔ اب گوش کو گوشت نہ پڑھ لینا۔ بھوکوں ننگے پٹواریو۔

کہتے ہیں کہ ایک بوڑھی خاتون نے ایک طوطا پال رکھا تھا جو سارا سارا دن کہتا رہتا۔ ”اللہ کرے بڈھی مر جائے، اللہ کرے بڈھی مر جائے“

ایک روز اُس خاتون نے اپنی ہمسائی سے اِس مسلے کا حل ہوچھا تو اُس نے بتایا کہ آپ کا طوطا ہے بہت نیک، بس ذرا خراب ہو گیا ہے جیسے نعیم الحق اور گنڈاپور کے ساتھ رہ رہ کر میرا کپتان ہو گیا ہے۔ بس تم ایسا کرو میرا طوطا اپنے گھر لے جاؤ کیونکہ وہ بہت نیک ہے اور ہر وقت اسلامی باتیں کرتا ہے گو کہ اعمال اُس کے بھی عامر لیاقت جیسے ہی ہیں۔

وہ خاتوں اپنی ہمسائی کا طوطا لے آئی اور دونوں طوطوں کے پنچرے آمنے سامنے ایسے رکھ دیے جیسے تیں سو ڈیمز کے سامنے ایک ارب درخت لگے ہوئے ہوں۔

خاتون کا طوطا ایک دو دن خاموش رہا، لگتا کوئی بڑا صدمہ پہنچا ہے، بالکل ایسے جیسے میرے کپتان نے نواز شریف کے باہر جانے کے بعد چھٹی لی تھی اور خاموش ہو گیا تھا۔

اس دوران ہمسائی کا طوطا چند وزیروں کی طرح اسلامی الفاظ پکارتا اور طوطے کو دعوت گناہ دیتا رہا۔ جیسے۔ چلیں رہنے دیں۔ مجھے یقین ہے آپ یہ بنا کسی وزیر کا نام لیے ہی سمجھ جائیں گے۔

اپنے طوطے کو خاموش دیکھ کر وہ خاتون بہت پریشان تھی ایک دو بار اس نے پنچرے کے پاس سے گزرتے ہوئے طوطے کو شیریں مزاری کی طرح کچھ اشارہ بھی کیا، مگر طوطا ایسے خاموش رہا جیسے پرویز خٹک ملکی معاملات پر خاموش رہتا ہے۔

دو دن بعد ہمسائی کے طوطے کی ادائیں دیکھ کر اُس خاتون کا طاطا آخر ایسے بولا جیسے شیر یار آفریدی رانا ثنا اللہ کی ضمانت ہونے کے بعد پارلیمانی اجلاس میں اے این ایف کے خلاف بولا تھا۔

دراصل طوطے سے اپنی مالکہ خاتون کی پریشانی دیکھی نہیں جا رہی تھی کیونکہ اُس نے بھی جان اللہ کو دینی تھی۔

بس پھر جیسے ہی اس نے خاتون کو آتے دیکھا تو چیخ کر بولا۔

” اللہ کرے بڈھی مر جائے۔ “

ہمسائی کے طوطے نے فورا ٹوپی سر پر رکھی، پنچہ اٹھایا اور بولا۔ آمین ”

اب آپ بتائیں میرے دانشور دوستوں کو کیا یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اِن طوطوں کی طرح بددعائیں دیں اور دیگر چمچے ”آمین آمین“ کہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “میرا کپتان، قبر میں سکون اور بڑھیا کا طوطا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *