نقیب اللہ محسود کا تیسرا خط بنام عزیزاں ِ وطن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

از محلہ جنۃ النعیم،

میرے عزیز ہم وطنو!

تسلیمات اور بہت ساری دعائیں : جنوری کامہینہ ہے اور یقین جانیے اس یخ بستہ مہینے میں آپ مجھے بہت یاد آتے ہو۔ خصوصاً وہ لوگ تواس ابدی مسافر کے حافظے سے محو ہونے کانام نہیں لیتے جنہوں نے دوسال پہلے نہ صرف میرے بے جاں جسد کو محمدخان محسود، عاطف اللہ، علینابی بی اورنائلہ بی بی کے حوالے کیاتھابلکہ میرا نام دہشتگردی کے بلیک لسٹ سے بھی نکال باہر کیاتھا۔ میں ان لوگوں کا یہ احسان بھی فراموش نہیں سکتاجن ہی کی احتجاجی آوازوں کے طفیل میرے اورسینکڑوں دیگرنقیبوں کا سفاک قاتل کو اگرچہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں دھکیلاتاہم اتنا ضرور ہواتھا کہ اب بھرے بازار میں مکے لہراسکتاہے اور نہ ہی کسی کو اپنا چہرہ دکھانے کا قابل رہ گیاہے۔

عزیزو! ایک بار پھر میری طرف سے دعا اور سلام قبول کیجیے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہاں آئے مجھے وہ سبھی نعمتیں مل گئیں ہیں جوحسب وعدہ ایک شہید کوملتی ہیں۔ یہاں کاآب وہوا سال بھر معتدل اور دل کو بھانے والا رہتاہے۔ سلسبیل اور کوثر کی سیر کرنا تومیں نے صبح وشام کامعمول بنایاہواہے۔ شراب طہوراورمختلف انواع والوان کے الَذمیوہ جات کے باغات کے بارے میں تمہیں بتانا میں مناسب نہیں سمجھتاکیونکہ ایک تو آپ کوشاید یقین نہ آئے دوسرا یہ کہ یقین اگرآبھی جائے لیکن آپ کا بھائی آپ کے منہ میں مفت کاپانی بھر آنے کی اذیت دینانہیں چاہتا۔ بہر صورت میں تم سے کس کس نعمت اور کون سی خوشی کے اوصاف کے بارے میں بتادوں کیونکہ ان سب کی لذت کے بارے میں الَذ اورکثرت کے بارے میں لامتناہی جیسے الفاظ کا استعمال بھی مجھے حقیرلگتے ہیں۔

عزیزاں ِ مَن! یہاں آئے جو چیز میرے لئے پیہم سوہانِ روح بنی ہوئی تھی وہ میرا بوڑھے باپ محمد خان محسود کی در در کی ٹھوکریں اور پریشانی تھی۔ آپ کو بخوبی علم ہے کہ انصاف بانٹنے کا ایسادروازہ نہیں رہ گیاہوگا جس پراس بے بس محسودنے دستک نہیں دی ہو؟ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ اس بوڑھے نے انصاف کے حصول کی خاطر گاہے گاہے سمجھوتے بھی کیے اور آٹھ آٹھ آنسو بھی بہائے۔ حالانکہ ایک پشتون اور پھر ٹھیٹھ قبائلی پشتون کے لئے رونا اور سمجھوتہ کرنا ایک ناقابل برداشت رسک ہوتاہے۔ اس بارے میں کوئٹہ کے ایک درویش شاعر نے کیاخوب کہاہے،

زما پشتون غرور بہ نور سومرہ پہ خاورو لڑے

ستا پہ یاری کے تر ژڑا پورے را ورسیدم

” میرے پشتون غرور کو اورکتنا خاک میں ملاوگے؟ تیرے عشق میں اب تومیں رونے کے مقام تک بھی آگیاہوں“۔

میرابوڑھاوالدمیرے لئے انصاف مانگتے مانگتے تھک گئے تھے اوراتنے تھک گئے کہ کمزورسمجھ کر ایک جان لیوا بیماری بھی اُن پرحملہ آور ہوا۔ علالت کے باوجود اس بوڑھے نے اپنے بے گناہ بیٹے کے قاتلوں کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ علاج کے لئے شاید انہوں شہر اقتدار کے ایک اسپتال کا انتخاب بھی اس لئے کیاتھاکہ ”جائے انصاف“ میں پیشی کے لئے بروقت پہنچنے میں کہیں دیر نہ ہوجائے۔ دارِنصاف میں جب بھی وہ پیش ہوتے تووہیل چیئر کا استعمال کرتے۔

جب امیدکی سبھی چراغیں ان کو گلتے ہوئے محسوس ہوا۔ جب انہوں نے موت کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا توایک دن وہیل چیئر پر بیٹھے انہوں نے شدید مایوسی کے عالم میں کہاتھاکہ ”اتنا ظلم تو ابرہہ اور یزید نے بھی نہیں کیا تھا جتنا ظلم راؤ انوار نے میرے بیٹے کے اوپر کیاہے۔ میں روز عدالتوں کے چکر لگاتارہاہوں، مجھے بڑے با اثر لوگوں نے انصاف فراہم کرنے کی یقین دلائی ہے لیکن ابھی تک کچھ پیش رفت نہیں ہوئی ہے“۔ دوبرس گزرنے کے بعدبھی جب منصف ِ وقت میرے والد کو انصاف دلانے میں وفا نہیں کیا، تو موت نے وفاکرتے ہوئے انہیں گلے لگا اور اسے اپنی آغوش میں ابدی نیند سلادیا۔

میرے عزیزہم وطنو! آپ یقین کرلیں، بخدا یقین کرلیں، الحمدللہ اب میری روح میں چبھنے والا وہی کانٹا اب نہیں رہا، کیونکہ میرابابا اب عدالتوں کے مفت چکر لگانے اور دروازوں پر دستکیں دینے سے جاں چھڑالی ہے۔ وہ اب اُس سرزمیں سے ہجرت کرگئے ہیں جہاں انصاف مانگنا جرم سمجھاجاتاہے۔ یہاں پہنچ کر میرا بابا اب سارے غموں سے آزاد ہوچکاہے اورمیرے پہلو میں آباد ہیں۔ یہاں ان کی نئی زندگی کو ڈیڑھ مہینہ بیت گیاہے لیکن میں نے کبھی ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھے ہیں اور نہ ہی اسے کبھی خاطر کبیدہ پایاہے۔

دسمبر کی ابتدائی دنوں میں ان سے میری بہت طویل نشستیں ہوئیں اورہم نے ایک دوسرے کی محبت کلیجہ خوب ٹھنڈاکیا۔ جو نعمتیں مجھے ملی ہیں انیسی نعمتوں ہی سے ابا جان کی بھی خاطر تواضع کی جاتی ہے، کیونکہ ایک تو وہ خود بڑانیک اور خدا ترس بندہ تھا، اس پرمستزاد یہ کہ وہ ایک شہید کا باپ ہے۔ البتہ اپنے پیارے نواسے عاطف اللہ اور نواسیوں علینا اور نائلہ بی بی کے مستقبل کی فکرانہیں ضرور دامنگیر ہے، با الخصوص عاطف اللہ کی۔

انہیں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں یہ پھول بھی ایک دن اسی خزاں کی باقیات اپنے پاوں تلے روند نہ ڈالے جس نے تیرے لمبی زلفوں، خشخشی داڑھی اور سرخ و سفید گالوں کو ایک جعلی پولیس مقابلے میں خون میں نہلادیاتھا۔ تاہم میں انہیں بار بار تسلی دیتا ہوں کہ اباجاں! خاطر جمع رکھیے، میرایقین ہے کہ عاطف کو اللہ تعالی اپنے حفظ و امان میں رکھے گا۔ میرایقین ہے کہ باطل مٹنے والا ہے اور زیادہ دیر زندہ نہیں رہے گا (اِن الباطل َ کانَ زَہوقاً) ۔ میں انہیں یقین دلاتاہوں کہ اب جابجاحق کی آوازیں اب بلندہورہی ہیں اور باطل کابول بالاختم ہونیوالاہے۔ خدا کے ہاں دیرہے لیکن اندھیرہرگز نہیں ہے۔

والسلام، تمہارا شہید بھائی : نقیب اللہ محسود

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *