شوکت صدیقی کے ناول اوور ریٹڈ ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معلوم نہیں ہمارے وطن میں اوور ریٹڈ چیزیں اس قدر کیوں ہیں؟ بچپن میں سنتا اور پڑھتا تھا کہ اسلام آباد دنیا کا حسین ترین شہر ہے، اگر اس کی کوئی مثال ہے تو واشنگٹن ڈی سی۔ مگر اسلام آباد استنبول، ماسکو، بیجنگ بلکہ کولمبو کے موازنے میں بھی کیا ہے؟ بلکہ ہمارے ہی لاہور یا ملتان کی حسین ثقافت اور سماجی رنگا رنگی سے بھرپور گلیوں محلوں کے آگے اسلام آباد کے پوش مردہ ماحول میں ہے کیا؟ پھر اسی طرح اوور ریٹڈ چیزوں اور افراد کی ایک طویل فہرست ہے جیسے نتھیا گلی کی کٹی لال مرچ والا چرغا، ڈاک خانے (کراچی) کی مچھلی، لاہور کے گول گپے اور جامعہ کراچی کی پریم گلی۔

پریم گلی سے یاد آیا کہ جب ہمارا جامعہ کراچی میں 2003 ء میں داخلہ ہوا تو ہم بھی پہلے دن ہی نہ جانے کیا کیا دیکھنے کی آس لگائے اس دھول مٹی اور بوگن ویلیا اور چند ستونوں والی جگہ پہنچے۔ یہاں کتے لوٹ رہے تھے اور طلبہ و طالبات کا مجمع زمین پر ادھر ادھر بیٹھا چاٹ کھا رہا تھا۔ دھت تیرے کی!

انسان جب کسی معاملے میں Great Expectations لگا لیتا ہے تو اکثر مایوس ہوتا ہے۔ شوکت صدیقی کے حوالے سے بھی یہی تاثر میرے دماغ میں تھا کہ وہ کم از کم پاکستان کی فیودور دوستوئفسکی ضرور ہیں۔ میں شروع سے لوگوں سے سنتا تھا کہ محترم نے کچھ ”بہت شاندار“ ناول لکھے تھے کہ جن پر PTV نے دو ڈرامے بنائے۔ ایک ”خدا کی بستی“ اور دوسرا ”جانگلوس“ اور یہ بڑے ”اعلیٰ ڈرامے“ تھے وغیرہ وغیر۔ پھر سنا کہ شوکت صدیقی صاحب کے شاہکار ”سب رنگ“ میں چھپا کرتے تھے جو محض اعلیٰ ادب ہی چھاپتا تھا۔

خیر وہ یوٹیوب کا دور تھا نہ ریختہ ویب سائٹ کا کہ جو ڈرامہ دل میں آیا سرچ کر کے دیکھ لیا اور جو مشہور غزل یا کتاب پڑھنے کا دل چاہا ریختہ پر پڑھ لی۔ 2003 ء یا 2004 ء میں جیو ٹی وی نے ”خدا کی بستی“ دوبارہ بنایا اور نشر کیا۔ میں وہ نہ دیکھ سکا کیونکہ ہمارے گھر میں کیبل نہ تھا مگر تب پی ٹی وی نے (جس میں تب تک تھوڑی سی مقابلے کی روح باقی تھی) اسی وقت (کہ جب جیو سے ”خدا کی بستی“ نشر آتا) اپنا بلیک اینڈ وائٹ ”خدا کی بستی“ نشر کرنا شروع کر دیا۔ میں نے وہ ڈرامہ بڑی دل جمعی سے دیکھا۔ اس کہانی کو اگر ایک مختصر ترین جملے میں بیان کیا جائے تو یہ ایک صریح ”Artistic failure“ کے سوا کچھ بھی نہیں۔

میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ اس ڈرامے میں پاکستان دکھایا ہی نہیں جا رہا، وہ تو 1912 ء سے قبل کا روس ہے اور روس بھی وہ جو میکسم گورکی نے دکھایا ہے۔ سب سے افسوس ناک بات یہ کہ یہ کہانی ادبی سرقے کا ایک مثالی نمونہ ہے۔ ظہور احمد کے قتل کا پورا سیکوئنس دوستوئفسکی کی ”برادرز کرامازوف“ سے چوری کیا گیا ہے۔ اصل میں شوکت صدیقی کی نسل کے اشتراکی لکھاری (جن کو پیار سے ترقی پسند کہا جاتا ہے ) خود تو عقل کل اور قاری کو نرا احمق، گاؤدی اور جاہل مطلق سمجھتے تھے۔

ان کا قاری وہ شخص تھا کہ جس نے اُن کی کتاب کے علاوہ کچھ پڑھا ہی نہیں، ا لئے وہ کوئی بھی چونا پھیر دیں کوئی کیا سمجھے گا؟ بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی بستی کو روسی زبان میں سابقہ سوویت یونین کے ادارہ برائے اشاعت ترقی (ماسکو) نے شائع کیا وہ وہاں خوب بکی۔ بکنی بھی چاہیے، روس کی کہانی روس والوں کو پسند کیوں نہ آئے گی؟ صدیقی کے کردار انتہائی آدھے کچے اور یک جہاتی قسم کے ہیں۔ یہ انسان کا ٹرک آرٹ والا تصور ہے، اس سے بہتر کردار نگاری تو اشتیاق احمد کے بچوں کے جاسوسی ناولوں میں ہے۔

روٹی کپڑا اور مکان، مساوات، استحصال وغیرہ وغیرہ کی تھیم پر بنا ہے یہ ڈرامہ دراصل انسان کے تصور کو اس قدر پست بنا کر پیش کرتا ہے کہ اس ڈرامے کو مارکسی Reductionism کی کتابی مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی نظریے یا عقیدے کے پرچار کے لئے اچھی سے اچھی فلم، اچھے سے اچھا ناول اور ڈرامہ تخلیق کیا جا سکتا ہے مگر اس کی اول شرط یہ ہے کہ سب سے پہلے اسے اعلیٰ ادب ہونا چاہیے، مگر شوکت صدیقی کا یہ ڈرامہ دراصل پروپیگنڈا پمفلٹ تو ہے، ڈرامہ نہیں ہے۔

خیر جب یہ ڈرامہ میں نے دیکھ کر ختم کیا اور بے حد انہماک کے بعد مجھے یہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق نہایت بے کار معلوم ہوا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ جانگلوس دیکھنے یا وہ ناول پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ میں فوراً جامعہ کراچی کی محمود حسین لائبریری گیا اور وہاں کے سرکولیشن کاؤنٹر سے جانگلوس کا ’کال نمبر‘ نکال کر وہ کتاب ایشو کرا لی۔ اب وہ کتاب 15 دن کے لئے میری تھی۔ یہ کتاب ”خدا کی بستی“ سے نسبتاً اس اعتبار سے بہتر تھی کہ انقلاب سے پہلے کے روس کے کردار اس میں سرائیکی اور پنجابی لہجے میں بات کر رہے تھے۔

کارل مارکس کے فرمودات سے شروع ہونے والی یہ کتاب دراصل مارکسی تصور تاریخ کی ایک بھونڈی تجسیم کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ وہی گھسا پٹا انسانیت کا لیکچر، وہی غالب طبقات، مغلوب طبقات کاٹکراؤ۔ جانگلوس میں جو پاکستان دکھایا گیا ہے وہ دراصل کوئی مکھی ہی دکھا سکتی ہے۔ کیونکہ مکھی ہی ہے جو صرف گند پر بیٹھی ہے۔ انسانوں کی زندگی کے ہزار رنگ ہیں، صرف روٹی، صرف جنس، صرف کشمکش، صرف ٹکراؤ اور صرف و صرف ظالم و مظلوم کے ٹکراؤ کی قصہ گوئی سے ایک بہت ہی پست تناظر پیدا ہوتا ہے، اسی لئے یہ اشتراکی ادب تھوڑی دیر پڑھنے کے بعد انسان کی حس جمالیات بری طرح متاثر ہونے لگتی ہے۔

میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر کسی انسان کو صرف اور صرف اشتراکی ادب پڑھنا پڑے تو وہ بچے پیدا کرنے کے بھی قابل نہ رہے بلکہ اس کے ہاتھ اور ٹانگیں بھی ٹیڑھی ہو جائیں گی۔ صدیقی صاحب کی کہانی میں جیل سے بھاگا ہوا قیدی ایسا انقلابی بن جاتا ہے کہ بیگار کیمپ کو گویا ’بالشوک‘ انقلابی کی طرح ہی تباہ کرا دیتا ہے۔ یہ ہے احمقانہ اور یک جہت تصور انسان کی آخری سطح۔ صدیقی صاحب اپنے خوابوں، ارمانوں کو ”خبر“ بنا رہے ہیں۔

پاکستان میں کوئی اشتراکی تحریک یا اس کی کوئی امید نظر نہیں آتی تو انہوں نے جیل سے بھاگے قیدیوں سے ہی مسیحائی کی امید لگا لی۔ صدیقی صاحب یقینی طور پر کبھی جیل میں نہیں رہے اور قیدیوں کو بھی انہوں نے محض فلموں میں ہی دیکھا تھا۔ اسی لئے وہ اُن کو شیطان بنا دیتے ہیں یا فرشتہ مگر انسان تو اُن کی کسی کہانی میں کبھی دکھائی دیے ہی نہیں۔ ادب کی متفقہ تعریف یہ ہے کہ ادب تجربات کا جمالیاتی اظہار ہے مگر صدیقی صاحب کے پاس سارے ہی پاکستانی مارکسیوں کی طرح ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بڑی بڑی باتیں کرنے کے علاوہ کوئی تجربہ ہے ہی نہیں۔

اس لئے وہ تجربے کے گڑھے کو دلیل کی مٹی سے پاٹ رہے ہیں مگر نہ جانے کیوں صدیقی صاحب کے جس کردار کا ’ڈی این اے‘ ٹیسٹ کرو وہ made in Holy Russia نکل آتا ہے، جی ہاں Holy Russia۔ انقلاب سے پہلے کا روس۔ کیونکہ انقلاب کے بعد تو صدیقی صاحب کے نظریات کے مطابق روس جنت بن گیا تھا، صدیقی صاحب کے دونوں جیل سے بھاگے ہوئے کرداروں لالی اور رحیم داد کا DNA ٹیسٹ کرنے پر معلوم ہوا کہ دونوں ہی فیودور وستوئنسکی کے ناول Possessed کے سائبیریا کی قید سے بھاگے مجرم Fedka the Convict کی ناجائز اولادیں ہیں۔

مگر صدیقی صاحب دوستوئفسکی کی کردار نگاری کے قریب سے بھی نہیں گزرے۔ اس لئے انہوں نے اِس کردار کے حق اور باطل کو دو ٹکرے کر کے حق کو لالی میں اور باطل کو رحیم داد میں نہایت بھونڈے انداز میں ڈال کر ہزار گنا مبالغہ کر کے یہ کردار تیار کیے ہیں۔ ”فیدکا“ کو اشتراکیت کے انجکشن لگا دینے سے کیا ادب پیدا ہوتا؟ صدیقی صاحب مرحوم شاید یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ دوستوئفسکی نے ”فیدکا“ کا کردار کوئی ناول پڑھ کر نہیں تخلیق کیا تھا، وہ خود سائبریا میں قید اور جلاوطن رہا تھا، حقیقی انسانی تجربات کا کوئی نعم البدل نہیں اور ان کے لمس کے بغیر ادب تخلیق ہو ہی نہیں سکتا۔

کیونکہ ماضی میں ہم نے سچی ادبی تنقید کی روایت کو سلیم احمد کے بعد 100 فیصد ترک کر دیا، اسی لئے اس نوع کے انقلابی پرچہ بازی اور نعرے بازی نما ڈرامے بڑھتے ہی گئے، بس Socialist Agenda کی جگہ Social Agenda نے لے لی۔ شعیب منصور کی روکھی پھیکی فلمیں اور بے رنگ ڈرامے اسی منحوس روایت کا تسلسل ہیں۔ یہ دو نمبر ادب شوکت صدیقی کمیونسٹ مینی فیسٹو (Communist Manifesto) سے اخذ کرتے تھے اور شعیب منصور اپنے ”ڈونر“ کے مینی فیسٹو سے۔

اس نوع کا ادب اور فن وہ کوڑا کرکٹ ہے کہ جس کو کسی کھائی میں پھینک کر ہی ہم حقیقی انسانی تجربے سے پیدا ہونے والا ادب تخلیق کر سکیں گے۔ دو نمبر چیزیں ایک نمبر کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ رہی ہیں، اس لئے اگر آپ نے شوکت صدیقی کو پڑھا ہے تو وہ ادب نہیں تھا۔ یہ بات تسلیم کر لینے سے شاید ہماری ادب کی اجتماعی تفہیم میں ہی کوئی اضافہ ہو سکے جو حقیقی ادب کی تخلیق میں ہمارے لئے معاون ہو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *