دنیا عالم کو مسئلہ کشمیر بھولنے نہیں دیں گے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر میں قید و بند کی جاری صورتحال کو ڈیڑھ سو سے زائد دن ہو گئے، مگر حالات میں کسی بھی طرح کی بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ پاکستان کی حکومت خاص طور پر وزیراعظم اور محکمہ خارجہ بار بار دنیا کی توجہ اس انسانی المیے کی جانب مبذول کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ مگر تاحال تجارتی نفع نقصان میں دلچسپی رکھنے والے ممالک کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے نظر نہیں آتے اس بے حسی کی صورت حال میں ترکی اور ملائیشیا نے کشمیریوں کی تھوڑی بہت بات کرکے ان کی دلجوئی کی کوشش کی مگر حال ہی میں ہونے والے کوالالمپور سمٹ میں پاکستان کی آخر وقت پر غیر موجودگی نے اس لمحاتی گرمجوشی کو بھی زائل کر دیا ہے۔

اب شنید ہے کہ کشمیر پر سعودی عرب کی کاوشوں سے او آئی سی کے طفیل وزرائے خارجہ کا ایک نمائندہ اجلاس اپریل میں بلایا جائے گا۔ اس وقت خطے کی کشیدہ صورت حال اس قدر دگرگوں ہے کہ شاید کشمیریوں کے لیے تنکے کا سہارا لینے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں۔ ایک سو ساٹھ روزکے مسلسل محاصرہ کے باعث ان کی حالت ناگفتہ بہ ہو چکی ہے لیکن دنیا خاموشی سے ان کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ موبائل پر واٹس ایپ ہی عوام کے لئے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنے اور مشکلات جاننے کا ذریعہ تھا لیکن ان سے رجسٹریشن کے نام پر یہ سہولت بھی چھینی جا رہی ہے۔

اس سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ عالمی ادارے اور تنظیمیں خصوصاً اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے اور بھارت کو اس امرپرمجبور کریں کہ وہ ساڑھے پانچ ماہ سے جاری محاصرے، پابندیاں اور اشیاء ضروریہ کی قلت کو ختم کرے۔ کشمیری عوام کو آپس میں رابطے کے لئے موبائل فونز اور واٹس ایپ استعمال کرنے کی اجازت دے تاکہ وہ ایک دوسرے کی مشکلات کو سمجھ کر اس کا ازالہ کرنے کی سعی کر سکیں۔

یہ امرواضح ہے کہ عالمی دنیا کے ذاتی مفادات کے پیش نظر بھارت اپنی من مانی کرتے ہو ئے مقبو ضہ کشمیر میں روز بروز مظالم میں اضافہ کرتاجارہا ہے۔ کشمیری حق خود ارادی اور آزادی کے لیے ہرقسم کی قربانیوں سے دریغ نہیں کررہے ہیں۔ ملخصوص کشمیری نوجوان طلباء اپنی آزادی کے لئے جس طرح اپنی زندگیوں کی قربانیاں دے رہے ہیں اس کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پچھلے 71 سال سے حاصل ہونیوالے تجربات کے بعد بھی یہ سمجھنے اور قبول کرنے پر آمادہ نہیں کہ کشمیری اپنے جمہوری اور پیدائشی حق کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں اور وہ کسی قیمت پر اپنے اس حق سے دستبردارنہیں ہوں گے۔

کشمیریوں کے اس جمہوری حق کو بھارت سمیت دنیا کی تمام قومیں تسلیم کرتی ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں اپنے اس تسلیم شدہ حق سے محروم نہیں کرسکتی۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر بھی کڑی پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ تاکہ وہاں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ظلم و ستم کی خبریں ذرائع ابلاغ تک نہ پہنچ پائیں۔ موبائل اور انٹر نیٹ سروس کی بندش معمول کی بات بن چکی ہے۔ پرنٹ میڈیا پر بھی کڑی پابندیاں لگادی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی مقامی یا بین الاقوامی کسی تنظیم کو مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں۔ کئی بار عالمی تنظیموں کی جانب سے سفارش کی گئی کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مقبوضہ کشمیر میں جانے اور حقیقتِ حال جاننے کی اجازت دی جائے لیکن بھارت نے اسے ہمیشہ رعونت سے ٹھکرادیا کیو نکہ بھارت مقبوضہ وادی میں اپنی ریاستی دہشتگردی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے نہتّے کشمیریوں پر جان لیوا اور مہلک ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے معصوم لوگوں کو موت کے گھاٹ اتاررہا ہے۔ بھارتی قابض افواج کی طرف سے طاقت اور دیگر فریبی ہتھکنڈوں کے استعمال کا مقصد کشمیریوں کو خوفزدہ کرنا اور ان کی آزادی کی تحریک کو دبانا ہے۔

بھارتی قابض افواج اپنے مظالم سے دنیا کوپیغام دے رہی ہیں کہ ان کے نزدیک نہ تو انسانی جان و مال اور حقوق کی کوئی قیمت اور حرمت ہے اور نہ ہی اسے کسی عالمی قانون اور انسانوں کے جمہوری اور بنیادی حقوق کا کوئی پاس ہے۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ بھارت نے احتجاج کے جمہوری حق کو بھی کشمیریوں کے لئے ایک سنگین جرم بنادیا ہے۔ ایسے واقعات کی بڑھتی شرح سے یہ جاننا مشکل نہیں کہ مودی حکومت باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے۔ بھارت کی انتہا پسند حکومت نے قابض افواج کو کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ وہ احتجاج کرنیوالوں کی آواز دبانے کے لئے جس حد تک چاہیں کشمیریوں کا خون بہاسکتے ہیں ان سے کبھی بازپرس نہیں کی جائے گی۔

مقبو ضہ کشمیر کا انسانی المیہ دنیا کی توجہ کا طالب ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ اس کی جانب فوری توجہ دی جائے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالات پر عالمی برادری کی مسلسل خاموشی نے بھارت کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ جتنے کشمیریوں کوچاہے قتل کرے، مظالم کا نشانہ بنائے۔ بھارت اپنے جا برانہ رویئے میں یہ بات سمجھ نہیں پارہا کہ کشمیری بھارت اور اس کی قابض افواج کی غلامی سے آزادی اور نجات چاہتے ہیں۔ بھارتی قابض افواج کے مظالم کی وجہ سے کشمیر کا بچہ بچہ اور نوجوان بھارت اور اس کی قابض افواج سے نفرت کرنے پر مجبور ہو گیا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے غم و غصہ میں اضافہ ہورہا ہے۔

کشمیری بھارتی قبضے سے تنگ آچکے ہیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اورصاف شفاف رائے شماری کے ذریعے اپنے راستے کا خود انتخاب کریں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیریوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ انہیں استصوابِ رائے کا پورا پورا موقع دیا جائے گا لیکن یہ وعدہ تاحال پورا نہیں کیا جاسکا۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیرکی نوجوان نسل کی جانب سے سخت مزاحمت کاسامنا کرنا پڑرہا ہے اور حالات بتا رہے ہیں کہ جب تک کشمیری زندہ ہیں گے ان کی بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔

بلاشبہ مو جودہ خطے کی کشیدہ صورت حال کے پیش نظر سب کی توجہ ایران، امریکا تنا زع کی جانب ہے لیکن حکو مت پا کستان کو خطے میں امن کی کاوشوں کے ساتھ عالمی دنیا کو کشمیر کی صورت حال سے بھی آگاہ کرتے ہوئے موثر کردار اداکرنے پر اصرار کرتے رہنا چاہیے۔ وزیر اعظم عمران خان کا مسئلہ کشمیر پر دنیا عالم کی توجہ مرکوز کروا تے رہنا قابل ستائش ہے۔ کشمیر ی مظلوم عوام عالمی دنیا کی توجہ کے متقاضی ہیں۔ مگرعالمی دنیا بھارت میں ذاتی مفادات کے باعث مسئلہ کشمیر سے نظریں چرارہی ہے لیکن پاکستانی عوام مسئلہ کشمیر کبھی فراموش نہیں کرنے دیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کی آزادی کشمیریوں کے ساتھ پا کستانی عوام کی بھی آواز ہے کیو نکہ کشمیر پا کستان کی شۂ رگ ہے جس کو کسی صورت بھارت کے شکنجے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ بھارت اپنی بالا دستی اور حکمرانی اپنی سات لاکھ فوج، کالے قوانین اور پابندیوں کے ذریعے زیادہ دیر تک مسلط نہیں رکھ سکے گا۔ کشمیری اب زیادہ دیر تک مذید بھارتی مظالم برداشت نہیں کریں گے۔ کشمیری نوجوانوں کی جذبہ آزادی کا مسلسل پختہ عزم اس امر کی گواہی دے رہا ہے کہ بہت جلد کشمیری اپنی آزادی کی منزل پالیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *