قصّہ ایک افسانہ لٹنے کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بنیادی طور پر میں ایک اُستاد ہوں۔ عرصے سے میری خواہش ایک اچھا ادارہ کھولنے کی رہی تھی۔ 1990 میں قدرت نے موقع فراہم کیا۔ تیرہ سال تک مخلوط تعلیمی سلسلہ چلتا رہا۔ گرلز سکول کا جب سیکنڈری بورڈ کے ساتھ الحاق ہوا تو لڑکوں کو الگ کرنا ضروری ٹھہرا۔ یوں بھی ہمہ وقت بچے بچیوں کی نگرانی مسائل پیدا کررہی تھی۔ والدین کا بھی پریشر تھا۔ چنانچہ چار کنال کی جگہ خرید کر اس پر عمارت کی تعمیر شروع ہوگئی۔ چونکہ یہ ایک بڑا پروجیکٹ تھا اس لئے میرے شوہر کو تعمیراتی نگرانی کے لیے رات گئے تک سائٹ پر ٹھہرنا پڑتا۔

موقع غنیمت سمجھتے ہوئے میں بھی گھر سے لکھنے پڑھنے کا سامان اٹھا لائی اور چھوٹے سے کمرے میں دھری الماری میں اسے سجا دیا۔ اِن ادھورے اور کچھ مکمل مسوّدوں میں ایک ایسا افسانہ بھی تھاجسے میں نے مکمل تو کرلیا تھا پر اِس کی کانٹ چھانٹ ابھی باقی تھی۔ کئی بار اِسے کھولتی۔ قلم ہاتھ میں پکڑتی کچھ تھوڑا بہت کام کرتی پھر اُکتا کر اُسے سنبھال دیتی۔

گذشتہ تین چار سالوں سے میں اس کے ساتھ یہی سلوک کرتی چلی آرہی تھی۔ میرے حسابوں افسانہ اپنے موضوع کے اعتبار سے خاصا متنوع تھا۔ اُسے ٹریٹ منٹ بھی اچھا دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ پر اس کی نوک پلک دُرست ہونے میں ہی نہیں آرہی تھی۔ کبھی میرا جی چاہتا کہ میں اس کی فوٹو کاپی کروالوں کہیں یہ اِدھر اُدھر ہی نہ ہوجائے۔ پر اِس وہم کے باوجود میں اپنی ازلی سُستی کے ہاتھوں معاملہ آج کل پر ہی لٹکاتی رہی۔

دونوں ونگز کے درمیان تقریباً ایک فرلانگ کا فاصلہ تھا۔ معروف دانشور میکالے کے مطابق کہ ہر جتن کرو اور پیدل چلنے کے لیے وقت نکالو۔ میں نے بھی اس فاصلے کو اپنی واک کا ایک حصّہ بنانا ضروری سمجھا۔ چار پانچ چکریوں میرے معمول کا حصّہ بن گئے کہ کبھی میاں سے گپ شپ کرنے، کبھی چائے پینے کا بہانہ ہوتا، کبھی کھانا کھانے کا اور کبھی لڑائی کرنے۔ لڑائی بالعموم میاں کی شاہ خرچیوں کے سلسلے میں ہوتی۔ گرلز کیمپس کے ملازموں میں سے ایک دو چلبلے سے چھوٹی سی چُھرلی چھوڑ دیتے۔ میڈیم وہاں تو آج مٹھائی آئی ہے، آج آئس کریم پارٹی ہورہی ہے۔ میں جانتی ہوں میاں انتہائی فضول خرچ انسان ہے۔ اس کے ہاتھ میں موریاں نہیں مورے ہیں۔

اب جب لڑنے کے لیے جاتی۔ وہ ساری میری بکواس بہت سکون سے سُنتا اور پھر مدھم سی مسکراہٹ چہرے پر بکھیرتے ہوئے کہتا اری او نیک بخت۔ دیکھ نا اتنی گرمی میں کام کررہے ہیں۔ ان کا شوگر لیول ڈاؤن ہوجاتاہے۔ اِس بہانے شوگر اندر چلی جائے گی۔ چلو میں بھی مطمین ہوجاتی۔

عمارت مین روڈ پر بن رہی تھی اور میں چلنے کے لیے ہمیشہ دوسری سب لین استعمال کرتی جس کے دونوں اطراف پر گھر ضرور تھے پر ٹریفک کم ہوتی۔

انہی دنوں عید الفطر آگئی۔ ہفتہ اتوار ساتھ مل جانے کی وجہ سے چھٹیوں کا دورانیہ قدرے لمبا ہوگیا۔ میں نے سوچا اِس بار اِس افسانے کو گھر لے جاؤں گی اور ہر صورت اِس کا تیاپانچہ کرکے اسے کوئی نہ کوئی شکل دے دوں گی۔

آخری دن میں نے الماری کھولی۔ افسانے کو فائل میں سے نکالا۔ سفید چھوٹے سے شاپر میں ڈالا۔ افسانہ چار تہوں میں فولڈ شدہ تھا۔ دو تین جوڑے جرابوں کے بھی خانے میں پڑے تھے انہیں بھی اُسی شاپر میں ڈال لیا۔ ایک طرف ہزار کے دو نوٹ اور ایک سو کا نوٹ رکھا ہوا تھا وہ بھی اٹھالیا۔ پہلے میں نے انہیں بھی شاپر میں ڈالنے کا سوچا پھر یونہی انہیں موڑ کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔ ملازم سے کہا کہ وہ صاحب سے کہہ دے کہ میں گرلز ونگ چلی گئی ہوں۔ جب وہ گھر جانے لگیں تو مجھے وہاں سے لے لیں۔

اب میں شاپر کو ہاتھ میں جُھلاتی اپنے راستے پر ہولی۔ ابھی میں نے نصف راستہ ہی طے کیا تھا جب آناً فاناً دو ہاتھوں نے ایک جھپٹا مار کر شاپر میرے ہاتھ سے چھین لیا۔ بھونچکی سی ہوکر میں نے اپنے اردگرد دیکھا۔ ایک موٹر سائیکل پر سوار یہ دو نوعمر لڑکے تھے۔ صورتِ حال کی سنگینی کا احساس مجھے ایک پل میں ہی ہوگیا تھا۔ اپنی قیمتی متاع کے یوں چھن جانے پر میں باؤلی سی ہوکر ان کے پیچھے بھاگی۔ تیز بھاگتے ہوئے میں دہائیاں دیتی جارہی تھی۔

”وے پُتر، وے سوہنیا، وے اے افسانہ اں۔ افسانہ وے تیرے کُجھ کم دا نیں۔ سِٹ جا انہیوں۔ (پھینک جا اسے ) “

پچپن سالہ عورت بگٹٹ اُن کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ رُونکھی آواز میں دہائیاں دے رہی تھی۔

”ارے بیٹے پھینک جاؤ ا س کو۔ یہ تمہارے کچھ کام کا نہیں۔ “ میری آواز بہت بلند تھی۔ میں پاگلوں کی طرح، کسی جنونی کی طرح بھاگ رہی تھی اور بولتی جارہی تھی۔

اور جب وہ موڑ مڑ گئے۔ میں رُک گئی۔ آنسو میرے گالوں پر بکھر گئے تھے۔ میرے اندر جیسے غم و غصے کا بھانپڑ سا مچ اٹھا تھا۔ کِسی لڑاکا جاہل اور دُکھیاری عورت کی طرح میری زبان نے چند گالیاں فضا میں اُچھال دیں۔

حرامزادے۔ کنجر وے تخم، شہدے کمینے۔

اُس سمے نہ مجھے اپنی حیثیت کا کوئی احساس تھا اور نہ یہ یاد تھا کہ جہاں میں کھڑی ہوں اِن دورویہ گھر وں میں بہت سارے بچے میرے سکول میں پڑھنے آتے ہیں۔

مجھے سو فی صد یقین ہے کہ جب انہوں نے وہ شاپر کھولا ہوگا۔ کاغذوں کی پھولا پھرولی کی ہوگی اور اُس میں کچھ نہ پاکر اُسے کِسی کھائی کھڈے میں پھینکتے ہوئے یقینا میرے بارے میں کچھ اسی طرح کی گوہر افشانی کی ہوگی۔

کمینی شہدی زنانی ورے دناں اچ کاغذلیئی پھر دی اے۔ (کمینی کنجوس عورت تہواروں والے دنوں میں کاغذ لیے پھرتی ہے۔ )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *