پاکستانی شہری کا 2050 ء میں تہذیبی و اخلاقی معیار کیا ہوگا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین ہزار برس پہلے کی بات ہے کہ جنوب مشرقی یورپ کے ملک یونان میں ایک شہر ایتھنز آباد تھا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں سقراط پیدا ہوا جسے ماڈرن فلاسفی کا باپ کہا جاتا ہے۔ یہ وہی شہر تھا جہاں جمہوریت نے جنم لیا جو آج ماڈرن مہذب دنیا کی دلربا لاڈلی ہے۔ یہ وہی شہر تھا جو موجودہ یورپ کی آسمان چھو لینے والی ترقی کی بنیاد ہے۔ یہ وہی شہر تھا جس کی تنظیم اور بہادری سے پورا یونان متاثر تھا اور وہیں سکندر پیدا ہوا جسے تاریخ آج سکندر اعظم کے نام سے یاد کرتی ہے۔

ایتھنز والوں نے ہسٹری میں مقام بنانے کا یہ سفر مضبوط معیشت کی کاغذی کشتی پر طے نہیں کیا بلکہ انہوں نے دنیا میں حقیقی ترقی کا اسمِ اعظم دریافت کیا جو بہت سادہ تھا۔ پرانے ایتھنز والوں نے فیصلہ کیا کہ ہماری تمام تر ڈویلپمنٹ کا مرکز ایتھنز کا شہری ہوگا۔ ہماری سب سرمایہ کاری ایتھنز کے شہری پرہی ہوگی۔ یعنی ریاست اپنے شہریوں کو ذہنی اور جسمانی اعتبار سے بہترین بنائے گی۔ ایتھنز والوں نے یہ جادو سیکھ لیا کہ اگر شہریوں کی اخلاقی رویے اور اقدار کے حوالے سے تربیت آئیڈیلی ہوجائے تو دنیا کے باقی تمام معرکے خود بخود سرہو جائیں گے۔

”سقراط کے ساتھ سیاسی تھیوری کے مکالمے“ میں چارسو قبل مسیح میں افلاطون نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”ریپبلک“ میں لکھا کہ شہریوں کا عقلمندی، جرات، اپنے اوپر کنٹرول اور انصاف والا مزاج ہونا ضروری ہے۔ بعد میں آنے والے تمام ماڈرن فلاسفروں نے افلاطون کے ان چار نکات کو سوسائٹی کے مورل کریکٹر کی بنیاد کہا۔ ایتھنز کے حکمرانوں نے اس فارمولے پرسختی سے عمل کیا اور اپنے شہرکو پورے یونان میں تعلیمی، دانشمندانہ اور ثقافتی سرگرمیوں کی مرکزی تربیت گاہ بنا دیا جس کے تحت یونانی معاشرہ ذہنی اور جسمانی طور پر امن اور جنگ دونوں طرح کے حالات کے لئے مکمل تیار ہوگیا۔

یہ ٹارگٹ حاصل کرنے کے لئے انہوں نے سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام کا ڈھانچہ بنایا۔ اسے ”ایتھنز ویژن“ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ ایتھنز والے اپنے بچوں کے لئے مکمل اور متوازن تعلیم چاہتے تھے۔ وہاں ایسا تعلیمی نظام شروع کیا گیا جس سے طالبعلموں کی جسمانی، دانشمندانہ اور اخلاقی صلاحیتیں ابھرکر سامنے آتیں۔ پرانے ایتھنز میں تعلیم دینے کے لئے ریاست کا کوئی دباؤ نہیں تھا لیکن تعلیم کی اہمیت کو جانتے ہوئے معاشرے میں اتنا شعور آچکا تھا کہ ہر خاص و عام شہری اپنے بچوں کو لازمی تعلیم دلواتا جس کی وجہ سے ایتھنز میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے پرائیویٹ سکول کھل گئے۔

”ایتھنز ویژن“ کے تحت بچوں کو پیدائش سے ایک برس کی عمر تک کھیل اور رنگوں سے لطف اندوز کرایا جاتا۔ اس کے بعد چھ برس کی عمرتک لڑکے اپنی ماں یا غلام سے اور لڑکیاں صرف اپنی ماں سے گھر میں ہی تربیت حاصل کرتیں۔ سات برس کی عمرکو پہنچتے ہی لڑکیوں اور لڑکوں کی سکولنگ علیحدہ علیحدہ کردی جاتی۔ لڑکے سات سے چودہ برس کی عمر تک شہر میں قائم پرائیویٹ سکول جاتے جو پرائمری تعلیم کہلاتی۔ لڑکوں کے سکول کے استاد ہمیشہ مرد ہوتے۔

سکول میں تین پیریڈ ہوتے۔ پہلا پیریڈ لکھنے، پڑھنے اور حساب کتاب سے متعلق ہوتا۔ دوسرا آرٹ، رقص وموسیقی اور شاعری کا تھا۔ اس پیریڈ میں طالبعلم میوزک، شاعری اور ادب کے ذریعے اخلاقیات اور تہذیبی اقدار سیکھتے۔ پرائمری سکولنگ کا تیسرا پیریڈ جسمانی تربیت کا ہوتا۔ یہ ٹریننگ شہر کے سٹیڈیم میں سہہ پہر کو دی جاتی۔ طالبعلم ریسلنگ، جمپنگ، بھاگنے اور نیزہ بازی کی پریکٹس کرتے تاکہ وہ مضبوط جسم کے ساتھ بہادر اور جرات مند مرد بن سکیں۔

طالبعلم لڑکے جب سولہ برس کے ہوتے تو اُن کی بنیادی تعلیم مکمل ہوچکی ہوتی۔ اس کے بعد اُن میں سے کچھ سائنس اور فلسفے کے علم کی طرف چلے جاتے۔ صحت مند جسم رکھنے والے طالبعلم اٹھارہ سے بیس برس کی عمر تک لازمی ملٹری ٹریننگ حاصل کرتے۔ دوسری طرف لڑکیاں سات برس کی عمر کے بعد گھروں میں ہی اپنی ماؤں یا پرائیویٹ ٹیوٹر سے لکھنے پڑھنے، رقص و موسیقی اور امور خانہ داری کی تعلیم حاصل کرتیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کا بنیادی مقصد انہیں بہترین گھرداری سکھانا اور بہترین ماں بننے کے لئے تیار کرنا ہوتا تھا تاکہ وہ اپنے بچوں کو اچھا شہری بنا سکیں۔

لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم و تربیت میں اس بات کو یقینی بنایا جاتا کہ نئی نسل اپنے نامور آباؤ اجداد اور دیوتاؤں کو یاد رکھے۔ مثلاً طالبعلم موجودہ شاعری کے جدامجد شاعر ”ہومر“ جو ایتھنز کا ہی ایک قدیم نابینا شہری تھا کی شاعری روزانہ لہک لہک کر پڑھتے۔ وہ روزانہ اپنے دیوتاؤں کی قسم کھاکر اپنے وطن سے وفاداری کا عہد بھی کرتے۔ یونان کے ایک دوسرے شہر ”سپارٹا“ میں وطن سے محبت کی ٹریننگ اتنی سختی سے دی جاتی کہ اس کی مثال آج بھی نہیں ملتی۔

مثلاً طالبعلموں کو چوری کرنے کی سزا نہیں ملتی تھی لیکن اگر کوئی طالبعلم چوری کرتے ہوئے پکڑا جاتا تو اسے بدترین سزا دی جاتی۔ اس فلسفے کے پیچھے یہ انوکھی منطق تھی کہ جب یہ طالبعلم عملی میدان میں داخل ہوکر وطن کا سپاہی بنے گا اور دشمن ملک میں جاکر کارروائی کرے تو ہرگز پکڑا نہ جائے۔ اس بات کو سمجھانے کے لئے یونان کی درسی کتابوں میں ایک کہانی تھی جس میں بتایا گیا کہ ”ایک مرتبہ پرائمری سکول کے طالبعلم نے دوسرے کیمپ سے جاکر“ لومڑ ”چرایا۔

جب وہ واپس آرہا تھا تو استاد نے اسے پکڑ لیا۔ لڑکے نے ”لومڑ“ کو اپنے کپڑوں کے اندر اپنے جسم سے چپکا لیا۔ استاد نے چوری کے بارے میں پوچھا تو اُس نے صاف انکار کردیا۔ استاد باربار پوچھتا رہا لیکن وہ نہ مانا۔ اس دوران ”لومڑ“ اپنے پنجوں اور دانتوں سے لڑکے کا جسم کاٹتا رہا لیکن لڑکے نے اپنے چہرے پر درد کے آثار ظاہر نہیں کیے۔ جب وہ شدید زخمی ہوکر گرا تو استاد نے پھر پوچھا لیکن لڑکے نے آخری سانس لیتے ہوئے بھی چوری سے انکار کر دیا ”۔

ایتھنز والوں نے وطن سے وفاداری اور دنیاوی ترقی کا ”اسمِ اعظم“ اپنے شہریوں کی جسمانی، اخلاقی، جمہوری اور تہذیبی تعلیم میں دریافت کیا تھا۔ ہماری حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان 2050 ء میں معاشی طاقت بن کر کئی ملکوں کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار پریہ اچھی خبر ہے لیکن ہماری نئی نسل کی تعلیم وتربیت کے بارے میں اب تک کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ البتہ سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چوہدری اور ٹی وی اینکر مبشر لقمان کے ایک دوسرے پر تھپڑوں کی خبر سامنے آگئی۔

مزید یہ کہ پوری قوم کسی دوسری خبر سے زیادہ حریم شاہ اور صندل خٹک کی نئی ویڈیو کی خبر سننے کی منتظر ہے۔ کیا ہمارے حکمران اس بات کا یقین دلا سکتے ہیں کہ 2050 ء میں پاکستان کے شہریوں کا تعلیمی، اخلاقی، تہذیبی، جمہوری اور وطن سے وفاداری کا معیار کم از کم تین ہزار برس پرانے ایتھنز والوں جتنا ضرور ہوگا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *