او آئی سی اور امت مسلمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کے چار براعظموں میں پھیلے ہوئے 57 ممالک پر مشتمل آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشنOIC اقوام متحدہ کے بعد دوسری بڑی بین الاقوامی تنظیم ہے۔ تنظیم کے تمام اسلامی ممالک دنیا کے مختلف خطوں مثلاً مشرق وسطیٰ، براعظم افریقہ، وسطی ایشیا، حطنہ بلقان، جنوب مشرقی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء میں واقع ہیں۔ چھ ممالک کو اس تنظیم میں مبصر کی حثیت حاصل ہے جن میں بوسنیا، جمہوری وسطی افریقہ، شمالی قبرص، تھائی لینڈ، روس اور سربیا شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ عالمی تنظیموں اور اداروں جیسے اقوام متحدہ، غیر وابستہ ممالک کی تحریک، عرب لیگ، افریکن یونین، اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن، مورو نیشنل لبریشن فرنٹ اور پالیمانی یونین آف او آئی سی ممبر سٹیٹس کو بھی مبصر کی حیثیت حاصل ہے۔ اس تنظیم کے قیام کا مقصد مسلم امت کے مفادات کا تحفظ کرنا اور عالمی سطح پر امن و آشتی کے ماحول کو فروغ دینا ہے۔ مسجد اقصا پر اسرائیلی قبضے کے بعدمسلم امت کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا تھا۔

ستمبر 1969 مراکش کے شہر رباط میں ایک تاریخی معاہدے کے نتیجے میں اس تنظیم کا وجود عمل میں لایا گیا۔ ممبران کی ابتدائی تعداد 30 تھی جوبڑھ کر 57 تک پہنچ چکی ہے۔ 1970 میں سعودی عرب کے شہر جدہ میں او آئی سی ممالک کے وزرائے خارجہ کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی۔ 1972 میں تیسری وزرائے خارجہ کانفرنس میں تنظیم کے چارٹر کو حتمی شکل دی گئی جس میں تنظیم کا ڈھانچہ، بنیادی مقاصداور قواعدوضوابط طے کیے گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں چارٹر میں کچھ ترامیم بھی کی جا چکی ہیں۔

اؤ آئی سی کا موجودہ چارٹر 2008 میں ترتیب دیا گیا جس میں تنظیم کو اکیسویں صدی کے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور امت مسلمہ کو درپیش چیلینجز سے نبردآزما ہونے کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔ او آئی سی کے کچھ ذیلی ادارے بھی ہیں جن میں سب سے اہم اسلامک سمٹ، کونسل آف فارن منسٹرز، جنرل سیکریٹیریٹ اور القدس کمیٹی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی ترقیاتی بنک اور اسلامک ایجوکیشنل سائینٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن بھی او آئی سی کے جھنڈے تلے کام کر رہے ہیں۔

اسی طرح معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق تین مستقل کمیٹیاں بھی اس تنظیم کا حصہ ہیں۔ تنظیمی لحاظ سے سولہ مختلف محکمے بھی او آئی سی کے بیڑے میں شامل ہیں۔ او آئی سی کا جنرل سیکریٹیریٹ سعودی عرب کے شہر جدہ میں واقع ہے۔ تنظیم کا سربراہ سیکریٹری جنرل ہوتا ہے جس کوکونسل آف فارن منسٹرز پانچ سال کے لئے منتخب کرتی ہے۔ اس وقت سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر یوسف بن احمد بن عبدالرحمان العثیمین تنظیم کے گیارہویں سیکریٹری جنرل ہیں۔

اب تک کل تیرہ اسلامک سمٹ کانفرنس منعقد ہو چکی ہیں جن میں آخری سال 2019 میں سعودی عرب کے شہر مکہ میں ہوئی۔ یہ او آئی سی کا ایک مختصر تعارف تھا۔ اب اس کے ماضی کے کارناموں، موجودہ دور میں فعالیت اور امت مسلمہ کو در پیش چیلنجز کے حوالے سے اس کے کردار پر بات کرتے ہیں۔ اس وقت مسلم امت کو دہشت گردی، ناخواندگی، کمزور معاشی نظام، اور فرقہ وارانہ اختلافات جیسے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر، فلسطین، افغانستان، شام، لیبیا، عراق اور یمن جیسے عالمی سیاسی بحرا ن بھی امت مسلمہ کے لئے ایک چیلنج ہیں۔

چائنا کے صوبے سنکیانگ اور میانمارمیں مسلمان ایک انسانی بحران سے گزر رہے ہیں۔ شہریت سے متعلق حالیہ قانون سازی کے نتیجے میں بھارتی مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔ کشمیری مسلمان مہینوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ بچے بوڑھے اور خواتین تعلیم صحت اور خوراک جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں لیکن مسلمانوں کی عالمی تنظیم مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کا باہمی مسئلہ قرار دے رہی ہے۔

ایران دو دہائیوں سے امریکی اور عالمی پابندیوں کی ضد میں ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک نئے عالمی بحران کو جنم دے رہی ہے۔ اس کشیدگی پر بھی مسلم امت میں گہری تقسیم پائی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلم امت کو درپیش انسانی، سیاسی اور معاشی مسائل کے حوالے سے او آئی سی کوئی لائحہ عمل ترتیب نہیں دے سکی۔ بعض مسائل پر امت میں شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ اس وقت مسلم امت مسائل کا گڑھ بن چکی ہے لیکن ان مسائل کے حوالے سے او آئی سی کے پلیٹ فارم پر کوئی حل موجود نہیں ہے۔

بعض سنگین معاملات پر تو او آئی سی کی طرف سے بیان تک نہیں جاری کیا جاتا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی پر او آئی سی کی مجرمانہ خاموشی اس کی جانبداری اور غیر فعالیت کی ایک زندہ مثال ہے۔ سرکاردوعالم ﷺ ن نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پرایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا کہ جاہلیت کی تمام اقدار آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں لیکن زوال اور پستی کے موجودہ دور میں مسلم ممالک اپنے مسائل کا حل اپنی عالمی تنظیم کی بجائے مغرب، امریکہ اور ان کے مرہون منت اداروں کے پاس ڈھونڈ رہے ہیں۔

جب سے مسلم امت نے فرمانِ محمدی ﷺ کے بر عکس اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا شروع کیا ہے مسائل میں کمی آنے کی بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کے قیام کا واحد اور مختصر مقصد مسلم امت کا اتحاد ویگانگت تھا۔ مسلمانوں کی اس اتحادی صفت کو قرآن پاک میں بھی ارشاد فرمایا، مفہوم: ”محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔

یعنی پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کوایک جسم کی مانند قرار دیا۔ نعمان بن بشیر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ”ایمان والوں کو باہم ایک دوسرے پر رحم کھانے، محبت کرنے اور شفقت و مہربانی کرنے میں تم ایک جسم کی طرح دیکھو گے کہ جب اس کے کسی ایک عضو میں بھی تکلیف ہوتی ہے تو جسم کے باقی سارے اعضاء بھی بخار اور بے خوابی میں اس کے شریک حال ہو جاتے ہیں۔ “ (بخاری، مسلم) گویا مشرق و مغرب میں بسنے والے مسلمانوں کا دکھ سکھ سانجھا اور امت واحدہ کو یک جان کردیا۔

لیکن فرامین کے برعکس تمام مسلم ممالک فرقہ وارانہ اختلافات کا بدترین شکار ہیں۔ تمام اسلامی ممالک انفرادی حیثیت میں مسائل کے ساتھ نبردآزما ہیں لیکن اسلامی تعاون تنظیم اختلافات کے شکاراسلامی ممالک کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنے میں یکسر ناکام ہو چکی ہے۔ تمام اسلامی ممالک کے سربراہان اور اصحاب المصلحہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کو فعال کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ مصائب کے بھنور میں پھنسی ہوئی مسلم امت کو غیروں کے رحم کو کرم سے نجات دلائی جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply