سیاسی مزاحمت کا سقوط اور خواجہ آصف کا استدلال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواجہ آصف نے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر اپنی جماعت کی غیرمشروط حمایت کی وجہ جو کاشف عباسی کو بتائی۔ وہ بنیادی طور پر کوئی استدلال ہے اور نہ ہی سیاسی فراست کا مظہر بلکہ سیدھا سیدھا عوام اور اپنے ووٹر پر عدم اعتماد ہے۔ یہ ایک لیڈر کا شکوہ ہے جو اس نے اپنے سماج کے ساتھ کیا ہے۔ خواجہ آصف نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ نوازشریف جتنے دن ہسپتال رہے۔۔ دس بندوں سے زیادہ بڑا مجمع ہسپتال کے باہر نہ لگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ ٹویٹ کرکے یا فیس بک پر پوسٹ ڈال کر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے جہادی ہونے کا ثبوت دے دیا۔ ہمارے لوگ ایک ٹویٹ کرنے کے بعد کڑاہی گوشت کھا کر سکون سے سو جاتے ہیں۔ خواجہ آصف نے بھارت میں چلنے والی حالیہ عوامی سیاسی تحریک کی مثال بھی دی کہ وہاں لوگ کس طرح کھڑے ہیں ہمارے ہاں لوگ مہنگائی سے تنگ آجائیں گے لیکن سڑکوں پر نہیں نکلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے حق کے لئے صرف ٹؤیٹ ہی کافی نہیں ہوتا اس کے لئے گھروں سے نکلنا پڑتا ہے۔ ماریں کھانا پڑتی ہیں۔

خواجہ صاحب کی زبان پر جو شکوہ تھا دراصل وہی گلہ میاں نوازشریف کا بھی اسی قوم سے ہے۔ مشرف دور میں ہی جب وہ ” جلاوطنی ” کاٹ کرآئے تھے تب ایک جلسے میں کسی متوالے نے ایک نعرہ بلند کیا کہ قدم بڑھاؤ نوازشریف ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ اس نعرے کا تاریخی جواب خود نوازشریف نے دیا اور کہا کہ میں نے تو قدم بڑھایا تھا مگر میرے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا۔ ایسا ہی ایک واقع کرنل رفیع نے اپنی تصنیف میں لکھا ہے کہ بھٹو جیل میں اس بات پر اداس ہوجایا کرتے تھے کہ انہوں نے پسے ہوئے عوام کو سیاسی شعور دیا۔ اقتدار کا کھیل طاقتوروں کے ڈرائنگ رومز سے نکال کر عوام کے انگھوٹوں کے نشان کے نیچے دے دیا لیکن عوام ان کے ساتھ اس طرح سے کھڑے نہیں ہوئے جیسا ہونے کا حق تھا۔ بھٹو اور نوازشریف کا شکوہ تاریخی حقائق کی روشنی میں درست ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان تاریخی حقائق کے معرض وجود میں آنے کی وجوہات کیا تھیں؟

خواجہ آصف صاحب کے توسط سے ایسے شکوے رکھنے والی سیاسی قیادت سے مودبانہ التماس یہ ہے کہ وہ جس سیاسی عمل کا حصہ رہے اس کے نتائیج ان کے سوا اور کیا نکل سکتے تھے۔ چلیں اس بات کو زیادہ آسان فہم بناتے ہیں۔ غور کریں پاکستان کی ریاست اور سماج کا ڈھانچہ کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہاں ریاست الگ شے ہے اور عوام الگ۔ یہاں عوام کے نام پر اقتدار کے حصول کے لئے سیاسی جدوجہد ہوتی ہے ،عوام کے لئے نہیں۔ عوام کا سیاست دانوں سے تعلق کبھی بھی اس سے آگے نہیں بڑھنے دیا گیا۔ یہاں اقتدار عوام کا نہیں ہوتا بلکہ عوام کے نام پر سیاست دان پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شراکت اقتدار کیا کرتے ہیں۔ عمران خان اس کی تازہ اور ذوالفقار علی بھٹو اس کی پرانی مثال ہیں۔

اقتدار میں شراکت داری ایک خالص دھندہ ہے اور یہ وہ دھندہ ہے جس میں تخت بھی ملتا ہے اور کبھی کبھی تختہ بھی۔ اقتدار کے اس کھیل میں کسی نے کبھی براہ راست عوام پر تکیہ کیا۔ نوازشریف آخری بار اقتدار میں جنرل کیانی کے ساتھ معاملات طے کر کے آئے۔ یہ معاملات طے کروانے میں کلیدی کردار شہباز شریف نے کامران کیانی کو سرکاری خزانوں سے فائدے پہنچا کر کیا۔ عوام کا قصور کیا ہے ان کی قسمت تو سراب ہی سراب لکھے ہیں۔ اس کے باوجود جب انہوں نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا عوام نے پھر اس کا جواب دیا۔ لاہور کی شاہراہوں پر لگنے والے نعروں اور عوام کے بھڑکتے جذبات کی گواہی کسی کتاب میں نہیں لکھی بلکہ یوٹیوب پر کھلی پڑی ہے۔ خواجہ آصف کو یاد ہوگا کہ لاہور نے محترمہ کلثوم نواز کے ضمنی انتخاب میں ریاست کا ہر جبر سہ کر ووٹ ہی کو عزت دی تھی۔ لاہور کی سڑکوں پر وہ نعرے بھی لکھے جو یہاں ضبط تحریر میں لانا “ان ” کی شان میں گستاخی کہی جائے گی جن کے آگے خواجہ آصف اور ان کی قیادت ڈھیر بھی ہوئی اور قربان بھی۔

پاکستان کی سیاست کا منترا صرف اتنا ہے کہ سیاست کے ایک کھلاڑی کو مالکان اقتدار یعنی ” ان ” کی نظروں میں کھوٹا ثابت کرواور اپنی خدمت گزاری کا یقین دلاؤ تاکہ کرسی کے ایک کونے پر بیٹھنا نصیب ہو جائے۔ عمران خان کیا کیا نہیں کہا کرتے تھے اور وہ اب کیا کیا نہیں کرتے۔ کل کو جب عمران خان کو بھی لات پڑے گی تو وہ کس منہ سے عوام سے شکوہ کریں گے۔ اس کا جواب خواجہ آصف دے سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی جواب کل عمران خان کے پاس ہوگا۔

لیڈر شپ اور دھندے میں فرق ہوتا ہے۔ لیڈر شپ قوم کے لئے ہوتی ہے اور دھندہ ذات کے دائرے سے کبھی نہیں نکلتا۔ نواز شریف نے ووٹ کی عزت کسی کے قدموں پہ نچھاور کر کے صرف اور صرف دھندہ کیا ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ ان کے نام پر سیاست کی آڑ میں دھندہ ہی ہوتا آیا ہے۔ جس روزکوئی حسین ابن علی کی طرح حق کی گواہی دینے کھڑا ہوگیا اس دن کسی کی تلوار میان میں نہیں رہے گی۔ یزید تو ہم نے بہت دیکھے اب قافلہ حجاز میں کوئی حسین بھی تو آئے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *