Author: سید عمران شفقت
یہ بوٹ کس کی میز پر رکھا گیا ہے؟
مرد کامل کا قول ہے کہ جس کو حیا نہیں، وہ جو چاہے کرے۔ فیصل واوڈا بھی جو چاہتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔ وہ اپنی مرضی کرنے میں آزاد ہیں۔ اتنے آزاد کہ اپنی مرضی کرتے ہوئے وہ اپنی بھی نہیں سنتے۔ البتہ کسی کسی کی ضرور سنتے ہیں۔ اور وہ جس کی سنتے ہیں۔ اس کا صاحب حثیت ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے صاحبان اختیار کی سننے کی تربیت سکول جانے سے پہلے ہی حاصل کرلی تھی۔ سیاست میں
Read moreسیاسی مزاحمت کا سقوط اور خواجہ آصف کا استدلال
خواجہ آصف نے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر اپنی جماعت کی غیرمشروط حمایت کی وجہ جو کاشف عباسی کو بتائی۔ وہ بنیادی طور پر کوئی استدلال ہے اور نہ ہی سیاسی فراست کا مظہر بلکہ سیدھا سیدھا عوام اور اپنے ووٹر پر عدم اعتماد ہے۔ یہ ایک لیڈر کا شکوہ ہے جو اس نے اپنے سماج کے ساتھ کیا ہے۔ خواجہ آصف نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ نوازشریف جتنے دن ہسپتال رہے۔۔ دس بندوں سے زیادہ بڑا مجمع
Read moreبلھے شاہ کے کتوں سے فیض صاحب کے کتوں تک
سندھ میں کتوں کا بڑا چرچا رہا ہے۔ مجھے ان کتوں کے حوالے سے اپنے پروگرام کے لئے ریسرچ کرنا تھی۔ میں یہ کام بڑی تندہی سے کررہا تھا کہ ٹیلی ویژن پر ڈھڈھن کے بریکنگ نیوز کی ساز و آوازسننے کو ملی۔ خبر یہ تھی کہ قومی اسمبلی نے اکثریت رائے سے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 منظور کرلیا گیا۔ میرے لئے یا کسی بھی صحافی کے لئے یہ خبر حیران کن نہیں تھی۔ کیونکہ یہ طے شدہ امر
Read moreافطار پارٹی۔۔۔ یونہی چلتا رہے گا پاکستان
پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں کل افطار پر اکٹھی تھیں مگر روزہ حکومت کا لمبا ہوگیا۔ وزراء اور حکومت کے ہمدردکچکولے لیتے رہے۔ وزیراعظم عمران خان کا غصہ اور بے بسی قابل دید تھی۔ ان کا ارشاد تھا کہ جمہوریت بچانے کے نام پر جمع ہونے والے لوگوں کی وجہ سے ہی ملک آگے نہیں بڑھا۔ یہ الفاظ ان کے اندر بل کھاتے غیظ وغضب کا مکمل اظہار نہیں کر پائے۔ شیخ رشید ویسے تو بہت فصیح و بلیغ ہیں مگر
Read moreپاکستان نہیں بدلے گا
عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی زبان ہے۔ وہ ان کے قابو میں نہیں ہوتی۔ کبھی پھسل جاتی ہے، کبھی بے دھڑک دعوے کر جاتی ہے۔ ان کے ہمدرد اور پیروکار بعد میں ان کی زبان کی پھسلن کا تو دفاع کرتے ہیں مگر ان کے بلندوبانگ دعویٰ جات کا دفاع کرنا ان کے لئے ممکن نہیں رہا۔ اب ان کے جاں نثار اور وفادار کارکنوں کی تان پچھلے ستر سالہ گند پر ٹوٹتی ہے۔ پاکستان کا
Read moreنوازشریف خود اپنے ساتھ نہیں
سیاست کی اونچ نیچ سے کسی کو مفر نہیں، یہاں ہر عروج کو زوال ہے۔ بدنصیبی ہے کہ ہمارے مغالطوں کی فہرست طویل ہے۔ ایک مغالطہ عروج کا بھی ہے ہم اس کو عظمت کے ساتھ خلط ملط کردیتے ہیں۔ زوال عروج کو ہوتا ہے، عظمت کو نہیں۔ عظمت کھرے کرداروں سےملتی ہےاور عروج حادثے کی بھی پیداوار ہوسکتی ہے اور بروقت کئے گئے فیصلوں کا ثمر بھی۔ فیصلے بروقت بھی ہوں مگر ضروری تو نہیں کہ وہ درست بھی
Read more





























