جماعت اسلامی کے کالم کے لیے 1275 صفحات کا مطالعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے جماعت اسلامی کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے کچھ عرصہ قبل دو اقساط میں تجزیاتی کالم تحریر کیے جو ”اشتہار برائے گمشدہ جماعت اسلامی“ اور ”جماعت اسلامی کا مستقبل، ماضی کی زبانی“ کے عنوان کے تحت شائع ہوئے۔ اِن کالموں پر جماعت اسلامی کا جوابی موقف ”محترم فرحان شوکت ہنجرا“ کے تحریر کردہ پریس ریلیز نما کالم کی صورت میں ”جماعت اسلامی جہد مسلسل کا نام“ کے عنوان کے تحت میرے کالموں کی اشاعت کے چند دن بعد سامنے آیا۔

میں عموماً کالم جواب آں کالم کی بحث میں پڑنے کی بجائے نئے موضوعات پر لکھنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ تاہم اس مرتبہ میرے مندرجہ بالا دونوں کالموں پر اٹھائے گئے اعتراضات کا مختصراً جواب دینے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں کیونکہ محترم معترض فرحان شوکت ہنجرا نے میری تحریر پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھا کہ ”شوق اختلاف میں سید سردار احمد پیرزادہ نے ملکی تاریخ کو نظرانداز ہی نہیں ایک طرح سے مسخ کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سرے سے پاکستان کی آئینی و سیاسی تاریخ کا مطالعہ ہی نہیں کیا۔

ان کی بڑی بڑی تاریخی غلطیوں کی نشاندہی کے بعد میں یہ تجزیہ کروں گا کہ سید سردار احمد پیرزادہ نے اپنی سوچ میں کہاں کہاں محض سطحیت کا مظاہرہ کیا ہے ”۔ محترم معترض (فرحان شوکت ہنجرا صاحب) نے میرے کالم پر آٹھ اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی مبہم سطور میں مزید بڑھا چڑھا کر پریس ریلیز کا بیانیہ اختیار کیا گیا ہے۔ میں اس بارے میں مستند کتابوں سے لیے گئے حوالہ جات اِن آٹھ اعتراضات کے مختصر جواب کے طور پر ذیل میں ترتیب وار تحریر کررہا ہوں۔

اعتراض نمبر 1 ”جماعت اسلامی نے 1958 ء میں عبدالقیوم خان اور چوہدری محمد علی کے ساتھ مل کر سیاسی اتحاد بنایا۔ کون سا اتحاد؟ کب بنا کیا نام تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ سرے سے کوئی ایسا اتحاد تشکیل ہی نہیں پایا۔ اگر کالم نگار کو اصرار ہے تو اس اتحاد کا نام بتائیں“۔ جواب ”مذکورہ بالا سیاسی اتحاد کا تذکرہ دوسری کئی جگہوں کے علاوہ ولی نصر کی مشہور کتاب Mawdudi and Islamic Revivalism کے صفحہ نمبر 44 پر تفصیل سے موجود ہے۔

یہ کتاب 222 صفحات پر مشتمل ہے جسے Oxford University Press نے 1996 ء میں شائع کیا اور اس کی قیمت 163 امریکی ڈالر تھی ”۔ اعتراض نمبر 2“ جماعت اسلامی نے سکندر مرزا کی حکومت ختم کراکے مارشل لاء لگوایا۔ سکندر مرزا کی حکومت؟ حکومت تو وزیراعظم کی ہوتی ہے، سکندر مرزا پہلے گورنر جنرل اور پھر صدر تھے۔ وزیراعظم فیروز خان نون تھے۔ کالم نگار سید سردار احمد پیرزادہ مطالعہ کریں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مارشل لاء تو خود سکندر مرزا نے لگوایا تھا ”۔

جواب ”محترم معترض نے کالم میں درج میرے جملے کو توڑ موڑ کر اور الفاظ کا ردوبدل کرکے مذکورہ سطروں میں کنفیوژن پیدا کی۔ ذیل میں میرا جملہ پڑھنے سے معزز قارئین کو آسانی سے معلوم ہو جائے گاکہ میرے جملے اور محترم معترض کی سطور کے مفہوم میں بہت فرق ہے۔ میرا اصل جملہ یوں تھا کہ جماعت اسلامی نے 1958 ء میں مسلم لیگ کے عبدالقیوم خان اور سابق وزیراعظم اور نظام اسلامی پارٹی کے چوہدری محمد علی کے ساتھ مل کر ایک سیاسی اتحاد بنایا جس نے صدر سکندر مرزا کی حکومت کو بہت کمزور کیا اور ملک مارشل لاء کے ہاتھوں میں چلا گیا۔

اس بات کے ثبوت کے لیے بھی میں ولی نصر کی اوپر بتائی گئی کتاب کا حوالہ دیتا ہوں۔ اعتراض نمبر 3 ”1970 ء میں جماعت اسلامی کس اتحاد میں تھی جو نوابزادہ نصر اللہ خان کے چھوڑ جانے کی وجہ سے ٹوٹ گیا؟ یہاں پھر کالم نگار نے خود ہی مفروضہ قائم کیا“۔ جواب ”اس اعتراض کا جواب اُن دنوں کے اخبارات میں محترم مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی کے پورے ملک کے انتخابی دورے کی شائع ہونے والی خبروں اور دیگر کتابوں کے ساتھ ساتھ ولی نصر کی اوپر بتائی گئی کتاب میں بھی مفصل موجود ہے“۔

اعتراض نمبر 4 ”میاں طفیل محمد نے 1973 ء میں فوج سے اپیل کی کہ بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ انکشاف کالم نگار سید سردار احمد پیرزادہ نے کیا ہے۔ اب میاں طفیل محمد مرحوم کا یہ بیان پیش کرنا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میاں طفیل محمد یا جماعت اسلامی تو ہمیشہ مارشل لاؤں کے مخالف رہے ہیں، مطالبے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“۔ جواب ”مذکورہ بات کا حوالہ سعید شفقت کی کتاب Civil۔

Military Relations in Pakistan: From Zulfikar Ali Bhutto to Benazir Bhutto کے صفحہ نمبر 89 پر موجود ہے۔ یہ کتاب Westview Pressنے 1997 میں شائع کی جوکہ 304 صفحات پر مشتمل تھی اور اس کی قیمت 38 امریکی ڈالر تھی۔ اس کے علاوہ اس بات کا تذکرہ حسین حقانی کی کتاب Pakistan between Mosque and Military کے صفحہ نمبر 96 پر بھی موجود ہے۔ یہ کتاب Carnegie Endowment for Int ’l Peaceنے 2005 ء میں شائع کی جوکہ 397 صفحات پر مشتمل تھی اور اس کی قیمت 41 امریکی ڈالر تھی۔

مندرجہ بالا کتابوں کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ محترم معترض کتنے لاعلم ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے اعتراض میں تحریر کیا کہ اس بات کا انکشاف تاریخ میں پہلی مرتبہ کالم نگار یعنی میں نے کیا ہے۔ حالانکہ مندرجہ بالا بات کا حوالہ کم از کم 22 برس پہلے سعید شفقت نے اپنی مذکورہ کتاب میں تحریر کیا تھا۔ اعتراض نمبر 5 ”بھٹو کی پھانسی سے ایک رات قبل جنرل ضیاء الحق سے ایک رات پہلے 90 منٹ ملاقات کی۔ کس نے؟ کہاں؟ ملاقات کی صریحاً غلط بات لکھتے ہوئے کالم نگار کا ہاتھ بھی نہیں کانپا۔

چلیں اب ہی بتا دیں کہ ضیاء الحق سے کب؟ کون؟ کہاں ملا؟ ”جواب“ مذکورہ واقعے کا ذکر 1993 ء میں شائع ہونے والی ولی نصر کی ایک اور مشہور تحقیقی کتاب Islamic Opposition to the Islamic Stateمیں صفحہ نمبر 264 پر واضح طور پر موجود ہے جسے Cambridge University Pressنے شائع کیا تھا۔ اس کے علاوہ اسی واقعے کا ذکر حسین حقانی نے اپنی کتاب Pakistan between Mosque and Military میں بھی کیا ہے ”۔ اعتراض نمبر 6“ جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنوں کو نوکریاں دی گئیں۔

جناب والا ہزاروں، سینکڑوں نہیں پانچ سات کے نام ہی بتا دیں جنہیں خلاف ضابطہ کوئی نوکری دی گئی ”۔ جواب“ اس بات کے حوالے کے لیے بی بی سی کے پروگرام نیوز آور کے مشہور سابق صحافی اور فری لانس جرنلسٹ اوون بینٹ جونز کی کتاب Pakistan: The Eye of the Storm کے صفحہ نمبر 16۔ 17 کا مطالعہ کرلیا جائے۔ یہ کتاب 2002 ء میں Yale University Pressنے شائع کی جوکہ 352 صفحات پر مشتمل تھی اور اس کی قیمت 20 امریکی ڈالر تھی ”۔

اعتراض نمبر 7 ”جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کو خوش آمدید کہا؟ کوئی بیان؟ کوئی قرارداد؟ “ جواب ”جنرل مشرف نے 12 اکتوبر 1999 ء کو نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا اورکچھ دن بعد انہوں نے اپنے سات نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا۔ محترم معترض 12 اکتوبر 1999 ء سے لے کر مشرف کے سات نکاتی ایجنڈے اور اس کے بعد کے ایک ہفتے یعنی تقریباً 15 دن کے اخبارات کے مرکزی صفحات کا مطالعہ کرلیں تو جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے بیانات کی صورت میں میرے جواب کی تصدیق ہو جائے گی۔

نیز یہ کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں متحدہ مجلس عمل بنی جس میں جماعت اسلامی کا اہم کردار تھا۔ مشرف حکومت کے زیرانتظام 2002 ء کے انتخابات میں ایم ایم اے نے خیبرپختونخوا میں اکثریت حاصل کی۔ اگر یہ سب کھلی کتاب کی طرح موجود ہے تو پھر اعتراض کیسا؟ ”اعتراض نمبر 8“ کالم نگار نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ جماعت اسلامی ہمیشہ حکمرانوں کے دلوں میں چبھی پھانس تھی۔ تحریر کیا ہے کہ اب سراج الحق کے امیر منتخب ہونے کے بعد جماعت اسلامی کہیں گم ہوگئی ہے۔

اگرچہ کالم نگار نے صریحاً غلط بیانی کی ہے اور ایسی غلط بیانیوں کی وضاحت نہیں ہوتی، محض تردید ہوتی ہے ”۔ جواب“ موجودہ امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق صاحب میرے لیے بہت قابل قدر شخصیت ہیں اور میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں لیکن ایک سیاسی جماعت کے کسی خاص دور کی نشاندہی کے لیے عموماً اُس دور کے سربراہ کا ہی نام لیا جاتا ہے۔ محترم معترض اگر جماعت اسلامی کے گزشتہ آٹھ دس برسوں کو اس سے قبل کے تقریباً 62 برسوں جتنا ہی بھرپور اور متاثرکن سمجھتے ہیں تو میں کیا کہہ سکتا ہوں، فیصلہ قارئین پر ہی چھوڑا جاسکتا ہے۔

البتہ یہ خیال ضرور آتا ہے کہ پہلے پاکستان کی سیاسی تحریکیں یا سیاسی فیصلے جماعت اسلامی کے بغیر مکمل نہیں ہوتے تھے۔ اب ایک ہی مثال کو سامنے رکھیں تو میری بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کیونکہ حال ہی میں حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کے کنٹینر پر جماعت اسلامی کے علاوہ تمام اہم سیاسی جماعتیں نظر آئیں۔ مزید یہ کہ اِس حوالے سے اپوزیشن کی بننے والی رہبر کمیٹی میں جماعت اسلامی کا کہیں ذکر ہی نہیں تھا۔

اس کے علاوہ پاکستان کی طلباء سیاست کو پہلے اسلامی جمعیت طلباء لیڈ کرتی تھی۔ اب حالیہ سٹوڈنٹس سولیڈیریٹی مارچ کو اسلامی جمعیت طلباء مخالف جماعتوں نے ملک بھر میں لیڈ کیا اور انہی کے مطالبات پر وفاقی و صوبائی حکومتیں طلباء یونینز کو بحال کرنے پر غور کررہی ہیں۔ کیا اسلامی جمعیت طلباء اب بھی سٹوڈنٹس کے حوالے سے پہلے جیسے لیڈنگ مقام پر موجود ہے؟ ”مندرجہ بالا آٹھ اعتراضات کے میرے جوابات میں جن مصنفین اورکتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے وہ انٹرنیشنل سطح پر اہمیت رکھتی ہیں۔

اسی لیے ان کتابوں کے اب تک کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور دنیا کی تقریباً تمام لائبریریوں میں موجود ہیں۔ ہوسکتا ہے جماعت اسلامی حسین حقانی کو اپنا نظریاتی مخالف قرار دے کر رد کرے، ڈاکٹر سعید شفقت جیسے ماہر تعلیم، محقق اور انٹرنیشنل سطح کے پروفیسر جوکہ کئی دہائیوں قبل قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں پاکستان سٹڈیز کا شعبہ قائم کرنے کے بانی اساتذہ میں سے ہیں اور ایف سی کالج میں قائم تحقیقی شعبے سمیت کئی ملکی اور بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے سربراہ رہے اور کئی انٹرنیشنل یونیورسٹیوں کے فیکلٹی ممبر بھی رہے، کی تحقیق کو بھی پسند نہ کرے اور بی بی سی کے صحافی اوون بینٹ جونز کو بھی متعصب قرار دے لیکن ولی نصر جو پوری دنیا میں مسلم پروفیسر اور محقق کی امتیازی حیثیت رکھتے ہیں کے بارے میں جماعت اسلامی کیا کہے گی کیونکہ ان کا نام جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کے بائیوگرافر کی حیثیت سے بھی لیا جاتاہے۔

کیا جماعت اسلامی نے ولی نصر سمیت مندرجہ بالا سبھی حوالوں کی زبانی کلامی کی بجائے کبھی آفیشلی تردید کی ہے اور اُنہیں دستاویزی طور پر چیلنج کیا ہے؟ میں اب کالم کے آخر میں چند باتوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی بات یہ کہ میں ہسٹری، سیاست اور لٹریچر کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں۔ میں اِس بحث کو یہیں ختم کرتا ہوں اور جواب در جواب کالم تحریر کرنا صلاحیتوں، صفحات اور وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں۔ دوسری بات یہ کہ میں بے دھڑک اعلانیہ کہتا ہوں کہ پاکستان کی سالمیت اور جمہوریت پر یقین رکھنے والی ہر سیاسی جماعت میری جماعت ہے اور میں ان سب کے لیے دل سے نیک خواہشات رکھتا ہوں۔

تیسری بات یہ کہ میں ایک صحافی، کالم نگار اور تجزیہ نگار ہوں۔ تجزیہ نگار سیاسی ورکر نہیں ہوتا، صرف تجزیہ نگار ہوتا ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق تجزیہ پیش کرتا ہے جس سے کوئی بھی مدلل اختلاف کرسکتا ہے لیکن مہذب سیاسی جماعت کا دعویٰ کرنے والی جماعت کے سیاسی کارکنوں کا تجزیے پر مدلل اختلاف کی بجائے صرف برا ماننا مہذب سیاست میں برا تصور کیا جاتا ہے۔ چوتھی اور آخری بات یہ کہ ایک مبینہ روایت کے مطابق اگر ایک صفحہ تحریر کرنا ہوتو اُس موضوع سے متعلق کم از کم دوسو صفحات کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ میں نے اِس موضوع پر کالم تحریر کرنے کے لیے دیگر کے علاوہ اوپر بتائی گئی کتابوں کے تقریباً 1275 صفحات پڑھے ہیں۔ اگر محترم معترض بھی ان صفحات میں سے کچھ کا مطالعہ کرلیں تو بات آسان ہو جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *