ان سب نے درد دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اشرافیہ کے ذاتی مسائل ہوں تو پلک جھپکتے میں حل ہوجاتے ہیں مگر غریب عوام بہتر برس سے غربت، افلاس، بیروزگاری کے خاتمے اور انصاف کے حصول کے لیے منتیں ترلے کر رہے ہیں مگر ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اس کے باوجود وہ آ س لگائے ہوئے ہیں خوشحال ہونے کی، جو کہ مشکل ہے کیونکہ اشرافیہ نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ ان غریب عوام کو سہولتوں اور آسائشوں سے زیادہ مستفید نہیں ہونے دے گی کیونکہ اس کا مطلب ہے ”آبیل مجھے مار“ لہٰذا وہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک قطرہ قطرہ سہولتیں اور آسائشیں فراہم کر رہی ہے اس دوران اس نے خود کا اتنا مضبوط کر لیا ہے (جو مختلف گروہوں، ہم خیالوں اور مافیاز کی شکل میں ہے ) کہ اب اسے احتجاجوں اور نعروں سے متاثر کرنا ناممکن ہو چکا ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت عوام تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی گرانی سے لے کر نا انصافی تک ان کی زندگی کو دہکتا انگارہ بنا رہی ہے۔

میں اپنے ایک کالم میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ حقائق بیان کرنے کو مایوسی کہا جاتا ہے جبکہ یہ بات درست نہیں اب واقعتا مایوسی تیزی سے پھیل رہی ہے مگر عوام مجبور اور بے بس ہیں وہ سڑکوں پر آ سکتے یں نہ اپنے مطالبات ببانگ دہل اس طاقتور اشرافیہ کے سامنے پیش کر سکتے ہیں کیونکہ یہ اشرافیہ اپنی آنکھیں کان بند کر کے سو رہی ہے جسے جگانا کسی کے بس میں نہیں مگر جب اپنی پریشانی ہو تو ہڑبڑا کر اٹھ جاتی ہے پھر کوئی بیانیہ کوئی نظریہ اور کوئی اصول پیش نظر نہیں رہتا۔

بل جھٹ پٹ پاس ہو جاتا ہے لہٰذا وہ عوام جو امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ان حکمران طبقات سے وہ بہت سادہ ہیں یا پھر ان کے چند ایک مفادات ان سے جڑے ہوئے ہیں مگر ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اکثریت کا اس کی طرف جھکاؤ مجموعی مسائل کی بنا پر ہے جنہیں وہ حل کروانا چاہتے ہیں۔ بہرحال موجودہ حالات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ جب تک لوگ اپنی حالت بدلنے کے لیے خود آگے نہیں آئیں گے وہ ناکام و نامراد رہیں گے۔ اُن کے خواب ادھورے اور بے رنگ رہیں گے۔ اور ان کے نام نہاد سیاسی رہنما اسی طرح ان کو بیوقوف بناتے رہیں گے اور ان کے حصے کا رزق ہتھیا کر اپنے گوداموں میں لے جاتے رہیں گے!

ان کی عزتیں بھی غیر محفوظ رہیں گی۔ ان کے ساتھ غلاموں ایسا سلوک اسی طرح روا رکھا جائے گا مگر سوال یہ ہے کہ عوام کیوں اس پہلو پر غور و فکر نہیں کر رہے۔ انہیں کس بات نے روک رکھا ہے۔ چلیے آج نہیں تو کل وہ سمجھ جائیں گے اور مجھے پوری امید ہے کہ وہ ضرور اپنے حق کے لیے شاہراہ احتجاج پر آئیں گے اور اس وقت تک اس پر موجود رہیں گے جب تک وہ کامیاب و کامران نہیں ہو جاتے۔ اس وقت چونکہ وہ ذہنی طور سے کمزور ہیں مسائل کو اپنی راہ کی رکاوٹ قرار دے رہے ہیں لہٰذا خاموش ہیں، ڈر رہے ہیں، سہمے ہوئے ہیں مگر جب خوف ان کے ذہنوں سے نکل جائے گا وہ اپنی قوت کا مظاہرہ کریں گے۔

یعنی اب انہیں پریشانیوں نے گھیر رکھا ہے ان کے بچوں کو غذائی قلت نے ناتواں کر دیا ہے۔ انہیں تعلیم و صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی کا سامنا ہے لہٰذا وہ سوچ و بچار میں مصروف ہیں۔ ان کے بچے بچیاں غیر محفوظ ہیں وہ گھر سے نکلتے ہیں تو کچھ نہیں پتا ہوتا کہ وہ صحیح سلامت گھر واپس لوٹیں گے بھی یا نہیں۔ اب تو جنسی درندے بھی گھاٹ لگائے ہوئے ہیں۔ اکثر درندگی کے واقعات و سانحات رونما ہو رہے ہیں۔

مؤرخہ نو جنوری بیس ہزار بیس کے ایک معاصر جس کی اشاعت کافی ہے میں ایک خبر چھپی ہے کہ ایک درندہ چھے روز تک ایک سات سالہ بچی کے ساتھ اپنی حویلی میں زیادتی کرتا رہا اس نے اس کو اپنے گھر کے قریب سے اغوا کیا تھا مگر پولیس نے سی سی ٹی وی کی مدد سے اسے جا لیا اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے کہ اس درندے نے بچی کا مستقبل تاریک کرد یا اس کے والدین کو جیتے جی مار دیا۔

عرض کرنے کا مقصد عام آدمی کی زندگی تلخ سے تلخ ہوتی جا رہی ہے۔ اسے بے شمار مسائل نے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ اس وقت اس کے کھانے پینے کی چیزوں تک رسائی انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔ موجودہ حکومت سے بہت سی توقعات تھیں مگر اس نے لوگوں میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے۔ وہ جینے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ کہنے کی بات نہیں واقعی ان کی جمع پونجی اینٹھ لی گئی ہے۔ اگرچہ وہ صبر کرنے کی تلقین کر رہی ہے مگر یقین نہیں آ رہا کہ وہ آنے والے مہینوں یا برسوں میں عوام کو خوشحالی کے گلستان میں دھکیل سکے گی؟

ایسا اس لیے ہے کہ اب اشرافیہ کی طویل حکمرانی پر اعتماد نہیں رہا۔ وہ موجودہ منظر کے پیش نظر بھی عوامی مشکلات میں دلچسپی نہیں رکھتی اسے حکومت بچانے کی فکرلاحق ہے جمہوریت کے تحفظ کے ضرورت ہے۔ وہ جمہوریت جس میں اسے وہ با اختیار ہوتی ہے کہ وہ سیاہ کرے یا سفید۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس جمہوریت کے لیے بے تاب نہیں جو عوام کو بنیادی حقوق دیتی ہو اور شریک اقتدار کرتی ہو۔

بہرکیف چونکہ ابھی ہمیں اسی نظام کے اندر رہنا ہے اور ان ہی حکمرانوں کے زیر اثر رہنا ہے لہٰذا امیدیں بھی ان ہی سے وابستہ کرنا ہوں گی ہو سکتا ہے یہ اپنے مفادات کے حصول کی کھینچاتانی میں کسی ایسی سمت کا رخ کر لیں جو مجموعی طور سے عوام کو خوشیاں دینے کا سبب بنتی ہو۔ لہٰذا دیکھو اور انتظار کرنے کی پالیسی پر عمل کرنا پڑے گا مگر افسوس موجودہ حکومت پر ہے کہ اس نے عوام کو دکھایا بتایا کچھ اور کیا کچھ۔ یقین کیجیے زندگی اجیرن ہو گئی ہے مگر مورد الزام سابقہ حکمرانوں کو بھی ٹھہرایا جائے گا کیونکہ جو سوچ ان حکمرانوں کی ہے وہی پہلے والوں کی تھی۔ مہنگائیوں اور نا انصافیوں کے ذمہ دار سبھی ہیں مگر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ اس طرح کی چیخ و پکار نہیں تھی جو آج سنی جا رہی ہے۔ رشوت کی شرح بلند ترین ہے۔ قبضے، سینہ زوری اور کمیشن خوری کہیں زیادہ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ کوئی کسی کو روک ٹوک نہیں۔

یہاں میں یہ بھی بتا دوں کہ مضافاتی علاقوں کے سرکاری اداروں میں اندھیر مچا ہوا ہے۔ بالخصوص اکاؤنٹس کے دفاتر میں ملازمین سے معمولی کام کے بھی پیسے مانگے جاتے ہیں۔ جوادا نہیں کرتا اسے خراب کیا جاتا ہے۔ یہ ہے تبدیلی سرکار کی اداروں پر گرفت تو پھر کیا بدلا، یہ کہ چہرے بدل گئے مگر انداز حکمرانی نہیں بدلا۔ جیبیں بھرنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے، بیروزگار کرنے کی مشق بھی جاری ہے اور مافیاز کو بھی کھلی چھٹی ہے؟

حرف آخر یہ کہ حکمران طبقات ایک ہی طرح کی سوچ رکھتے ہیں۔ انہیں عوامی خدمت کا صرف نام آتا ہے اور بس۔ یہ نعروں اور وعدوں کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ عوام کی آسودگی ان کے نزدیک اپنی راہ میں گڑھے کھودنے کے مترادف ہے لہٰذا چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں آتی رہیں گی۔ جن کا مقصد ”ساہ کڈانا“ ہو گا مگر امید واثق ہے کہ یہ جب سچی مچی گتھم گتھا ہوں گے تو پھر عوام کی اہمیت کا اندازہ انہیں ہو گا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *