ایک پُرانی غلطی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے ساجدہ کو غور سے دیکھا۔ تھکی ہوئی کسی دیوی کی طرح معصوم لگ رہی تھی وہ۔ چہرے پر تھکن کے ساتھ ساتھ ایک عجب طرح کا اطمینان تھا۔ وہ بے حس، بے ہوش، بے خبر سورہی تھی۔ دنیا و مافیہا سے لاعلم گہری نیند میں نہ جانے کن خوابوں کی نگری میں کھوئی ہوئی تھی۔

تھکا ہوا تو میں بھی تھا مگر ایک بات ہوئی تھی جس نے میری نیند اُڑا دی۔ بار بار میرے دل پر کچوکے سے لگتے اور ذہن ماؤف ہوا جاتا تھا۔ کتنی کامیاب زندگی تھی میری۔ خوبصورت سگھڑ، امیر ماں باپ کی بیٹی جو میری بیوی بنی۔ میں خود ایک انتہائی کامیاب تاجر۔ کیا کمی تھی میری زندگی میں ایک بھرپور کامیاب زندگی گزاری تھی میں نے۔ مگر آج جو کچھ ہوا اورجیسے ہوا اس نے جیسے میرے دل کو ٹکڑے ٹکڑے، ریزہ ریزہ کردیا۔ چین لُٹ گیا اورنیند ایسی غائب ہوئی کہ لگتا تھا کہ اب کبھی بھی نہیں سوپاؤں گا۔ کیا تھا یہ احساس ندامت، شرمندگی؟ اتنے سال کے بعد؟

میں نے ساجدہ کو غور سے دیکھا، معصوم سا چہرا، اس عمر میں بھی اس میں غضب کی جاذبیت تھی۔ موٹے موٹے ہونٹ اور ستواں ناک کا امتزاج ایسا تھا کہ آدمی پاگل ہوجائے۔ کوئی وجہ تھی کہ میں اس کو دیکھنے کے بعد کسی کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھ نہیں سکا۔ میرے دل نے کہا کہ اس کے سرہانے بیٹھ جاؤں، اپنے ہاتھوں سے اس کے بکھرے ہوئے بالوں کو سنواروں، اس کی پلکوں کو چھولوں، ہونٹوں کو چوموں اور اس کے سینے پر سر رکھ کر سوجاؤں، وہ تھی ہی ایسی۔

گزشتہ ستائیس سالوں میں ایک دن نہیں گزرا تھا جب میں نے اس سے محبت نہیں کی تھی۔ اسے نہیں چاہا تھا ایک لمحہ بھی ایسا نہیں تھا کہ جب وہ میرے ساتھ نہیں تھی اور ایک دن بھی مجھے احساس نہیں ہوا کہ میں اسے کبھی کوئی دکھ دے سکتا ہوں، تکلیف پہنچاسکتا ہوں مگر آج جو کچھ ہوا اس کے بعد میں صرف اندر اندر جل رہاتھا، پگھل رہاتھا۔ یہ سوچ سوچ کر کہ مجھ سے نادانستگی میں کیا ہوگیا۔ میرے غرور اور انا سے بنی ہوئی دیوار ریت کی طرح ڈھ گئی تھی۔

تیس سال پہلے میں نے ساجدہ کو طارق روڈ پر دیکھا۔ جب وہ اپنے ڈرائیور کے ساتھ تیز تیز چلتی ہوئی جوتے کی دکان سے نکلی تھی۔ میں ٹنگ نانگ چائنیز ریسٹورنٹ میں دوپہر کا کھانا کھا کر نکلا اور اپنی گاڑی اسٹارٹ کرکے سگریٹ سلگارہا تھا۔ اس نے تو مجھے نہیں دیکھا مگر میں اسے دیکھتا ہی چلاگیا۔ کسی چیزکی کمی نہیں تھی اس میں۔ میں نے تصور، خوابوں اور خیالوں میں جو لڑکی بسائی ہوئی تھی یہ وہی تھی۔

اس کی گاڑی میری گاڑی سے ذرا آگے پارک تھی جیسے ہی اس کے ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کی اور آگے چلا ویسے ہی میں نے اپنی گاڑی اس کے پیچھے ڈال دی، بغیر سوچے سمجھے بس دل کے اشارے پر۔

وہ طارق روڈ سے شہید ملت پر واقع میڈی کیئر اسپتال کے پاس سے گزرتے ہوئے بہادرآباد کی چورنگی سے شرف آباد کی طرف مڑ کر ایک گلی کے خوبصورت سے بنگلے پر رُک گئی تھی۔ میں نے بھی گاڑی اس کی گاڑی سے ذرا پیچھے کھڑی کردی۔ دروازہ کھول کر وہ اُتری اور جیسے میری آنکھوں میں تیرتی ہوئی وہ چَھپ سے کالے گیٹ کے چھوٹے دروازے کو کھول کر اپنے گھر میں داخل ہوگئی تھی۔

تیس بتیس سالوں پہلے والا شرف آباد رہائشی علاقہ تھا جسے بلڈروں کی نظر کھا گئی۔ پیسے کے لالچ نے اب پوری سوسائٹی کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ خوبصورت بنے ہوئے رہائشی مکانات جہاں چار سے آٹھ لوگ سہولت سے رہتے تھے، دیکھتے دیکھتے کئی منزلہ عمارتوں اور فلیٹوں کے کمپلیکس میں بدل گئے ہیں۔ بھونڈے فلیٹس، خراب سیڑھیاں اور بے ہنگم نقشے بناتے وقت شاید یہ سوچا بھی نہیں گیا کہ یہ کیسے نظر آئیں گے، ہوا کہاں سے آئے گی، دھوپ کہاں سے گزرے گی، لوگ کیسے رہیں گے، سامنے کیسا لگے گا۔

یہاں مکان بیچنے والوں نے اپنے جانتے ہوئے مہنگا بیچا، خریدنے والوں نے اپنے پلان کے مطابق کوڑیوں کے دام ہی لگائے، پھر تین تین منزلہ اپارٹمنٹ بلاک کی اجازت لے کر چھ چھ آٹھ آٹھ منزلہ عمارتیں بناڈالی گئیں۔ شہر میں تو آبادکاروں کی ایک زبردست مافیا کام کررہی ہے۔ رہائشی پلاٹوں پر تجارتی عمارتیں بن جاتی ہیں۔ نقشہ کچھ پاس ہوتا ہے، بنانے والے کچھ اوربناڈالتے ہیں۔ سب طرف پیسہ چلتا ہے اور سب شامل ہیں، صوبائی حکومت سے لے کر شہری حکومت تک۔

ان بد شکل بے عمل عمارتوں میں بے شمار لوگ رہنے کے لئے آگئے ہیں۔ جہاں پر خوبصورت بنگلے کے ساتھ لان کا تصوّر تھا، درخت تھے، پودے، پیڑوں اور پھولوں کی بہار تھی وہاں فلیٹس بن گئے تھے، جنہیں لوہے کی جالیوں میں قید کردیا گیا ہے، ہر کھڑکی، دروازہ، روشندان، بالکونی، سیڑھی کو ان لوہے کی جالیوں میں پھنسا دیا گیاہے۔ اب ان جالیوں کے اوپرسوکھنے کے لئے بھیگے ہوئے کپڑے لٹکادیئے جاتے ہیں، قمیض، پینٹ، تولیہ، شلوار، کرتہ، انڈرویئر اور کسی قید فاختہ کی طرح پھڑپھڑاتے ہوئے بریزرز دور سے ہی رہنے والوں کے مزاج کا پتہ دے دیتے ہیں۔ ان فلیٹوں میں رہنے والوں کو شہری زندگی کے بنیادی اصول تک نہیں پتہ۔ گندگی، کوڑے کے ڈھیر، پانی کی بوتلیں اور چیونگم کے جابجا نشانات جہالت، لاعلمی اور بے حسی کی خبریں دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ حشر ہوا ہے اس شرف آباد، بہادرآباد کے علاقے کا جہاں ساجدہ رہتی تھی۔

اس دن گھر دیکھ کر میں واپس آگیا کہ ایک ضروری میٹنگ میں جانا تھا۔ مگر دوسرے دن صبح صبح میں دوبارہ اس کے گھر سے ذرا ہٹ کر اپنی گاڑی سمیت کھڑا ہوگیا۔ صبح سویرے ساڑھے سات آٹھ بجے کا وقت تھا۔ آتے جاتے لوگ دیکھ کرگزر رہے تھے مگر کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ میں اپنی کار میں بیٹھا اُس گھر سے نکلنے والی لڑکی کا انتظار کررہا ہوں۔ پہلے تو میں اخبار پڑھتا رہا جب انگلش اخبار کی خاص خاص چیزیں پڑھ ڈالیں تو گاڑی سے اُتر کر ٹہلتا ہوا بہادرآباد کے روڈ کی جانب گیا کہ آتے جاتے کسی اخبار والے سے ایک اُردو اخبار بھی لے آؤں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *