ووٹ کی عزت کا بیانیہ اب عوام کی امانت بن چکا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی پارلیمنٹ آرمی ایکٹ میں ترمیم کر چکی ہے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع اب نوشتہ دیوار ہے۔ ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے آرمی ایکٹ کی حمایت کے دودھ میں ترمیم کی جو مینگنیاں ڈالی تھیں ان کی بدولت وہ یار لوگوں کی تنقید سے کسی حد تک محفوظ رہی اور تنقید کے سارے نشترہنوز مسلم لیگ ن اور خاص طور پر میاں نواز شریف کی ذات پر برسائے جارہے ہیں۔ ملک کے سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں کی طرف سے کی جانے والی یہ تنقید بے جا بھی نہیں کہ تقریبا چار برس سے میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن نے ووٹ کو عزت دو کا جو بیانیہ اپنایا تھا آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ہنگام غیر مشروط حمایت کا عمل اس بیانیہ کے بالکل برعکس ہے۔

اصولی طور پر دیکھا جائے تو آرمی ایکٹ میں ترمیم ملکی دستور میں ایک خامی کو دور کرنے کا عمل تھا اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع بہت پہلے کی جاچکی تھی۔ سپریم کورٹ کے مقطع میں توسیع کو زیر بحث لائے جانے کی سخن گسترانہ بات نہ ہوتی تو مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف کو اس تنقید کا سامنا ہر گز نہ کرنا پڑتا۔ تاریخ واضح ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار تھا، اب بھی ہے اوریہ رہنا بھی چاہئے لیکن کیاکہئے کہ حالیہ توسیع عوام کے ایک بڑے طبقے اور اہل دانش کے لئے خوش کن نہیں ٹھہری۔ اب خواجہ آصف اس پر جو بھی تاویل پیش کریں وہ عوام کے لئے تو قابل قبول ہر گز نہیں خود ان کی جماعت مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور ارکان پارلیمنٹ کی ایک واضح تعداد اس غیر مشروط حمایت پر برہم ہے۔

خواجہ صفدر مرحوم کے فرزند کی یہ دلیل سچ ہے کہ میاں نواز شریف کی بیماری کے ایام میں ہسپتال کے باہر سو کارکن بھی جمع نہیں ہوتے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ لاہور اور اس کے قرب جوار سے مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی یا سابق ارکان اسمبلی بھی اگر ہسپتال کے باہر موجود ہوتے تو رہنماو ¿ں کو عوام سے یہ شکوہ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ملک میں پارلیمانی بالادستی کے لئے جدوجہد صرف میاں نواز شریف یا مریم نواز شریف کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لئے خود عوام کو بھی ٹوئٹر اور فیس بک کی ٹائم لائن سے نکل کر سڑکوں پر آنا لازم ہے۔

خاکسار کا سوال مگر یہ ہے کہ اقتدار کے گزشتہ ادوار کی تو بات رہنے دیجئے۔ دوہزار تیرہ سے اٹھارہ تک کے دورحکومت میں مسلم لیگ ن نے اپنی جماعت کو منظم کرنے یا کارکنوں کی سیاسی تربیت کے لئے کون سا تیر مارا تھا جو وہ ان سے لاٹھیاں کھانے کی امید کئے ہوئے ہے؟ہمارے ہاں ایک بڑا سیاسی مغالطہ یہ ہے کہ’ طلبا یونین‘ کو سیاست کی نرسری گردانا جاتا ہے لیکن کوئی سیاسی رہنما یہ بتانے سے قاصر ہے کہ طلبایونین اور طلبا تنظیم میں فرق کیا ہے ؟مملکت خداداد پاکستان کرہ ارض پر شاید واحد ریاست ہے جہاں سیاست کی گنگا الٹی بہائی جاتی ہے۔ سیاسی نظام میں بنیادی کردار اور نرسری کی حیثیت مقامی حکومتوں کو حاصل ہوتی ہے لیکن مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے مقامی حکومتوں کے گزشتہ انتخابات سپریم کورٹ کے حکم پر بادل نخواستہ کروائے۔ اس کے باوجود مقامی حکومتوں کا نظام ایسے تشکیل دیا گیا کہ اختیار کی کنجی مقامی نمائندوں کی بجائے وزیر اعلیٰ یا پارٹی رہنما کے ہاتھ میں ہی رہی۔

عوام کو جس نظام کی ملکیت کا احساس نہ ہوگا وہ اس کی حفاظت کے لئے کتنی جدوجہد کر سکتی ہے؟ صورت حال اب بھی وہی ہے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے دعوے سب باطل ثابت ہوئے ہیں۔ دس برس تک پنجاب میںمسلسل حکومت کے باوجود صوبے کے عوام واساکے بل ادا کرنے کے باوجود اپنے گھروں میں صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم اور نجی اداروں سے خرید کر پانی پینے پر مجبور ہیں۔ حکومتوں کے لگائے گئے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی کہانی اگر کوئی تحقیقاتی صحافی لکھنے کی ضرورت محسوس کرے تو چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔ یہ کہنا کہ پنجاب میں عوام کی بہتری کے لئے کچھ نہیں کیا گیا سچائی کے برعکس ہوگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام کی بہتری اولین ترجیح ہوتی تو اس سے کئی گنا زیادہ بہتر کام کیا جاسکتا تھا۔ اب سندھ کے عوام کی بد قسمتی تو آپ پوچھئے ہی مت کیونکہ وہاں بھٹو زندہ ہے اور بھٹو جب تک زندہ ہے پیپلزپارٹی کی حکومت اور اس کے نمائندوں کو کسی دوسرے کی زندگی سے کوئی سروکار نہیں۔

میاں نواز شریف کو خدا صحت سے نوازے کہ ان کے لئے باوفا اہلیہ کی وفات اور آخری لمحات میں ان سے جدائی ایک ایسا جذباتی دھچکا ہے جس سے شاید وہ ساری عمر سنبھل نہ سکیں۔ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کو بھی عاقبت نااندیش لوگوں کے ایک گروہ نے اس وقت تک طنز کا نشانہ بنائے رکھا جب تک انہوں نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپر د نہ کر دی۔ کاش ملک کی سیاسی تاریخ میںیہ سیاہ باب تحریر نہ کیا جاتا جس کی کالک ہمارے ماتھے سے کبھی مٹائی نہ جاسکے گی۔

میری دستیاب معلومات کے مطابق میاں صاحب اس وقت بھی صحت کے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ جس طرح انہیں پابند سلاسل کیا گیا اور بعض صاحبان اقتدار نے بعد میں خود تسلیم بھی کیا وہ طریقہ کار خود نظام انصاف پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ لیکن پھر جس طرح جیل کے دروازے کھلے اور وہ علاج کے لئے بیرون ملک روانہ ہوئے اور اس کے بعد جیل میں پڑے مسلم لیگ ن کے دوسرے رہنماؤں کا کوئی پرسان حال نہ رہا۔ یہ صورت حال بھی بہت سے سوالوں کو جنم دیتی ہے۔ شاہد خاقان عباسی سنگین بیماریوں میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی ضمانت کی درخواست تک دائر کرنے پر تیار نہیں ہیں اور نجی ہسپتال میں خود اپنے خرچ پر دو بار سرجری کے عمل سے گزر چکے ہیں۔ ان کا کیا قصور ہے؟ صرف یہ کہ انہوں نے اپنی سیاسی جماعت اور ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے منحرف ہونے کا گناہ نہیں کیا۔ رانا ثنا اللہ کو منشیات فروش ثابت کرنا شاید اب ممکن نہ ہو گا، بھلے ریاست اپنے پورے وسائل جھونک دے۔ طویل عرصہ گزرنے کے باجود خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی کے خلاف مقدمات انجام کو پہنچنا تو درکنا ر کسی فیصلہ کن موڑ پر بھی نہیں پہنچ پائے لیکن زبان حال سے یہ سب لوگ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ غوث علی شاہ کی طرح یہی کہہ رہے ہوں گے کہ میاں صاحب لندن جانے والے آپ کے قطری جہاز میں اتنی نشستیں تو تھیں کہ ہم بھی سوار ہوسکتے۔ اب احسن اقبال بھی اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں پابند سلاسل ہیں لیکن محترمہ مریم نواز کی ایک ٹوئٹ تک ان کو نصیب نہیں ہوئی۔

ان حالات میں میاں نواز شریف کے پیامبر کا یہ شکوہ حق بجانب نہیں کہ عوام میاں نواز شریف یا ان کے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں غیر مشروط حمایت کے فیصلے پر برہمی کیا اس بیانیے کی حقانیت اور مقبولیت کا ثبوت نہیں؟ میاں نواز شریف کے اس فیصلے کے خلاف خود مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور حامیوں نے جو حشر سماجی ذرائع ابلاغ پر برپا کیا وہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ عوام الناس اپنے ووٹ کی حرمت اور پارلیمانی بالادستی کے خواب میں رنگ بھرنے کے خواہاں ہیں لیکن میاں نواز شریف کے ’غیر مشروط‘ فیصلے نے ان کے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں۔

حالات اچھے ہرگز نہیں لیکن خاکسار مایوس نہیں۔ ووٹ کی عزت اورپارلیمانی بالادستی کا جو خواب عوام نے دیکھا ہے میاں نواز شریف نہ سہی مستقبل میں کوئی اور رہنما اس کا پرچم تھام کر آگے بڑھے گا اور ہم نہ سہی، ہماری نسلیں ہی سہی اس خواب میں رنگ بھرا ہوا دیکھ سکیں گی۔ میاں صاحب آپ کی مجبوریاں آپ کو مبارک، خدا آ پ کو صحت سے نوازے، بے شک آپ پھر غیر مشروط فیصلے کریں لیکن ووٹ کی عزت کے راستے سے عوامی بالادستی کا جو خواب پاکستان کے عوام دیکھ چکے ہیں، آپ بھلے اس سے دستبردار ہوجائیں، عوام اس سے ہر گز دستبردار نہیں ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *