کئی چاند تھے سر آسمان ۔ ایک مطالعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتنے برسوں کے بعد ایک ایسا ناول پڑھنے کو ملا جس نے راتوں کی نیند اڑا دی اور پھر ایک ایک دوست کو پکار پکار کے کہا کہ یہ ناول ضرور پڑھو دیکھو لفظ کیا ہوتے ہیں کہانی کیا ہوتی ہے اور تخلیقی اظہار کیا چیز ہے سب نے پڑھا اور اتفاق کیا قبل ازیں قرۃ العین حیدر کے ناول ”آگ کا دریا“ نے بھی کچھ اسی طور اپنے سحر میں جکڑا تھا یہ ایک حقیقت ہے کہ اردو ادب کا دامن ناول نگاری کے حوالے سے زیادہ زرخیز نہیں ہے، جتنے بہترین ناول لکھے گئے ہیں وہ سب ا نگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔  اگر اردو کے بہترین ناولوں کی فہرست مرتب کی جائے اس میں شمس الرحمن فارو قی کا ”کئی چاند تھے سر آسمان“ یقیناً پہلے دس ناولوں میں شمار ہو گا۔ اس ناول کا عنوان احمد مشتاق کے شعر سے ماخوذ ہے ؛

 کئی چاند تھے سر آسمان کہ چمک چمک کے پلٹ گئے

 نہ لہو ہی مرے جگر میں تھا نہ تمھاری زلف سیاہ تھی

 اس کہانی کا مرکزی کردار وزیر خانم عرف چھو ٹی بیگم ہیں جو دبستان دلی کے نمائندہ شاعر داغ دہلوی کی والدہ ہیں۔  وزیر خانم کے جد امجد راجستھان کے گاؤں کشن گڈھ کے مصور تھے۔  گاؤں میں راجہ کے استقبال کے لئے میاں مخصوص اللہ ایک تصویر بناتا ہے اور اسے گھر کے باہر آویزاں کر دیتا ہے۔  یہ خیالی تصویر راجہ کی بیٹی سے غیرمعمولی شباہت رکھتی ہے جس کے نتیجے میں راجہ اپنی بیٹی کو قتل کرتا ہے اور میاں مخصوص اللہ وطن بدر ہو کرکشمیر آ بستا ہے اور یہاں قالین بافی سیکھ کر اس ہنر کا امام کہلاتا ہے۔  اس کا بیٹا یحییٰ بھی باپ کے پیشے کو آگے بڑھاتا ہے۔  یحیٰ کے بیٹے یعقوب اور داود تجارت اور مو سیقی کو اپناتے ہیں اور باپ کی وفات کے بعد اپنے آبائی گاؤں جا بستے ہیں۔  وہاں دونوں بھائی سادہ کاری اختیار کرتے ہیں۔  یعقوب کے ہاں یوسف کی پیدائش ہو تی ہے۔  یعقوب اور داؤد ا انگریز فوج کا ساتھ دیتے ہوئے مرہٹوں کے ایک حملے میں ہلاک ہو جاتے ہیں اور یوسف کی پرورش ا یک ڈیرے دار طوائف کر تی ہے اور اس کی بیٹی سے یوسف کی شادی ہوتی ہے۔  یوسف کے ہاں تین بیٹیوں کی ولادت ہو تی ہے ؛ انوری خانم عرف بڑی بیگم، عمدہ خانم عرف منجھلی بیگم اور وزیر خانم عرف چھوٹی بیگم۔ وزیر خانم ایک ایسی لڑکی کا کردار ہے جو غیر معمول حسن اور ذ ہانت کی مالک ہے اور نشست وبرخاست کے طریقے بھی خوب جانتی ہے۔  اس کے خواب بہت بڑے ہیں اور وہ شہزادیوں سی زندگی چاہتی ہے۔  اس کی سوچ روایات سے ہٹ کر ہے۔  وزیر خانم کے حسن کی طرح اس کی زند گی بھی غیر معمول نشیب و فراز سے گزرتی ہے۔

 وزیر خانم اور مارسٹن بلیک کے دو بچے ہوتے ہیں، صوفیہ اور امیر مرزا۔ مارسٹن بلیک کے قتل کے بعد وزیر بیگم کا تعلق لوہارو کے نواب شمس الدین الملک سے استوار ہوتا ہے اور نواب مرزا داغ دہلوی کی پیدائش ہوتی ہے۔  نواب کو فریزر کے قتل میں پھانسی ہو جاتی ہے اور چھوٹی بیگم کا پہلا نکاح منجھلی بیگم کے دیور آغا نواب علی سے ہو جاتا ہے اور آغا مرزا تراب علی کی پیدائش ہوتی ہے۔  سفر کے دوران ٹھگوں کے ہا اتھوں نواب کا قتل ہوتا ہے اور چھوٹی بیگم بہادر شاہ ظفر کے ولی عہد مرزا فتح الملک عرف مرزا فخرو کے عقد میں آتی ہے اور شوکت محل کا خطاب پاتی ہے۔  میرزا خورشید عالم کی پیدائش ہوتی ہے۔  مرزا فخرو کے انتقال کے بعد چھوٹی بیگم کو قلعے سے رخصتی کا پروانہ تھما دیا جاتا ہے۔

 ناول انیسویں صدی کے برصغیر کی مکمل تصویر ہے۔  یہ وہ دور ہے جب مغلیہ سلطنت کے تابوت میں آخری کیل گاڑی جا رہی ہے ایک شاندار تہذیب رخصت ہو رہی ہے اور خارجی قوتیں قابض ہو رہی ہیں۔  اس ناول میں مذہب، روایات، زبان، ثقافت، محلا تی سازشیں، آداب، غرض ہر تار کو اس قدر بار یکی سے پرویا گیا ہے کہ ایک ڈوبتی ہوئی تہذیب کی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔  مصنف نے ہر کردار، واقعے اور چیز کو اس باریکی سے بیان کیا ہے کہ ہر منظر متحرک نظر آتا ہے اب وہ قالین بننے کا منظر ہو یا وزیر خانم کا لباس ہو، نواب شمس الدین سے گفت و شنید ہو یا مرزا فخرو سے پہلی ملاقات، کھوجیوں کا واقعہ ہو یا بنی ٹھنی کی تصویر کا بیان۔ ناول کے اسلوب پر داستان امیر حمزہ کا اثر بھی جھلکتا ہے جو کہ افسانہ گوئی کی بہترین مثال ہے۔  تاریخی واقعات کی صحت کا خیال رکھا گیا ہے اور حوالے کتاب میں دستیاب ہیں مگر یہ تاریخی کتاب ہرگز نہیں ہے۔  یہ ناول فکشن اور تاریخ کا خوبصورت اور انوکھا امتزاج ہے۔  ناول میں کرداروں کا بیان انتہائی دلچسپ اور جیتا جاگتا ہے خصوصاً مرزا غالب کا۔ ناول کی زبان سہل نہیں ہے مگر جس زمانے کا یہ بیانیہ ہے اس کے عین مطابق ہے۔

 فارسی کے اشعار اور محاورات کا استعمال کہانی کو مزید نکھارتے ہیں۔  چو نکہ ہمارے ہاں ناول زیادہ نہیں لکھے گئے اس لیے ناول پڑھنے کی روایت بھی پروان نہیں چڑھ سکی اور قاری میں ضخیم ناول پڑھنے کا حوصلہ مفقود ہے۔  بعض مقامات پر قاری کو لگتا ہے کہ واقعات یا کردار کا بیان زیادہ طول پکڑ گیا ہے مگر یہی تفصیل واقعات کا حقیقی رنگ ابھار کر سامنے لاتے ہیں جیسے کہ نواب شمس الدین اور مرزا غالب کی چپقلش کو بہت تفصیل سے لکھا گیا جس سے آئندہ کے ابواب میں اندازہ ہو جاتا ہے کہ داغ دہلوی نے مرزا غالب کی شاگردی کیوں نہیں اختیار کی تقابل لحاظ سے نہیں مگر اردو ادب کے تاریخی ادوار کے مطابق اگر قرۃ العین حیدر کے ”آگ کے دریا“ کے بعد اگر کوئی ناول لکھا گیا ہے تو وہ شمس الرحمن فارو قی کا ”کئی چاند تھے سر آسمان“ ہے۔

 شمس الرحمن فاروقی کی لسا نی اور تحقیقی قوتیں اس ناول میں یکجا ہیں جو اپنی روانی کی وجہ سے قاری کو ناول کے شروع میں اپنی گرفت میں لیتی ہیں اور اختتام تک بری طرح جکڑ کر اپنے طلسم میں قید کر لیتی ہیں۔

یہ ناول ہماری اجتماعی زندگی کے المیے کو سامنے لانے اور حقیقی بنانے کی یادگار کوشش کرتا ہے۔  اس ناول کے ذریعے ہم اس سب سے کہیں بڑھ کر وہ کچھ جاننے لگتے ہیں جسے اب تک محض جاننے کے قابل سمجھا گیا تھا، ان چیزوں سے مختلف چیزیں یاد کرنے لگتے ہیں جنہیں محض یاد رکھنے کے قابل قرار دیا گیا تھا اوراس شے کا تعاقب کرنے لگتے ہیں اور اس کا مطالعہ کرنے لگتے ہیں جس کی تھاہ لانا تو کیا، خبر پانا بھی محال سمجھا جاتا رہا تھا۔ شمس الرحمن فاروقی نے غالب اور داغ کی دلی کی تہذیب و معاشرت نیز روز مرہ، رہن سہن، آلات حرب، طرز زندگی کو فنکارانہ انداز میں اسی عہد کی زبان میں کاغذ پر اتار دیا ہے۔

 

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *