ایران کچھ نہیں کر سکا؟


قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا، ایران کچھ نہ کر سکا۔ امریکہ تڑیاں لگاتا رہا، ایران کچھ نہ کر سکا۔ ایران کو معاشی لحاظ سے کمزور کر دیا گیا، ایران کچھ نہ کر سکا۔ ایران کے اندر قدامت پسندی اور جدیدیت کے نام لیواؤں کے درمیان خاموش جنگ کروا دی گئی، ایران کچھ نہ کر سکا۔ دفاعی لحاظ سے ایران پہ قدغن لگائی جاتی رہی، ایران کچھ نہ کر سکا۔ فقہی چھاپ ایران پہ لگنا شروع ہو گئی، ایران کچھ نہ کر سکا۔ اپنے راہنماؤں پہ عالمی پابندیاں لگوا لیں، ایران کچھ نہ کر سکا۔

امریکہ و یورپ آئے دن نئی پابندیاں لگا دیتے ہیں، ایران کچھ نہ کر سکا۔ امریکہ نے بدی کا محور قرار دے دیا، ایران کچھ نہ کر سکا۔ ایران دوسرا عراق ثابت ہو رہا ہے، ایران کچھ نہ کر سکا۔ یعنی ہمارے پاس ایک طویل فہرست ہے ایران کی ناکامیوں کی اور حالیہ تازہ ترین ایران کی ناکامی یہ ہے کہ ایران نے اپنے جنرل قاسم سلیمانی کا بدلہ لینے کے لیے ”عملیات سلیمانی“ کیا اور دو امریکی فوجی اڈوں کو عراق میں نشانہ بنایا۔ غیر جانبدار ذرائع امریکہ کے نقصان کے تصدیق نہیں کر رہے، چلیے جی خوشی مناتے ہیں، بھنگڑے ڈالتے ہیں، مبارکباد دیتے ہیں کہ ایران تو کچھ نہیں کر سکا، امریکہ کا کوئی نقصان نہیں کر سکا، امریکہ کو جھکا نہیں سکا۔ واہ واہ مزہ آ گیا، کیا بات ہے کہ دو درجن میزائیل مارے لیکن ایک امریکی فوجی بھی نہیں مارا جا سکا۔

یہ بطور اُمت ہماری پستی کی علامت ہے کہ ہم بغض ایران میں حب امریکہ کا تمغہ سجائے بیٹھے ہیں اور اس شاداں و نازاں ہیں۔ ہم قاسم سلیمانی کو نشانہ بنائے جانے کو فقہی و گروہی و علاقائی اختلافات کے ترازو میں ڈال رہے ہیں اور ایرانی حملے کو ناکام ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ یہی صورت حال رہی تو کل کو جو اسرائیل کے مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے بیانات ایران دیتا رہتا ہے اگر ایسا کر گیا تو ہم تو شاید اس وقت بھی ایران کے خلاف اسرائیل کے حملہ ناکام بنا دینے کا جشن منا رہے ہوں گے۔

مجھے تو حیرت اس بات پہ ہے کہ ہم تصور کیے بیٹھے ہیں کہ ہمارے دشمن امریکہ و اسرائیل ہیں۔ ہم تو اپنے دشمن خود ہیں۔ قاسم سلیمانی کو راہ سے ہٹانے کے لیے آنے والے ڈرون پہ کیا کوئی سنی شیعہ کا پرچم لہرا رہا تھا؟ داغے جانے والے میزائیل پہ کیا تحریر تھا کہ یہ میزائیل شیعہ قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے جا رہا ہے؟ اور اب اگر ایران نے میزائیل داغے تو کیا ایران نے میزائیلوں کو سمجھا کے بھیجا کہ تم صرف شیعوں کی طرف سے جا رہے ہو؟

اُمت نامی غبارے سے ہوا ہم خود نکال رہے ہیں۔ ہم اُمت کو اپنی ذات تک محدود کر رہے ہیں۔ ایران کچھ نہیں کر سکا، کی بغلیں بجانے سے باہر نکلیے تا کہ آپ کو اندازہ ہو کہ آپ کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔ ایران سپر پاور کے سامنے کم از کم کھڑا ضرور ہے اور یہ کھڑا ہونا ہی اہم ہے۔ بیس سے تیس سال قبل کی مضبوط ترین اسلامی طاقتوں عراق، شام، ترکی، ایران، پاکستان، لیبیا میں سے عراق، شام، لیبیا کو تو کھنڈرات میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔

ترکی کیوں کہ اکھڑ مزاج گھوڑا ہے، قابو میں کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ باقی بچ گئے ایران اور پاکستان۔ ایران پہ حالیہ تنگ ہوتے گھیرے کو اک لمحے یہ سوچ کے دیکھیے کہ یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے۔ اگر تو ایران پہ سلسلہ رک جائے اور باقی مسلم اُمہ کو ضمانت مل جائے کہ ستے وی خیراں توہم بھی جشن منا لیتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں تو ہوش کے ناخن لیجیے۔

ایرائی میزائیلوں نے جانی نقصان کیا یا نہیں لیکن امریکی صدر یہ کہنے پہ کیوں مجبور ہو گئے کہ وہ جنگ نہیں چاہتے۔ ضرب کاری لگی ایران پہ کوئی شک نہیں، لیکن آپ اس حقیقت سے یکسر انکار کیوں کرتے ہیں کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کو کوئی ایسی چوٹ دی ہے کہ جس کی وجہ سے امریکہ اس انتہائی قدم پہ مجبور ہو گیا۔ آپ اس میزائیل حملے تک اپنی سوچیں محدود کر چکے ہیں۔ لیکن آپ لبنان، یمن، عراق، شام کی پراکسی وار کو نہ جانے کیوں بھول بیٹھے ہیں۔ ایران یقیناً کچھ نہیں کر سکا، لیکن ایسا کیا اچانک ہوا کہ امریکی اتنے اہم عہدیدار کو راہ سے ہٹانے پہ مجبور ہو گئے؟ ایران کچھ نہیں کر سکا، تو کون ہے جس نے اتنے ناکوں چنے چبوا دیے کہ یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑ گیا؟

اسرائیل خود کو اس واقعے سے الگ قرار دے رہا ہے، امریکہ جنگ نہیں چاہتا۔ روس کے صدر ولادی میر پوٹن ایرانی حملے کے بعد شام ترکی کے دورے پہ جا پہنچے۔ فرانس کے صدر سے حسن روحانی کی گفتگو اہمیت کی حامل ہے۔ نیٹو بچے کچھے ممالک جن کی فوجیں عراق میں موجود ہیں انہوں نے واپسی کا عندیہ دے دیا ہے۔ عراق ایک محکوم اور تباہ حال ملک کی پارلیمنٹ امریکی فوج کی واپسی کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔ عالمی مارکیٹ مین تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اور یہ قیمتیں بڑھنا مضبوط ترین ہونے کے دعویداروں کو بھی پریشان کر رہا ہے۔ دنیا بھی کی اسٹاک مارکیٹس تنزلی کا شکار ہو گئی ہیں۔ پھر ہم نہ جانے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایران کچھ نہیں کر سکا۔ شدت پسندی کا ناسور عراق و شام کو قابو کر چکا تھا۔ آج وہ ناسور کہاں ہے؟ پراکسی وار جسے ففتھ جنریشن وار کا جدید نام دیا جاتا ہے اس میں فاتح بن کے کون سامنے آ رہا ہے مشرق وسطیٰ میں؟

ایران سے اختلاف بہت سے معاملات میں موجود ہے اور رہے گا۔ لیکن اس اختلاف میں دشمنوں کے ہاتھ مضبوط نہ کیجیے۔ ایران کے میزائیل کسی امریکی فوجی کو مار پائے یا نہیں اس خوشی کے بجائے اس بات پہ بحث کیجیے کہ کم از کم مضبوط ترین دفاعی نظام کے باوجود اڈوں تک میزائیل پہنچ گئے۔ مقابلہ ایک اور سو کے تناسب سے بھی ہو لیکن فرق یہ نہیں پڑتا کہ مقابل سو ہیں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جو ایک ہے وہ کھڑا ہے یا بھاگ گیا۔

آپ ایران سے اختلاف رکھیے لیکن بطور مسلم اُمہ کی اکائی کے امریکہ کا ساتھ بھی نہ دیجیے۔ ایران کو خوب لعن طعن کیجیے لیکن اس لعن طعن کا رخ امریکی نقصان نہ ہونے کی خوشی کی طرف نہ موڑیے۔ امریکہ آپ کو ایک ایک کر کے مار رہا ہے اور مارتا رہے گا جب تک آپ خود مرتے رہیں گے۔ آج جو جو ایران کے خلاف امریکی اقدام پہ خاموش ہے وہ جرم میں شریک ہے۔ ایران کے سعودی عرب سے اختلافات ہیں تو انہیں ختم کرنے کی سبیل سوچیے نہ کہ ایک دوسرے کو مار پڑتی دیکھ کے خوشی منانا شروع کر دیں۔ فرقہ واریت اپنی سوچ میں سے ہمیں ختم کرنا ہو گی تب ہی یہود و نصاریٰ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ایران کچھ نہیں کر سکا؟

  • 15/01/2020 at 11:57 صبح
    Permalink

    a biased column. No words or condemnation for passenger aircraft shot down by Iran.

Comments are closed.