آخر پھٹتے آموں کے کیس میں ایسا ہے کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنرل ضیا کے بیٹے اعجاز الحق نے محمد حنیف کو ایک ارب روپے کا ہتکِ عزت کا لیگل نوٹس بھیجا جبکہ آئی ایس آئی سے ہونے کا دعویٰ کرنے والے کچھ لوگ کتاب کے اردو ترجمے کی کاپیاں ضبط کرکے لے گئے۔ اعجاز الحق کا آئی ایس آئی کی مدد سے منظرِ عام پر آنے والا ردِّ عمل ہمیں بتاتا ہے کہ ضیا کا برین چائلڈ آج بھی زندہ ہے اور اس ملک سے آمریت کاخاتمہ نہیں ہو سکا۔ پاکستان میں سویلین اداروں کی بالادستی قائم نہیں ہوسکی۔ یہ ایک ایسی بادشاہی وراثت ہے جو ایک ملٹری جنریشن سے دوسری کو منتقل ہوتی آئی ہے۔

جنرل ضیا مذہب اور خدا کے اتنے قریب تھے کہ مذہبی جماعتیں ان کو ”مردِ حق ضیإ الحق“ کہہ کر پکارتیں۔ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرونک سب جنرل ضیا کی مٹھی میں تھا۔ پاکستان ٹاٹمز ہر وقت جنرل ضیا کی تصویروں سے بھرا رہتا۔ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اخترعبدالرحمن خان جنرل ضیا کے سب سے زیادہ قریب تھے بہت عرصہ تک وہ اپنے آپ کو پاک سرزمین کا دوسرا طاقتور ترین انسان سمجھتے رہے لیکن بہت عرصہ بعد یہ راز اُن پر کھُلا کہ جب ساری طاقت ملک کے سب سے طاقتور انسان کے حصّے میں آئی ہو تو پھر دوسرے طاقتور انسان کے پاس بچتا ہی کیا ہے۔ ضیإ نے امریکہ کے ساتھ مل کر اسلام دشمن کمیونسٹ روسیوں کو افغانستان سے نکالا۔ جنرل اختر نے اس آپریشن میں معاون کردار ادا کیا۔

”پھٹتے آموں کا کیس“ دراصل آمریت کی کہانی ہے اور محمد حنیف آمریت کا تاثر قارئین پر چھوڑنے میں بہت حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ کہانی میں دو قسم کا بیانیہ ملتاہے۔ ایک کا تعلق جنرل ضیا کی ذاتی زندگی سے ہے اور دوسراسیاسی زندگی سے۔ دونوں صورتوں میں لکھاری اپنے تخیل کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ہمیں بتاتا ہے کہ جہاز کے حادثے کے بعد مسخ شدہ لاشوں کو جب دفن کیا گیا ہو گا تو کون کہہ سکتا ہے کہ آئی ایس آئی امریکی سفیر اور ضیا کے باقیات کی آمیزیش ہر ایک قبر میں موجود نہ ہوگی۔

محمد حنیف اپنے ناول میں بدرجہ مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے جنرل ضیإ کا کیریکیچر (caricature) پیش کرتے ہیں۔ جنرل ضیا کی وضع قطع ایسی تھی کہ درمیان سے مانگ نکالتے۔ مونچھیں مسکراتے ہوئے رقص کرنے لگتیں۔ سورج کی روشنی پڑتے ہی مردِ مومن کی چوٹی فخر سے چمکنے لگتی۔ جہاز کی پرواز سے کچھ دیر پہلے فوٹو گرافر جنرل ضیا کی آخری تصویر لیتا ہے۔ جنرل ضیإ اپنا پیٹ اس طرح اندر کھینچ لیتے ہیں جیسے اُنکو قبض کا شدید مسئلہ درپیش ہو۔ ۔ ضیإ کا خاکی سکوئیڈ جہاز کی جانب بڑھتا ہے جس میں غالباً بارودی آموں کی پیٹی رکھی گئی ہے۔ پرواز کے 4 منٹ بعد جہاز حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔

جنرل ضیإ ایک ایسا بے بس آدمی ہے کہ ویسے تو سب اس کے رعب و دبدبے میں ہیں لیکن خاتونِ خانہ کو سنبھالنے کا گُر نہیں جان سکا۔ شادی کی رات جنرل ضیإ کے چچا انہیں روایتی بلّی والی مثال دیتے ہیں کہ بلّی کو اس کے انجام تک پہنچانے میں تم ہی پہل کرنا۔ جنرل ضیا اُس رات بِلیّ نہ مار سکے اور گھریلو سیاست کی شطرنج ہار گئے اور ساری زندگی ایک سہمے ہوئے شوہر کی مانند گزاری جبکہ اپنے سیاسی کیرئیر میں اُنہوں نے بہت سی بلیاں ماریں۔

خاتونِ اوّل کو سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں وہ یا تو چلڈرن فیسٹول میں شرکت کرتی رہتیں یا فہم القرآن کی تقاریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کی جاتیں۔ خاتونِ اوّل ریڈر ڈائجسٹ میں سے دلچسپی سے خاص کر اس فیچر آرٹیکل کا مطالعہ کرتیں جو شوہر کے ناشتے کی میز پہ چیخنے سے بے وفا ہونے تک گھر گرہستی چلانے میں پیش آنے والے تمام مسائل کو چٹکی بھر میں حل کرنے کے ٹوٹکے بتاتا ہے۔

جنرل ضیا اک ایسے دیسی بورژوا ہیں جو قرآن کا ترجمہ بھی انگریزی مگر اپنی دیسی طرز میں پڑھتے ہیں۔ مغربی طرزِ لباس کے سخت خلاف ہیں لیکن ایک سٹیٹ مین کا لباس مغربی ہی ہونا چاہیے۔ جنرل ضیإ ویسے تو امریکیوں سے ان گنت ڈالر بٹور تے رہے ہیں لیکن اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ میز پر کھانا حلال ہونا چاہیے۔ عورتوں اور سیکس سے اُنکو شدید نفرت تھی۔ اس لئے جب بھی کوئی امریکی رپورٹر پُش اپ براز (push۔ up bras) پہنے انہیں گلے سے لگاتی تو وہ نظریں ملانے کی جسارت نہیں کرتے ہاتھ بھی اتنی گرمجوشی سے نہیں ملا پاتے جتنا وہ باقی مردوں سے ملاتے۔

اپنے ہاتھوں کی صرف چار انگلیاں استعمال میں لاتے تاکہ ہاتھ ملانے سے انکاری بھی ہو سکیں۔ لیکن جب امریکی رپورٹر اُنکے گال چوم کر اُن کو اپنے سینے سے لگاتی تو وہ اس خاتون کی انگیا کی سٹرپس پر اپنی ٹھوڑی ٹکائے آنکھیں بند کر کے لمبی گہری سانسیں لیتے۔ انٹرویو کے دوران جنرل ضیإ کی نظریں مسلسل اُس رپورٹر کی چھاتیوں کے ابھار پر جمی رہتیں۔ لیکن پاکستان ٹائمز کے صفحات پر کسی ننگے سر والی عورت کی تصویر لگانا سخت منع تھا۔ کیونکہ جنرل ضیإ کا یہ ماننا ہے کہ ننگے سر والی عورت کو دیکھنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے جبکہ ضیإ ایسے مردِ مومن تھے کہ شام تک ان کا وضو قائم رہتا۔

جنرل ضیإ کو نماز میں بہت رونا آتا لیکن ہم اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتے کہ انہیں رونا کس بات پر آرہا ہے۔ خوفِ خد 1 پر۔ اپنے اس قدر مظلوم شوہر ہونے پر یا ملک کی نازک صورتحال پر۔ جنرل ضیا کے طبیب کسی سائے کی مانند ہر دم ضیإ کے ساتھ رہتے ہیں۔ جنہیں ہنسنے اور بولنے کی اجازت نہیں لیکن اپنے دل میں وہ یہ ضرور سوچتے کہ جتنی نگہداشت حاکم اپنے عضوِ تناسل کی کرتے ہیں اگر اتنی ہی توجہ حکومتی معمولات پر دی جائے تو ملک کی حالت سُدھر سکتی ہے۔

ضیإ ویسے تو چٹائی اور چارپائی جیسی فقیرانہ زندگی کے قائل ہیں مگر کبھی کچھ دستور کے تقاضے بھی آڑے آجاتے ہیں۔ جنرل ضیإ اپنے آپ کو خلیفہ دوم حضرت عمرؓ سے مماثل قرار دیتے ہیں۔ وہ اس بات کا بہت خیال رکھے ہوئے ہیں کہ دجلہ کے کنارے کوئی کتّا پیاسا نہ مرے یہی سوچتے ہوئے انہوں نے بہت سے کُتّے امورِ سلطنت چلانے کے لئے تعینات کر رکھے ہیں۔

انکی نظر میں سیاست ایک ایسی شطرنج ہے جس میں درست یا غلط معنی نہیں رکھتا۔ قابلیت معنی نہیں رکھتی۔ جو چیز معنی رکھتی ہے وہ یہ کہ کس نے کتنی کمال مہارت سے ڈپلومیسی کا سہارا لیتے ہوئے یہ کھیل کھیلا۔ سیاست کی اس شطرنج میں جنرل ضیإ اور امریکہ نے ایک دوسرے کا کتنا استعمال کیا یہ فیصلہ ہم قارئین پہ چھوڑتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *