سندھ بیٹیوں کے لیے مقتل گاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیکھا جائے تو بیٹیاں کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ چاہے وہ مغربی ممالک ہوں یا مشرقی ممالک، مذہبی ریاستیں ہوں یا غیر مذہبی ریاستیں۔ مسلم ممالک ہوں یا غیر مسلم ممالک۔ دنیا کے ہر کونے میں ہر روز ہر وقت ہر پل کہیں نہ کہیں بنت حوا ظلم و جبر کا شکار ہو رہی ہوتی ہے۔ پر کیوں؟ ہمارے معاشرے میں ایک عجیب و غریب روایت ہے کہ جیسا بھی ہو صحیح ہو یا غلط ہو اسے نصیب یا تقدیر کا لکھا ہوا مان کر ابرؤں پر بل لاکر برداشت کیا جاتا ہے۔

لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یے سب مقدر کا لکھا نہیں ہوتا کہ صرف بنت حوا ہی ابن آدم کے ہاتھوں ظلم و جبر کا شکار ہوتی رہے۔ اگر تھوڑی دیر کے لیے مان بھی لیا جائے کہ یہ سب تقدیر کا کھیل ہے تو پھر بیٹیوں کے لیے ہی ایسا نظام کیوں؟ بیٹوں کے لیے کیوں نہیں؟ تقدیر صرف بیٹی کے ہی خلاف کیوں؟ بیٹے کے خلاف کیوں نہیں؟ کسی مصنف نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ

غیرت کے نام پہ فقط بیٹی ہی قتل کیوں؟

مارا ہو باپ نے کوئی بیٹا مثال دو۔

ہمارے وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جسے آج کل ریاست مدینہ بھی کہا جانے لگا ہے۔ بیٹیاں کچھ زیادہ ہی غیر محفوظ ہیں۔ کبھی غیرت کے نام پر تو کبھی جنسی زیادتی کے بعد بیٹیوں کا قتل ہونا عام سی بات ہے اور پاکستان کے صوبہ سندھ میں تو جیسے کہ بیٹی پیدا ہی مرد کی غلامی اور زیر دست کام کرنے کے لیے یا اپنے گھر میں نوکرانی کے فرائض سرانجام دینے کے لیے ہوتی ہے۔ بیٹیوں کے لیے سندھ میں آج تک ماضی سے کالی تاریکیاں چلی آنے والا سلسلہ رک نہیں پایا ہے۔

انسانی ذہنیت جہالت میں ملبوس ہو کر اکثر طور پر غیرت کا نام دے کر کبھی بہن، کبھی بیوی تو کبھی بیٹی قتل کرواۓ دیتی ہے۔ لوگ خود کے اعمالوں پر نظر نہیں ڈالتے کہ اس نے کون سی نیکیوں کے گلستان آباد کیے ہوئے ہیں۔ سندھ میں غیرت کے نام پر کتنی بیٹیاں، کتنی بیویاں، کتنی بہنیں قتل کر دی گئی ہیں اس کے بارے میں کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ کوئی گنتی نہیں کر سکتا۔ بس یوں کہا جا سکتا ہے کہ سندھ کا کوئی بھی ایسا قبرستان نہیں ہوگا جس میں غیرت کے نام پر قتل کر دی گئی بیٹی، بہن یا بیوی کی قبر نا ہو۔

جس کی اہم وجہ تعلیم کی کمی ہے اور ہماری سندھ میں تو اس ترقی یافتہ زمانے میں بھی کئی قبیلوں اور مختلف علاقوں میں لڑکیوں کو تعلیم دلانا غیرت کا کام نہیں کہا جاتا ہے۔ بلکہ بے غیرتی اور بے حیائی کا کام کہا جاتا ہے۔ اب ایسے سماج اور ایسے حالات میں کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ بیٹیاں محفوظ ہوں۔ لڑکیوں سے زنا بالجبر انہیں مختلف مقاصد کے لیے اغوا کرنا یا غیر رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہو جانا تو علیحدہ مسئلے ہیں۔

ہمارے ہاں لڑکیوں کی جانیں اپنے والدین، بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے ہاتھوں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ آئے دن ٹی وی، انٹرنیٹ یا اخبار سے پتہ چلتا ہے کہ فلاں جگہ فلاں شخص کے ہاتھوں غیرت کے نام پر لڑکی قتل ہو گئی اور پھر باشعور لوگ اس کو انصاف دلانے کی اپنی اپنی حیثیت کے حساب سے اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور کچھ لوگ جو جہالت کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں جو کہ شعور کی روشنی سے محروم رہ گئے ہیں وہ قتل جیسے سنگین گناہ اور غیر اخلاقی عملیات کو بھی سراہتے ہیں اور اکثر طور پر غیرت کے نام پر قتل ہونے والوں کے پیچھے اسباب کچھ اور بھی ہوتے ہیں۔

مثلاً جائداد کے معاملے، رشتہ داری کے معاملے اور یہاں تک کہ کبھی کبھار پیسوں کی وجہ بھی شامل ہوا کرتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ سندھ کے شہر گھوٹکی میں بھی پیش آیا ہے جہاں پر ایک بے رحم اور جہالت میں ملبوس شخص کی جانب سے اپنی بھتیجی انٹر کلاس کی طالبہ مہک ساجدہ ولد عطا محمد چاچڑ کو اغوا کے بعد قتل کر کے نعش کو دریائے سندھ میں بہا دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس حوالے سے مقتولہ طالبہ کے والد عطا محمد چاچڑ کی جانب سے عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ”سندھ سہائی ستھ“ کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ دھاریجو کے مقتولہ کے گھر پہنچنے پر انہیں بتایا کہ میرا ماضی کرمنل ایکٹوٹیز میں رہا۔

لیکن میں نے سب چھوڑ کر اپنے بچوں کو تعلیم دینے کے لیے جدوجہد شروع کی۔ جو بات میرے بھائیوں کو پسند نہ تھی۔ میرا بھائی مہک ساجدہ کے اسکول جانے اور اس کے اس کے بیٹے سے شادی کے انکار پر بہت ناراض تھا۔ کئی بار اس نے پہلے بھی ساجدہ کو مارنے کی کوشش کی۔ مہک ساجدہ کے والد کا مزید کہنا تھا کہ بیٹی کو اسکول پڑہانے پر میرا بھائی غلام محمد مجھے بےغیرت کہتا تھا۔ اس دن ہم شادی کی دعوت پر تھے کہ غلام محمد نے اپنے ساتھیوں سے ملکر مہک ساجدہ کو اغوا کر کے قتل کیا اور لاش دریا سندھ میں بہادی۔

یہ سندھ میں کوئی نئی بات نہیں ہے اور نعش کو دریا میں بہا دینا بھی کوئی نیا عمل نہیں ہے۔ لیکن ان سب انسانیت سے گرے ہوئے عملیات کا حل کیا ہے۔ ایسے واقعات سے سماج اور بیٹیوں کو کیسے محفوظ کیا جائے؟ آخر اس جہالت میں پھنسے ہوئے معاشرے کو روشنی کی طرف کیسے گامزن کیا جا سکتا ہے؟ آخر کب تک بنت حوا ظلم و جبر کے تاب سہتی رہے گی؟ ہمارے معاشرے میں انصاف ملنا بھی آسان نہیں ہے۔ ہمارے ملک کا عدالتی نظام بھی بہت سست رفتار سے چل رہا ہے۔ قانون لاگو کرنے والے باقی ادارے تو اس سے بھی پیچھے ہیں۔ جو کہ وڈیروں، سرمایہ داروں اور با اثر شخصیات کے اشاروں پر بھی آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ تو کبھی جیب گرم ہونے پر بھی آنکھیں بند کر لیتے ہیں یا ادھر کی بات ادھر اور ادھر کی بات ادھر کر لیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ارشاد رستم کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *