بوٹا رام بھون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکپتن کی قدیم ڈھکی (جس پہ چودھویں صدی کے مشہور صوفی بزرگ اور پنجابی شاعر بابا فرید گنج شکرکی درگاہ ہے ) کا طواف کرتی گول سڑک سے آپ منڈی کی طرف نکلیں تو بائیں طرف آپ کو بوٹا رام کی حویلی ملے گی۔ وقت کی دھوپ نے اس کے سب رنگ اڑا دیے ہیں۔ درو دیوار پہ اداسی کا بے رونق ڈیرہ ہے۔ یوں لگتا ہے اس کے مکینوں کو ان دیواروں سے ذرا سی بھی الفت نہیں۔ مکینوں کو کیا دوش دیں لگتا ہے اس گھر سے اس پورے شہر نے سوتیلوں سا سلوک کیا ہے۔ تبھی تو منہ بسورے کھڑا ہے۔ پورے بھون نے لمبی چپ سادھ رکھی ہے۔ بس اس کے صدر دروازے کے بائیں طرف ایک سنگ مر مر کی تختی ہے جو بولتی بھی ہے۔ ہر اس شخص سے بات کرتی ہے جو ذرا قریب آ کر اس پہ ایک نظر ڈال دیتا ہے۔

پاکپٹن میں بستے اس ہندو خاندان کے بارے شاید یہاں کے بزرگ جانتے ہوں۔ لیکن یہ حالات کا مارا محل ہر مسافر کو اس خاندان کے متمول ہونے کی خبر دیتا ہے۔ جب ملک آزاد ہوئے تو اس گھر کے بستے لوگ برباد ہو کر نہ جانے کہاں چلے گئے۔ رب جانے یہاں سے نکل بھی پائے یا اسی مٹی میں خاک ہوئے۔

کتنے چاؤ سے مرمریں پتھر ترشوا کر اپنی پہچان کی مہر ثبت کی تھی اس شہر میں۔ انہیں کیا خبر تھی کہ یہ گھر اور یہ شہر ان کے لئے یوں اجنبی بن جائیں گے کہ وہ ایک بار مڑ کر دیکھ بھی نہیں سکیں گے۔ پتھر پہ کنندہ بس نام رہ جائیں گے۔ پہچان کھرچی جائے گی۔ ان کے وجود، جنم بھومی سے ان کی محبت، شہر بھر میں ان کی شان و مرتبہ سب کو جب دیس نکالا ملا تو وہ سمٹ کر ایک بے جان پتھر پہ خاموش لفظوں میں ڈھل گئے۔ پتھر بھی تو ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔

اس حویلی میں رین بسیرا کرنے والوں نے عبارت کو ہندی، اردو، گورمکھی اور انگریزی چاروں بھاشاوں میں لکھوایا تھا۔ جیسے ہندوستان، پاکستان اور انگلستان کے سب لوگوں کو بتا رہے ہوں کہ دیکھو یہ کبھی ہمارا گھر تھا۔ سامنے سے گزرتی سڑک ہمارے نام سے پہچانی جاتی تھی۔ اور دائیں بائیں بل کھاتی گلیوں میں کبھی ہمارے قدموں کی دھمک تھی۔ انہی گلیوں میں پریوار کے سبھی بچے کھیلا دوڑا کرتے تھے۔ ہم اسی شہر کے باسی تھے۔

سنگ مرمر نے جو لفظ اپنے سینے میں گاڑے ہیں وہ بتا رہے ہیں کہ یہ بوٹا رام بھون ہے۔ اس بوٹا رام کا ٹھکانا ہے جو لالہ گیان چند اڑوڑہ مدان کا بیٹا ہے۔ پاکپٹن شہر ہے۔ ضلع منٹگمری ہے (جس نے حکمران انگریزوں کے جاتے ہی ان کا نام بھی اتار پھینکا اور نئے ملک میں نئے نام ساہیوال کا شناختی کارڈ بنوا لیا) ۔ ساتھ ہندو دیسی کیلنڈر کا سال 1992 بکرمی لکھا ہے جو انگریزی کا 1935 ہے۔ نیچے بوٹا رام کے بیٹے ٹیک چند ملکھراج کا نام بھی کنندہ ہے۔ ملکھراج اگر اس تختی پہ اردو اور انگریزی نہ لکھواتا تو شاید یہاں اس پہ لکھی ہندی اور گورمکھی کو کوئی سمجھ نہ پاتا۔ سنگ مرمر گونگا ہی رہ جاتا۔

سوچتا ہوں نہ جانے کیوں ہندی اور گورمکھی زبانوں کو بھی ہم نے یہاں سے نکال کر بارڈر پار دھکیل دیا۔ زبانوں سے نفرت کیوں ہوئ؟ کیا وہ زبانیں بھی ہندو اور سکھ تھیں؟ اگر تھیں بھی تو کیا ہندو اور سکھ ہونا کوئی جرم ہے؟ اسی مٹی سے جنم لینے والی ان زبانوں پہ نفرت اور بے رخی کے بادل کیوں چھا گئے؟ زبانیں تو انسانوں کو قریب لاتی ہیں۔ دل کی بات دل میں اتارتی ہیں۔

اب رب جانے یہ بات کہاں تک سچ ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قیام پاکسان سے قبل لالہ گیان چند اڑوڑہ کے خاندان کی یہ حویلی کانگریس کا مقامی دفتر تھی۔ یہاں کے مقامی ہندو کانگریس رہنماؤں کے یہاں اجلاس ہوا کرتے تھے۔ 1945 ء الیکشن کے دوران بھوٹا رام کانگرس کے مقامی جنرل سیکرٹری تھے۔ سیانے آدمی تھے آنے والے حالات کو بھانپ گئے تھے لہذا کمیٹی کے سامنے انہوں نے مشورہ رکھا کہ اب اس دفتر کو تبدیل کیا جائے گا۔ انہیں یہ گھر بہت پیارا تھا۔

لیکن حالات نے ایسی کروٹ لی کہ کئی بوٹا راموں کی سیانف اور دانش مندی مات کھا گئی۔ ہجرت کے اس موسم میں ایسی لو چلی تھی کہ اڑتے پنچھیوں کے نہ صرف پر جلتے تھے بلکہ انہیں کوئی راستہ یا منزل سجھائی نہ دیتی تھی۔ بوٹا سنگھ کو بھی ان دیکھی سمتوں میں راہ ٹٹولنا پڑی۔ اس حویلی، شہر، دیس کو چھوڑنے کے سوا دوسرا کوئی بھی راستہ نہیں تھا۔

صدیوں سے اسی مٹی سے رزق ڈھونڈتے اور اسی خاک میں راکھ ہونے والے یہ باشندے آن کی آن میں پردیسی ہو گئے۔ انہیں یہ خبر نہ تھی کہ لکیر کھنچے گی تو وہ لکیر کے غلط سائیڈ پہ کھڑے ہوں گے۔ ان کی جڑیں یکلخت اس دھرتی سے کٹ جائیں گی۔ اور یہاں کی ہر چیز ان سے منسوب ہر شے کی دشمن بن جائے گی۔

پچاسی سال قبل بنے اس گھر میں اب ایک مسلمان خاندان بستا ہے۔ سڑک والے حصے میں دروازے کھڑکیاں نوچ کر شٹر لگا دیے گئے ہیں جہاں اب ٹائروں کو پنکچر لگتے ہیں اور برائلر مرغیوں کا گوشت بکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 48 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *