خودکشیاں اور تبدیلی خان کے اقدامات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ میں ایک تحقیق کی گئی ہے جس کے مطابق اگر محنت کشوں کی تنخواہوں یا معاوضوں میں صرف ایک ڈالر کا اضافہ بھی کر دیا جائے تو اس سے خودکشی کی شرح میں 6 فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ اٹلانٹا، جیورجیا کی ایموری یونیورسٹی میں کی گئی اس تحقیق میں 1990 سے لے کر 2015 تک، امریکہ کی 50 ریاستوں میں بے روزگاری، کم سے کم تنخواہوں / معاوضوں اور اس بارے میں حکومت کے پالیسی فیصلوں میں ردّ و بدل کے ساتھ ساتھ کم آمدنی والے طبقے میں خودکشی کی شرح کا جائزہ لیا گیا۔

کم آمدنی والے ان لوگوں کی عمریں 18 سے 64 سال کے درمیان تھیں اور وہ کم تعلیم یافتہ بھی تھے، تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر امریکی حکومت 2009 سے 2015 کے معاشی بحران میں کم سے کم تنخواہوں / معاوضوں میں صرف 1 ڈالر کا اضافہ کردیتی تو اس سے 13,800 افراد کو خودکشی کرنے سے باز رکھا جاسکتا تھا اور اگر یہ اضافہ صرف 2 ڈالر ہوجاتا تو اس کی بدولت 25,900 افراد خودکشی کرنے کے بجائے زندہ رہنے کو ترجیح دیتے۔

10 جنوری کو ایک موقر روزنامے نے بھی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق 5 برسوں میں صرف صوبہ سندھ میں 1300 افراد نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرلیا، خودکشی کرنے والے 81 فیصد افراد انتہائی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے تھے، بیروز گاری اور سہولیات کا نہ ملنا خودکشیوں کی بڑی وجہ ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر ایک لاکھ پاکستانیوں میں سے 2.9 افراد سالانہ خودکشی کرتے ہیں، عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ شرح 7.5 فی ایک لاکھ سالانہ رہی ہے، یعنی پاکستان میں ہر سال 16500 لوگ خودکشی کرلیتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا میں ہر سال 10 لاکھ افراد خودکشی کرلیتے ہیں یعنی ہر چار سیکنڈ بعد ایک شخص اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتا ہے۔

جوں جوں سائنس نے ترقی کی ہے فاصلے سمٹ گئے ہیں، سہولیات کی فراوانی ہے، امیر طبقہ تو یہ سہولتیں بآسانی حاصل کرلیتا ہے مگر وہ افراد جو ان سہولیات کو حاصل نہیں کرسکتے وہ احساس کمتری اور ڈیپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں، دنیا بھر میں دولت کی منصفانہ تقسیم کا کوئی نظام وضع نہیں ہوسکا، پاکستان میں تو معاشی نا انصافی انتہائی زیادہ ہے، امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے، ملک میں میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے، سرمایہ دار، صنعتکار جونک بن کر محنت کشوں کا خون چوس رہے ہیں، اربوں روپے بنکوں میں ہونے کے باوجود سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کے منافع میں رتی بھر بھی کمی آجائے تو وہ فوری طور پر ملازمین کی چھانٹی شروع کردیتے ہیں حالانکہ ان کو نقصان پھر بھی نہیں ہورہا ہوتا مگر ان کو منافع میں کمی برداشت نہیں ہوتی اور محنت کشوں کو ملازمتوں سے فارغ کرکے ان کے گھروں کے چولہے بجھا دیتے ہیں۔

گزشتہ سال کئی خبریں میڈیا میں آئیں کہ ایک غیر ملکی کمپنی کے مالک کروڑوں ڈالر منافع اپنے ملازمین میں تقسیم کردیا۔ اسی طرح ایک اور کمپنی کے مالک نے فرانس میں فائیو سٹار ہوٹل بک کرائے اور اپنے ملازمین کے ساتھ چھٹیاں گزاریں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مالک غریب ہوگئے یا ان کے سرمائے میں کوئی کمی آگئی مگر پاکستان کی بدقسمتی ہے یہاں ایسی ایک بھی مثال نہیں ملتی۔

نجی اداروں کی حالت یہ ہے کہ 5، 6 سال سے انہوں نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا، کئی اداروں میں کئی مہینوں سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی جارہیں اور اگر کوئی کارکن تنخواہ مانگ لے تو کہا جاتا ہے کہ شکر کرو نوکری بچی ہوئی ہے۔ میری اپنی تنخواہ میں آخری اضافہ 6 سال قبل ہوا تھا اس وقت میری بڑی بیٹی چھٹی جماعت میں پڑھتی تھی اب وہ اے لیول کررہی ہے اور میں 6 سال پرانی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہوں۔

ایسے معاشی حالات میں کئی افراد ذہنی اذیت اور پریشانی میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر جاتے ہیں، خودکشیوں کا ڈیٹا تو مرتب کرلیا جاتا ہے مگر معاشی مسائل کی وجہ سے جو لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں ان پر کوئی تحقیق نہیں کی جاتی اس پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے، معاشی مسائل کی وجہ سے کسی انسان کا انتقال کر جانا خودکشی سے زیادہ کربناک ہے، ان کے بچوں کو بھی بدترین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں مسائل ہمارے اپنے لوگوں کے ہی پیدا کردہ ہے ں، ہر سال اربوں روپے دکھاوے کی خیرات، حج اور عمروں پر خرچ کردئے جاتے ہیں مگر کسی غریب کی مدد کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے، مساجد میں مہنگا ترین قالین بچھا دیں گے مگر کسی غریب کے بچوں کو گرم کپڑے لے کر نہیں دیں گے، قرآن پاک میں 82 مقامات پر حکم دیا ہے کہ خرچ کرو، بخیل نہ بنو۔

چند روز قبل کراچی کے ایک نوجوان میر حسن نے بچوں کی گرم کپڑوں کی فرمائش پوری نہ کرسکنے کی وجہ سے خودسوزی کرلی۔ سندھ میں روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی پارٹی کی حکومت ہے جس کے ترجمان مرتضٰی وہاب کا کہنا ہے کہ خودکشی کا تعلق گڈ گورننس سے نہیں بلکہ یہ ایک معاشی مسئلہ ہے، اگر یہ معاشی مسئلہ ہے کہ تو پھر ان کے قائد ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ کیوں لگایا تھا؟

بھارت میں ایک عورت نے تین بچوں کی بھوک ختم کرنے کے لئے اپنے گھنے بال صرف 150 روپے میں کٹوا کر بیچ دیے اور بچوں کو کھانا کھلایا۔ معاشی مسائل جہاں خودکشیوں کا باعث بن رہے ہیں وہاں معاشرتی جرائم میں بھی اضافے کا باعث بن رہے ہیں، مرد حضرات مجبوراً جرائم کی طرف چلے جاتے ہیں یا پھر رشوت لینا شروع کردیتے ہیں جبکہ عورتوں کے لئے آسان ترین راستہ جسم فروشی ہوتا ہے کیونکہ ہوس کے مارے درندے ہر جگہ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ یہ درندے ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں بلکہ مجبور خواتین کو جسم فروشی کی جانب راغب بھی کرتے ہیں، ان خواتین میں معاشرے انتقام کی آگ بھی بھڑکتی ہے اوروہ پھر ٹک ٹاک یا پھر کسی اور ذریعے سے معاشرے سے انتقام لیتی ہے جس سے معاشرہ تباہی کی طرف چلا جاتا ہے۔

حضرت عمرؓ کہنا ہے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو اس کا ذمہ دار حاکم وقت ہو گا۔ عوام کی کفالت اور روزگار فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ دنیا میں معاشی بدحالی ہی خودکشی کی سب سے بڑی وجہ قرارپائی جاتی ہے۔ جب سے تبدیلی خان نے اقتدار سنبھالا ہے دس لاکھ افراد بیروز گار ہوچکے ہیں۔ صنعتیں بند ہورہی ہیں، ملازمین نکالے جارہے ہیں، لوگ خودکشیاں کررہے ہیں۔

ایسے میں تبدیلی خان نے اہم اقدامات کیے ہیں، بیروز گار، بھوکے لوگوں کے لئے پناہ گاہیں بنا دیں جہاں سردیوں میں گرم بستر بھی فراہم کردیا ہے، ان پناہ گزینوں کو کریلے گوشت، بھنڈی گوشت بھی کھلایا جارہا ہے، ان اقدامات سے اُمید ہے کہ پاکستان میں خودکشیوں کی شرح میں نمایاں کمی ہوگی اور تبدیلی خان کے 5 سال پورے ہونے تک پورا پاکستان پناہ گاہ بن جائے گا جہاں دوسروں ممالک کے لوگ بھی آکر پناہ لیں گے جہاں ان کو کو بنا کچھ کیے بستر بھی ملے گا اور کھانا بھی۔ اور کیا کرے تبدیلی خان

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *