ہو بھی نہیں اور ہر جا ہو، تم اک گورکھ دھندا ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اچھا ہوا کہ فوج اور حکومت کے ”ایک پیج“ کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے سابق جنرل پرویز مشرف کو موت کی سزا سنانے والی خصوصی عدالت کو لاہو ر ہائیکورٹ نے غیر آئینی قرار دے دیا۔ اس اقدام سے ملک کو اس طرف لے جانے میں مزید سہولت حاصل ہو گی جس طرف فوج اور حکومت لے جانا چاہتے ہیں۔ خصوصی عدالت کے فیصلے پر ڈی جی ’آئی ایس پی آر‘ نے فوج کو ایک خاندان قرار دیتے ہوئے فوج کے غصے کا اظہار بھی کیا تھا۔

اب یہ بات بالکل بھی غیر مناسب ہے کہ ملک کی تمام پالیسیاں بنانے اور ان پالیسیوں کے ساتھ ملک کو چلانے والے ادارے کے خلاف اس طرح کا باغیانہ طرز عمل اپنایا جائے کہ ملک کو ایک خاص سمت لے کر جانے والے ادارے سے وابستہ ایک سابق اعلی افسر کے ملک کے مفاد میں کیے گئے اقدامات کو سراہنے کے بجائے ایک سنگین جرم سمجھ لیا جائے۔ بھلا ہو کہ محترم جناب ڈی جی ’آئی ایس پی آر‘ کا کہ انہوں نے اس سنگین معاملے پر فوج کے حسب توقع جذبات کا اظہار کر دیا۔ اس سے تمام اداروں کو ایک سمت مل گئی اور اپوزیشن رہنماؤں کو بھی اپنی ”لائین اینڈ لینتھ“ متوازن کرنے میں اہم مدد ملی۔

بلا شبہ حاکم کی اطاعت عوام کا اولین فرض ہوتا ہے اوراسلامی تعلیمات بھی یہی ہیں۔ اس معاملے میں کم بخت لاعلم عوام کی سہولت کا احساس کرنا چاہیے۔ عوام حکام کے طور پر دیکھتے کسی اور کو ہیں اور مقتدر حکام ہوتے کوئی اور ہیں۔ یہیں سے ساری گڑ بڑ ہو جاتی ہے کہ جس کا اختیار کتابوں میں لکھا ہوتا ہے، وہ اختیارات بلاکسی کتابی حوالے کے استعمال کرتا کوئی اور ہے۔ عوام جب خوشبو یا بدبو کی مہک کے لئے حکومت کو سونگنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ کاغذی پھولوں کی مانند نقلی نکلتی ہے۔

جو نظر تو حکومت آتی ہے لیکن اختیار سے محروم۔ بادشاہت میں بادشاہ حضور سال میں ایک بار عوام کو اپنا دیدار ضرور کراتے تھے تا کہ عوام پر یہ واضح ہو سکے کہ انہوں نے کس کی اطاعت اور تابعداری کرنی ہے۔ ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ ہر جگہ محسوس تو ہو لیکن دکھائی کہیں بھی نہ دے اور اس کو حاکمیت کی تعظیم بھی ملے۔

اپوزیشن کی طرف سے مفاہمت اور ملکی نظام کو ”جوں کا توں“ قبول کرتے ہوئے تعاون کی راہ اپنانے سے ملک میں عوامی پارلیمنٹ کی بالا دستی کے تصور کو ایک بڑی شکست کے روپ میں دیکھا جا رہا ہے۔ حالات، واقعات، صورتحال، عوامل، محرکات، اہداف اور نتائج کے حوالے سے سوچ و فکر رکھنے والے اظہار بیاں بھی رکھتے ہوں تو دانشورانہ رہنمائی کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن اس سوچ و فکر کی بصیرت سے سیکھنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ سمجھے جانے کی قابل باتیں سمجھنے کے لئے ایک عمر گزر جاتی ہے اور دنیا ایک وسیع تناظر میں نظر آنے لگتی ہے۔

نوجوان کچھ کر گزرنے کے لئے پر عزم ہوتے ہیں۔ ان کی توانائیاں کسی بھپرے سمندر کی مانند تلاطم خیز رہتی ہیں۔ اب یہ ان کی قسمت ہوتی ہے کہ ان کو کس طرح کا ماحول نصیب ہوتا ہے کہ اس کی طاقت اور عزم کس جانب مائل اور مصروف ہوتے ہیں۔ یہ نوجوان اگر مساوی اجتماعی مفاد پر مبنی امور کی سوچ کی روشنی میں آجائیں تو لوگوں اور ملک کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ لیکن بقول جاوید غامدی کے کہ ”کیا بندوق سے آزادی حاصل کرنا اتنا ہی آسان ہے کہ آپ مانگیں گے اور وہ دے دیں گے؟ آپ کے اچھے دلائل سے قائل ہو جائیں گے؟ “۔

مختصر زندگی رکھنے والے معاشرے میں اہل دانش و بصیرت کی طرف سے آگاہی اور شعور پیدا کرنے کے حوالے سے مہیا پلیٹ فارم محدود ہیں۔ تاہم نوجوان ہی عمل کی راہ سے پاکستان کے ان خوابوں کی طرف پیش رفت کر سکتے ہیں لیکن صرف اسی صورت کہ وہ اہل عقل و دانش، اہل بصیرت کی روشنی سے اندھیرے میں دیکھنا سیکھ سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply