بلاول کو ایک حکومتی پیغام ملنے کے بعد پیپلزپارٹی نے ترامیم واپس لیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور کی ہفتہ وار شامیں اکثر و بیشتر الحمرا یاترا کرواتی رہتی ہیں۔ آج بھی ایک ’تھنک فیسٹ‘ نامی محافل جمع تھیں وہاں۔ پہلی حاضری جس سیشن میں لگائی اس کا عنوان تھا، ”کیا پارلیمنٹ اب بھی متعلقہ ہے؟ “۔ میزبانی کے فرائض پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے سر انجام دیے جبکہ مہمانان خصوصی میں مشرف دور کے سابقہ سینیٹر و وفاقی وزیر جاوید جبار اور سابقہ وزیر تجارت و دفاع اور لیگی ایم این اے خرم دستگیر شامل تھے۔

گفتگو خاصی سیر حاصل تھی۔ پارلیمنٹ کے بنیادی کردار، فرائض و ذمہ داریوں پر بات کی گئی مگر بدقسمتی سے جو ستر سال میں آج تک عملی شکل میں کبھی پوری نہ ہو سکیں یا پوری نہ کرنے دی گئی۔ جاوید جبار نے پارلیمنٹرینز کی کمزوریوں و نا اہلیت پر بڑے نپے تلے مؤدبانہ و مدلل انداز میں روشنی ڈالی جبکہ خرم دستگیر کا دلائل کا وزن بھی حقیقت پسندانہ تھا۔ کمزوریوں کا اعتراف انہوں نے برملا کیا۔ خرم دستگیر صاحب کی گفتگو میں تین نکات خاصے دلچسپ و اہمیت کے حامل تھے :

1۔ پارلیمنٹ سے حالیہ ہوئی آرمی ایکٹ ترمیم کا احوال۔ انہوں نے توجیہہ پیش کی کہ ہم نے تمام پارلیمانی طریقہ کار پورا کرنے کی پر خلوص کوشش کی اور جتنی ہماری استطاعت میں تھی۔ انہوں نے بل کو چار دن آگے لے جا کر پاس کرانے پر اپوزیشن کی اس کامیابی کا بڑے فخریہ انداز میں ذکر کیا۔ یہ بات قابل غور تھی کہ وہ بل کی قانونی نوعیت یا کوئی سیر حاصل دلائل و بحث کو کسی خاطر میں نہیں لارہے تھے، بس اپنی تمام تر توانائی لگا دی کہ کم از کم پارلیمانی طریقہ کار پورا ہو جائے۔

ایک اور انتہائی اہم نقطہ یا اندر کی بات جو انہوں نے بیان کی وہ یہ ہی کہ اپوزیشن بل میں مختلف ترامیم کر چکی تھی جسے بلاول بھٹو بطور تجویز پیش بھی کر چکے تھے مگر ایک شام پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران حکومتی وفد ان کے پاس آیا اور ان کو ایسا پیغام پہنچایا جو اصلاً اندر کی بات تھی اور وہ یہ بات ابھی نہیں بتا سکتے، یہ صرف آنے والا وقت یا آج کی رقم ہوتی تاریخ ہی پاکستان کے عوام کو بتلائے گی۔ ہاں انہوں نے یہ ضرور بتلایا کہ اس پیغام کے بعد اپوزیشن نے اپنی ترامیم واپس لے لیں اور کیا حکومت و کیا اپوزیشن سب تتر بتر ہو گئے، بل پاس ہوا اللہ اللہ خیر سلا۔

2۔ دوسرا اہم نقطہ جو انہوں نے بیان کیا وہ ایک تاریخ کے گرد گھومتا ہے۔ 18 اگست۔ یہ خاصہ حیران کن تھا۔ 18 اگست 2008 کو پرویز مشرف کو مجبوراً استعفیٰ دے کر نکالا گیا تھا۔ ٹھیک دس سال بعد 18 اگست 2018 کو خان صاحب نے حلف لیا۔ ان کے بقول پاکستانی تاریخ نے اپنا وہی روایتی سول ملٹری والا ایک اور چکر کاٹا اور ہم دس دس سال والے گھن چکر ہی میں کھیل رہے ہیں آج تک۔

3۔ تیسرا اہم نکتہ اس بات کا برملا اعلان تھا کہ بھلے کسی کو اچھا لگے یا برا، قانونی ہو یا غیر قانونی، پاکستان کی مسلح افواج پاکستان کی سیاست میں براہ راست شامل ہیں، اس میں حصہ دار ہیں اور عوام کے جذبات و نمائندگی میں برابر کی دعویدار ہیں، جب تک ہم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے تب تک کوئی چیز کبھی اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچ پائے گی۔ ایک صحت مندانہ و مدلل گفتگو کی اہمیت کی اشد ضرورت کو بطور حل پیش کیا۔

سیشن ختم ہوا تو پھر وہ ووٹوں کی لٹی ہوئی عزت ڈھونڈتی اکا دکا عوام کے غیض و غضب کا نشانہ پائے گئے جس کا انہوں نے بردباری و تحمل سے جواب دیا اور اپنے قائد کی قربانیوں کے رونے روے، جس کی ویڈیو پیش خدمت ہے۔

اس کے بعد ہم نے غیر سیاسی قلابازی لگانے کے لیے الحمرا کے ایک دو چکر ہی کاٹے تھے کہ ایک ایسا شخص نظر آ گیا جو بچپن میں کبھی سوچا نہ تھا کہ عمر کے اس حصے میں کب کہاں اور کیسے ملے گا۔ ’عینک والا جن‘ میں مشہور زمانہ ہامون جادوگر کا کردار ادا کرنے والے حسیب پاشا صاحب۔ بہت اچھے اور عاجزانہ انداز میں ملے۔ یہ سن کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ اب بھی الحمرا میں ہر اتوار یہ کھیل پیش کیا جاتا ہے۔ کچھ کردار شاید ہوتے ہی ہمیشہ امر ہونے کے لیے ہیں۔

پھر چلتے پھرتے مشرف زیدی بھی مل گئے۔ حالات حاضرہ کے چند اچھے مبصرین میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے بھی ایک سادہ سا سوال رکھا کہ آیا مستقبل قریب میں پاکستان کی پارلیمنٹ کو عملاً فعال ہوتا دیکھتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے جواب کا آغاز تو خاصے غیر پارلیمانی الفاظ میں کیا مگر پھر بھی پر امید تھے۔ لگے ہاتھوں ایک اور لیگی رہنما جو نیب کے اغوا برائے انسداد کرپشن کے منصوبے سے حالیہ طور پر ضمانت پر باہر آئے ہیں، مفتاح اسماعیل کو آڑے ہاتھوں لینے کا نادر موقع ہاتھ آیا۔ تقریباً بے بسی کے عالم میں جواب دیتے رہے۔

”بھائی اور کیا کریں اب، ان کو کرنے دو مزید تین سال بھی اب۔ جو کرتے ہیں کرنے دو، اسی طرح عوام کو سمجھ آے گی اور پچھلوں کی یاد آے گی“

خیر ہم نے پھر بھی ان کے ذاتی حوصلے و ہمت اور ڈٹے رہنے کو داد دی۔ ایک عدد تصویر بھی ہو گئی۔ پھر ایک سیشن پاکستان میں میڈیا کے حوالے سے تھا جس کا عنوان تھا ”کیا پاکستان کا میڈیا حقیقی کہانی بیان کر رہا ہے؟ “ یہ بھی ایک دلچسپ موضوع تھا۔ چند نامی گرامی اینکر جیسے فہد حسین، منصور علی خان، ماریہ میمن، اویس توحید مقرر تھے۔ ان کے ہاں بھی اپنی اپنی مجبوریاں تھیں۔ اپنے اپنے رونے تھے۔ صرف یہ ہی غلط نہیں، باقی سب بھی غلط ہیں جیسی دلیلیں تھیں۔ ہاں مگر میڈیا میں خود ساختہ احتساب کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا جو گفتگو کا ایک مثبت پہلو تھا۔

اخیر میں جاتے جاتے ایک بار پھر ریما عمر صاحبہ سے بھی مکالمہ ہوا۔ پیشے کے اعتبار سے نامی گرامی وکیل ہیں اور انٹرنیشنل لاء پر بھی عبور رکھتی ہیں۔ ڈان کی لکھاری ہیں اور پاکستان کے عدالتی نظام کے نقائص و کمزوریوں پر اکثر بات کرتی رہتی ہیں۔ آخری بار بھی الحمرا میں قریباً سال پہلے اردو ادبی میلے میں ملاقات کا اتفاق ہوا تھا۔ تب بھی ایک سوال پوچھا تھا کہ آپ کو جوڈیشل ایکٹیوزم کے ذریعے پاکستان کا پارلیمانی نظام فیل ہوتا نظر نہیں آرہا؟

یا پھر چیزوں و حالات و واقعات کو تیزی سے کسی نئے نظام یا صدارتی نظام کی طرف لپیٹا تو نہیں جارہا؟ جس کا انہوں نے سال پہلے صاف نفی میں جواب دیا تھا، خاکسار کا سوال آج بھی وہیں تھا اور ان کے پاس فی الوقت مایوسی تھی۔ مگر امید برقرار تھی۔ کہ بعض دفعہ قدم پیچھے لیجانے پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ چند چیدہ چیدہ سوال بھی گفتگو کا حصہ بنے، جیسے مشرف کیس کا پیرا 66۔ آرٹیکل ( 3 ) 184 کا ہماری عدالتوں میں راج ہونا یا پھر کبھی مکمل طور پر خاموش ہو جانا۔

بابا رحمتے و جسٹس کھوسہ کے ادوار کے پاکستان کی عدالتی تاریخ اور آنے والے وقتوں میں اثرات۔ عوامی شعور۔ ریاست اور اس کے شہریوں کے بیچ آئین پاکستان کی صورت میں موجود ایک سوشل کنٹریکٹ کی اصل حقیقت۔ عوام کے نمائندے جو ریاست کا نظم و نسق سنبھالیں گے ان کے انتخاب و نکالنے کا فیصلہ کب تک دو ادارے آپس میں کرتے رہیں گے! طوالت پکڑتی گفتگو پھر بیس منٹ بعد ختم ہو گئی۔ ناچیز نے یارِ حال (بٹ) سے پھر یہ ہی کہا کہ بہتر ہے اب گھر کو چلیں، ملک۔ ایسے ہی چلتے رہنا ہے اور چلتا بھی رہے گا انشاءاللہ۔ اب تو مہاتما نے پچھلے دنوں ویسے بھی کہہ دیا ہے کہ سکون صرف قبر ہی میں ہے پھر کاہے کو اتنا سر کھپاتے ہو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فہد رؤف کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *