میاں نواز شریف سے مایوسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاشبہ کسی انسان، جماعت حتی کہ ریاستوں کے وجود اور ان کے تشخص کو قائم رکھنے کے لئے پنہاں اور بنیادی کردار ان کے نظریات ہی ہوتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ اس کے اصول و ضوابط اس کے نظریات انسان کے خالق اور اس کے اعمال کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ انسان جتنا اصول پسند ہو گا اسی قدر مضبوط اعصاب کا مالک بن کر ابھرے گا۔ انسانی تاریخ نے بے شمار ایسی شخصیات دیکھ رکھی ہیں۔

بہت پیچھے جانے کی بجائے ہم پچھلی دو صدیوں کی تاریخ کو اگر بغور دیکھیں تو اس میں ہمیں نیلسن منڈیلا اور محمد علی جناح جیسے کردار نظر آتے ہیں۔ یہیں ذوالفقار بھٹو جیسے لاجواب شخصیت بھی ہمیں جھنجوڑنے کو تیار بیٹھی ہے۔ ہم ان سب کو آج بھی رہنما کہتے ہوئے شرماتے نہیں تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ان کے زبان سے ادا ہوئے الفاظ کی ایک نسل نے تجسیم ہوتے دیکھی ہے۔

ایک بادشاہ سلامت ایک بڑی سلطنت کے حاکم تھے جب وقت نزاع آن پہنچا تو اسے جو پریشانی سب سے زیادہ لاحق تھی وہ یہ تھی کہ کون ہے جو میرے بعد اس سلطنت کی نگہبانی کا فریضہ انجام دے۔ اس نے اپنے وزراء کو اکٹھا کر مشورہ چاہا سب نے مختلف نام بتائے چونکہ اس بادشاہ کا بیٹا بہت کم سن تھا تو کسی وزیر کا دھیان اس طرف نا گیا۔ لیکن بادشاہ نے سب کے مشورے کو سننے کے بعد ایک حیران کن فیصلہ یہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو تخت و تاج کی ملکیت دے گا۔ سب نے اس فیصلے کے بعد حیرانی کا اظہار کیا اور ساتھ رائے دی کہ ظل الہی ولی عہد تو بہت کم سن ہے۔ وہ اس سب کو کیسے چلائے گا بادشاہ نے گہری سنجیدگی سے فرمایا کہ میں اس کی تربیت کروں گا۔

بادشاہ جانتا تھا کہ اس کے پاس وقت کم اس لئے لمبی چوڑی تربیت نہیں کی جاسکتی۔ اس نے ولی عہد کو اپنے پاس بالیا اس کو صورت حال سے آگاہ کر کے فرمایا کہ بیٹا بہت ساری نصیحتیں سننے سنانے کی بجائے ایک بات پر عمل کا یقین دلا دو، کافی ہے۔ بیٹے نے عرض کی بابا حکم کریں۔

بادشاہ نے بیٹے کونصیحت کی ”بیٹا کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت ہزار بار سوچنا مگر جب فیصلہ کر لو پھر اس پر قائم رہنا چاہے جتنا بھی نقصان ہو“

وقت کی رفتار نا کوئی روک سکا نا رکی۔ بادشاہ سلامت آخر لقمہ اجل بن گئے ولی عہد تخت نشین ہوا تو بادشاہت کے منصب کے مطابق بے شمار فیصلے اس کے منتظر تھے۔ اس نے بھی چار و ناچار فیصلے شروع کیے۔ کم سن تھا عقل اور تجربہ کم بہت سے نقصانات کا سامنا ہوا لیکن باپ کی نصیحت کو پلو سے نا جھٹکا۔ فیصلہ کرتا اور اس پہ ڈٹ جاتا تجربہ کسی شے کا محتاج نہیں۔ وقت استاد کا درجہ رکھتا ہے۔ اس نے اسے نا صرف عقل عطا کی بلکہ اس گر میں یکتا کر دیا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یہ بچہ اس نسل کا سب سے بہترین اور مضبوط حاکم بن کر سامنے آیا۔

قارئین مذکورہ بالا شخصیات کی خوبی بھی یہی تھی جب یہ زبان سے کوئی لفظ ادا کرتے تھے تو اس پر پہرہ دیتے ہوئے کسی نقصان کسی تکلیف کو خاطر میں نا لاتے۔ یقین کیجئیے میرے دل نے میاں محمد نواز شریف کی شکل میں نیلسن منڈیلا دیکھا، محمد علی جناح دیکھے، بھٹو کی روح میاں صاحب کے جسم میں سرایت کرتے ہوئے محسوس کی۔ ان کے راہنما کردار نے ہر لمحہ مجھے مجبور کیا میں ان پہ فریفتہ ہوتا جاوں۔ میں ہی کیوں اس دور کے ہرذی شعور انسان نے میاں صاحب کے فہم، میاں صاحب کی دانش کے ساتھ ان کے مضبوط اعصاب کو ہر پل لاجواب پایا۔ بلکہ ہر لمحہ اس میں مزید ٹھہراؤ اور یقین محکم کو ترقی اور عروج پاتے دیکھا۔

پھر یہ ”ایکسٹینشن“ کا معاملہ آگیا میں اپنی ذات تک گو کہ بہت امید بر نہیں۔ مگر اس قدر نا امید بھی نہیں اس کے باوجود فی الحال مایوسی امڈ آئی اس کا اظہار الفاظ میں ناممکن۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 thoughts on “میاں نواز شریف سے مایوسی

  • 16/01/2020 at 7:01 pm
    Permalink

    ماشاءاللہ بہت خوب۔

  • 17/01/2020 at 6:11 pm
    Permalink

    Nice gujjar sb but mayooskun and haratanghyz kis ko kis se mila dia yar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *