بدلتی ہواؤں کا رخ اور سیاسی جماعتوں کا طرز عمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی بھی بات حرف آخر نہیں ہوتی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاست نظریہ پر ہوتی ہے۔ اگر نظریہ نہ ہو تو پھر آپ کی حیثیت صرف ہوس اقتدار کے ایسے پجاری کی سی ہوتی ہے جو کسی بھی طرف لڑھک سکتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ سیاست ناممکنات کا کھیل ہے لیکن کہیں نہ کہیں آپ کو اپنے بنیادی اصولوں کے مطابق ہی فیصلہ کرنا پڑتا ہے تاکہ عوام میں آپ کا تاثر برقرار رکھے۔ یاد رہے آپ کے اصول تاریخ میں آپ کے کردار کا تعین کرتے ہیں اور یہ آپ پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ تاریخ میں کیسے زندہ رہنا پسند کرتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو اکثر سیاسی جماعتیں بوقت ضرورت اپنے ہی افکار سے روگردانی کرتے نظر آتی ہیں۔ حالات مشکل ہوں تو رویہ سخت ہو جاتا ہے اور اگر حالات آسان ہوں تو اپنے ہی بنائے ہوئے ضوابط پر بھی زبان بندی کر لی جاتا ہے۔ حالیہ بہت سے واقعات ایسے ہیں جہاں ہمیں ایک ہی واقعہ پر سیاسی جماعتوں کا مختلف طرز عمل نظر آتا ہے۔ حالانکہ ایسا رویہ اختیار کرتے ہوئے ہمارے لیڈران کو یہ بھی علم ہوتا ہے کہ اب نہ صرف کیمرے کی آنکھ میں سب کچھ محفوظ ہوتا ہے بلکہ یاددہانی کے لئے بوقت ضرورت اسے دہرایا بھی جائے گا۔ اس کے باوجود کمال ہمت سے اپنے بیانات سے روگردانی کی جاتی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنہ کے وقت سے حکومت کے جانے کی مختلف تاریخیں دی جا رہی ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اسی طرح حکومتی اتحادی بھی رنگ بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کو ہمیشہ سے اشاروں پر عمل کرنے والی جماعت کہا جاتا رہا ہے۔ یکایک ایم کیو ایم کو اس حکومت میں خامیاں نظر آنے لگی ہیں۔ کابینہ سے علیحدگی ہو چکی ہے اور جیسے ہی بدلتی ہواؤں کے رنگ مزید نمایاں ہوئے تو ایم کیو ایم حکومت سے مکمل علیحدگی بھی اختیار کر سکتی ہے۔ ق لیگ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (GDA) والے بھی ناراضگی دکھا رہے ہیں۔ ق لیگ اور حکومتی وفد کی آپس میں ہونے والی ملاقات میں پیش رفت نہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ آثار ظاہر کر رہے ہیں کہ بدلتی ہوائیں اپنا رنگ دکھا رہی ہیں۔

پرویزمشرف کی سزا کا معاملہ بھی ایسے ہی واقعات میں سے ایک ہے۔ مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ کے حکم پر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ قائم کیا تھا۔ پرویز مشرف کے مارشل لاء اور مظالم کی وجہ سے نواز شریف کو جلاوطن بھی ہونا پڑا۔ سنگین غداری مقدمہ کی پاداش میں نواز شریف نے نہ صرف عمران خان اور طاہرالقادری کا دھرنا برداشت کیا بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ایک حلقہ کی جانب سے سازشوں کا نشانہ بھی بنے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ جب پرویزمشرف کو عدالت کی جانب سے موت کی سزا سنائی گئی تو لیگی قیادت کی جانب سے کوئی قابل ذکر ردعمل دینے کی بجائے مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔

کہا جا رہا ہے کہ آج کل مسلم لیگ ن کی موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوبارہ رابطے بڑھ رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کرنے پر سوشل میڈیا میں بہت تنقید کی گئی۔ پیپلز پارٹی سمیت باقی جماعتوں نے بھی حمایت کی لیکن تنقید کا ہدف مسلم لیگ ن تھی۔ کارکنوں کی جانب سے ”ووٹ کو عزت دو“ بیانیہ سے ہٹنے کے الزامات لگے۔ فیصل واوڈا نے ٹی وی پروگرام میں میز پر فوجی بوٹ رکھ کر اپوزیشن کو بوٹ چاٹنے کا طعنہ دیا۔ گویا آرمی ایکٹ ترمیم کی حمایت کرنے پر حکومت بھی مذاق اڑا رہی ہے اور کارکن بھی اپنی جماعت سے ناراض ہیں۔ اس سب کے باوجود مسلم لیگ ن کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے میں نہیں آ رہا۔

ہماری سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اس حقیقت پر بھی فخر نہیں کیا جا سکتا کہ آج تک کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا۔ آمروں کے اپنی پسند سے لائے گئے وزراءاعظم بھی مدت پوری نہ کر سکے۔ کبھی آئین میں ترمیم کے ذریعے اور کبھی عدالتوں دباؤ ڈال کر وزراءاعظم کو اقتدار سے نکالا گیا۔ گزشتہ الیکشن میں ہر احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر اس حکومت کو بہت چاؤ سے اقتدار میں لایا گیا تھا۔ تعریفوں کے ایسے پل باندھے گئے تھے کہ آسمان سے تارے توڑنے اور دودھ، شہد کی نہریں بہانے جیسے دعوے چھوٹے لگنے لگے۔ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی خراب کارکردگی کو جنت نظیر دکھایا گیا۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے تو عدلیہ کی ساکھ داؤ پر لگا کر ایک سیاسی فریق بننے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ پر بھی الیکشن سے پہلے پری پول دھاندلی کے الزامات لگے۔ الیکشن کے بعد بھی رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (RTS) بند کروانے والی ایک کال سمیت تمام الزامات میں یہ تاثر بہت واضح طور پر ابھرا کہ اس حکومت کو لانے میں ہماری طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں اپوزیشن کی ہار نے الزامات کو یقین میں بدلا۔ اسٹیبلشمنٹ کی اتنی واضح حمایت کے باوجود اب ہواؤں کے رخ بدلنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کل کے حریف آج حلیف بنتے نظر آ رہے ہیں اور موجودہ حلیف پریشان نظر آ رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر کیوں ہواؤں کے رخ بدلتے محسوس ہو رہے ہیں۔ گمان ہے کہ شاید حکومتی نا اہلیوں کی وجہ سے دوسری جانب بھی پچھتاوا بڑھ رہا ہے۔ حکومت کی خراب معاشی کارکردگی نے حکومتی دعووں کی قلعی کھولی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس صفحے کو بھی پھاڑ دیا ہے جس پر سب اکٹھے تھے۔ اگر یہ پیشین گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو یہ المیہ ضرور ہو گا کہ یہ حکومت بھی مدت پوری نہیں کر سکی لیکن اس ناکام تجربے کے بعد آئندہ کے لئے یہ ضرور یقینی بنایا جانا چاہیے کہ اگلے الیکشن صاف، شفاف اور منصفانہ ہوں، سلیکٹڈ کی بجائے الیکٹڈ نمائندے سامنے آئیں جو معیشت سنبھالیں۔ ترقی کا سفر پھر شروع ہو، مہنگائی کم ہو، انتقامی سیاست کا تاثر ختم ہو۔ اگر سب فریقین ایک ایک قدم پیچھے ہٹ کر ملک کی بہتری کے لئے اقدامات کرتے ہیں تو یہ پاکستان کے لئے نیک شگون ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *