پھر وکلاء گردی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیصل آباد میں ڈسٹرکٹ بار کے انتخابات کے کے موقع پر امیدواروں کے حامیوں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی اور فائرنگ کرنے والوں میں ایک خاتون وکیل بھی شامل تھی۔ ڈسٹرکٹ بار میں سالانہ انتخابات کی پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری تھی کہ امیدواروں کے حامیوں کی جانب سے نعرے بازی اور ہوائی فائرنگ شروع کر دی گئی۔ پولیس نے کارروائی کی تو وکلاء مزاحمت کر کے ساتھی وکلاء کو پولیس حراست سے چھڑا لے گئے۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ لاہور میں امراض قلب کے ہسپتال پنجاب اسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلاء نے دھاوا بول دیا تھا جس کے باعث کئی گھنٹے تک وہاں جنگ چلتی رہی اور تاحال اس کے ذمہ داران کو سزا نہیں ملی۔

اس تنازعے کی بنیاد وکلاء اور ڈاکٹرز کی ایک لڑائی تھی جو اس ہسپتال میں والدہ کے علاج کی غرض سے آئے وکلاء اور طبی عملے میں ہوئی تلخ کلامی کے نتیجے میں شروع ہوئی۔ وکلاء کا الزام تھا کہ ان پر ہسپتال میں تشدد بھی ہوا، بعد ازاں وکلاء کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا اور دو افراد کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی۔ اس پر ردعمل میں طبی عملے کے ساتھ ڈاکٹرز نے بھی ہڑتال کر دی اس لیے مزید کارروائی نہ ہو سکی اور ضلعی انتظامیہ کی مداخلت اور ڈاکٹرز کی طرف سے معافی مانگے جانے کے بعد معاملہ وقتی طور پر تھم گیا۔ اچانک مگر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، (بتایا گیا کہ یہ ویڈیو صلح صفائی سے پہلے کی تھی) جس میں ایک ڈاکٹر نے تقریر کرتے ہوئے شعر سنایا۔

سنا ہے ان کے اشکوں سے بجھی ہے پیاس صحرا کی

جو کہتے تھے ہم پتھر ہیں ہمیں رونا نہیں آتا

وکلاء بدمعاشی کے صرف یہی واقعات نہیں۔ دو ہزار سات کی عدلیہ بحالی تحریک کامیاب ہونے کے بعد (کامیابی کی وجوہات میں اگرچہ وکلاء تحریک کے بجائے دیگر عوامل کا کردار زیادہ تھا) سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی نا جائز سرپرستی اور توجہ ملی تو ساتھ ہی وکلاء کی غنڈہ گردی اور بدمعاشی کا بھی آغاز ہو گیا۔ کئی بار وکلاء نے ججز کو کرسیاں ماریں انہیں کمروں میں بند کیا لیکن کسی نے انہیں کچھ نہ کہا۔ اسی بدمعاشی پر مبنی سابقہ ٹریک ریکارڈ کے زعم میں وکلاء ڈاکٹرز کے خلاف اپنی منشاء کے مطابق کارروائی نہ ہونے پر بے بسی و سبکی محسوس کر رہے تھے۔

مذکورہ ویڈیو دیکھنے کے بعد اس بے بسی و سبکی میں مزید شدت آئی لہذا اپنی ”توقیر“ بحال کرانے کے لیے انہوں نے اپنی ایسوسی ایشنز کے عہدیداران پر دباؤ مزید بڑھا دیا اور پھر وہی ہوا جس کی توقع ہمارے یہاں، کسی بھی گروہ یا تنظیم جو دو ڈھائی سو افراد سڑکوں پر لانے کی قوت رکھتی ہو، اس سے ہونی چاہیے۔ وکلاء مارچ کرتے ہوئے نہ صرف ہسپتال کے باہر جا پہنچے بلکہ اندر گھس کر توڑ پھوڑ بھی کی۔ ہسپتال کی مشینری اور ایمرجنسی کے شیشوں پر لاٹھیاں برسائیں۔

جو سامنے نظر آیا اسے تھپڑوں مکوں اور ٹھڈوں پر لے لیا۔  یہاں اس چیز کا بھی ذکر کرنا چاہیے کہ ہسپتال کے عملے اور ڈاکٹرز نے بھی زور آزمائی کم نہیں کی۔ نہ صرف اس سارے معاملے میں ان کا رویہ اشتعال انگیز رہا بلکہ ہسپتال پر وکلاء کے حملے کے موقع پر بھی انہوں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ ہسپتال کی چھت سے وکلاء پر بھی پتھراؤ ہوا اور دوبدو ڈنڈے بھی چلے۔

بہرحال وکلاء کا کردار اس لیے زیادہ قابل مذمت ہے کہ جنگ میں بھی دشمن کے ہسپتالوں پر حملے کی کوشش تو کجا مہذب معاشرے میں ہسپتال کے سامنے شور و غوغا کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس کی آمد کے بعد وکلاء نے پولیس کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس وین بھی نذر آتش کر دی۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج سے کام لینا پڑا جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ زخمی ہوئے اور کئی بیگناہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

انہی دنوں کی ایک اور خبر سنیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں دو طلبا تنظیموں کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں ایک طالبعلم ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد انتظامیہ کو یونیورسٹی بند اور حالات پر قابو پانے کے لیے رینجرز طلب کرنا پڑی۔ کچھ دن قبل فیض میلے کے موقع پر جب چند طلباء نے سرفروشی کی تمنا کا اظہار کیا اور لال لال لہرائے گا ہوش ٹھکانے آئے گا کے نعرے لگے تو ہمارے ہاں بعض لوگوں کی سوئی امنگیں بیدار ہو گئیں اور انہیں اپنی نا آسودہ خواہشات کی تکمیل کا راستہ طلباء یونین کی بحالی کے مطالبے میں نظر آنے لگا۔

کہا جانے لگا طلبہ یونین کے انتخابات پر پابندی کے سبب نوجوانوں کے لئے سیاست سیکھنے کا موقعہ ختم ہو گیا ہے اور سیاسی نرسریاں اجڑ گئی ہیں۔ طلبہ تنظیمیں اگر فعال کر دی جائیں اور یونین انتخابات پھر سے ہونے لگیں تو نوجوان سیاستدانوں پر مشتمل نئی تربیت یافتہ کھیپ سامنے آئے گی اور پڑھا لکھا نئے تقاضوں سے ہم آہنگ سیاسی کلچر پیدا ہو گا۔ کوئی شبہ اور انکار نہیں کہ تدریس کے ساتھ ساتھ تربیت بھی تعلیم کا مقصد ہے۔ درسگاہوں میں جو نوجوان حصول تعلیم میں مصروف ہیں یہی قوم کا مستقبل ہیں اور ان کی تربیت بھی بہت ضروری ہے۔

لیکن جب نعرے لگانے والوں کے انٹرویوز ہوئے تو یہ علم ہوا کہ ان معصوم نوجوانوں کو تو یہ علم تک نہیں کہ وہ کن حقوق کے لیے نعرے لگا رہے ہیں اور نہ ہی ان کے ذہنوں میں اپنے مطالبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی منشور واضح تھا۔ تاہم انہیں استعمال کرنے کی خواہش رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں طلباء یونینز کی بحالی کے مضمرات ہمارے ہاں کیا ہوں گے۔ ویسے بھی حقوق کا مطالبہ اس وقت تک زیادہ اچھا نہیں لگتا جب تک فرائض سے مکمل آگاہی ہو اور وہ دیانتداری سے ادا نہ کر دیے جائیں۔

امریکا اور یورپ جیسے حقوق کے مطالبات تو ہم اکثر کرتے ہیں۔ ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر ہونے والے چالان کی رقم پر گڈز ٹرانسپورٹ والے ہڑتال پر ہیں اور بس والے ان کا ساتھ دینے کی تیاری میں۔ ٹیکس دینے کا کہا گیا تو تاجروں نے ملک بھر میں اپنی یونینز کی طاقت بروئے کار لاکر شٹر ڈاؤن کر دیا مجبورا حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ طرز عمل ہمارا قبائلی لشکروں والا ہے اور مانگتے ہم یورپ والے حقوق ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم آج تک ذہنی طور پر نو آبادیاتی دور سے باہر نہیں نکلے۔

ہماری مجموعی نفسیات غلاموں والی ہے اور غلاموں کی مانند قانون شکنی سے ہماری نفسیات کو تسکین ملتی ہے۔ یونینز بنانے کے پیچھے اکثر جائز حقوق کی جدوجہد کے بجائے زیادہ سے زیادہ قوت کے حصول کی خواہش کارفرما ہوتی ہے تاکہ اسے بروئے کار لاکر ذاتی و گروہی مفادات کی آبیاری کی جا سکے۔ نوجوانوں کی سیاسی تربیت ہی مقصد ہے تو اس کے لیے بلدیاتی نظام کی مضبوطی زیادہ موزوں ہے اور اس طرح عوام کے بھی بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔

طلباء کے لیے بہت سے دیگر حل موجود ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ ہمارے ہاں الیکشن جیتنے کے لیے کن کن ہتھکنڈوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ طلباء یونینز کے الیکشن ہوں گے تو یہ تمام لوازمات لازما تعلیمی اداروں میں پہنچیں گے۔ پھر تعلیمی اداروں میں بھی وہی ہو گا جو اپنی اپنی جگہ وکلاء، ڈاکٹرز، ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کی تنظیمیں کر رہی ہیں۔ پہلے سے والے جتھے سنبھل نہیں رہے ایسے میں طلباء کو بھی جتھے بازی میں لگا دینا بھلائی نہیں بلکہ ان کے ساتھ دشمنی ہوگی۔ لہذا میرا خیال ہے جب تک ہمارے ہاں شعور عام نہیں ہوتا کوئی نئی یونین بنانے کا سوچنا فضول ہے بلکہ پہلے سے موجود تمام یونینز کو بھی ختم کر دینا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *