”وہ سب تو ٹھیک ہے مگر کیا ایرانی جنرل قاسم سلیمانی شہید ہوئے یا ہلاک؟ “

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے کہ جب دشمن فوج بغداد کے دروازے پر کھڑی تھی تو اس وقت علما ء و دانشور اس بحث میں مگن تھے کہ سوئی کی نوک پر ایک وقت میں کتنے فرشتے سماسکتے ہیں یا جیسے انتظار حسین صاحب نے ایکسپریس میں اپنے ایک کالم میں علامہ مشرقی کی نسبت سے مثال نقل کی، کہ جب مسلم افواج قسطنطنیہ پر چڑھائی کررہی تھیں تو اس وقت کے سب سے بڑے کلیسا میں پادری اور فضلاء اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ آسمان سے آنے والے دسترخوان میں روٹیاں خمیری تھیں یا فطیری۔

حال ہی میں امریکا کی جانب سے ایران کے میجر جنرل قاسم سلیمانی پر قاتلانہ حملے کے بعد کشیدگی اس حد تک عروج پر پہنچ گئی کہ تیسری جنگ عظیم کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ دنیابھر کے سربراہان نے تناؤ کو جلد از جلد ختم کرنے کے لئے رابطے تیز کردئے۔ کئی ممالک نے اپنی عوام کے لئے احتیاطی ہدایات جاری کیں تو کئی نے طیاروں کو عراق کی فضائی حدود استعمال کرنے سے بھی روک دیا، دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر ورلڈ وار تھری بھی ٹرینڈ کرنے لگا۔

ایسے میں پاکستانی میڈیا او ر عوام ایک اور گھمبیر مسئلہ میں گھری نظر آئی، سوال پیدا ہوگیاکہ آخر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک لکھیں، جاں بحق کہیں یا شہید پکاریں؟

مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر اورسابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں یہ معاملہ بڑی زور شور سے اٹھایا۔ انہوں نے پاکستانی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ہمارا میڈیا قاسم سلیمانی کے لئے ہلاک کا لفظ کیوں لکھ رہا ہے اور شہید کہنے سے کیوں کترا رہا ہے؟

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے اسلام آباد میں احتجاجی تقریب میں خطاب میں کہا کہ امریکا نے ”ہمارے دوست“ قاسم سلیمانی کو مار کر حماقت کی، ایران نے ایسا جواب دیا کہ سپر پاور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی۔

پاکستانی میڈیا نے جنرل قاسم سلیمانی کے لئے عام طور پر ہلاک، جاں بحق اور قتل کے الفاظ استعمال کیے۔ البتہ سوشل میڈیا پر شہید اور شہادت کے الفاظ کا استعال کثرت سے دیکھنے میں آیا۔ اس بحث میں الجھے بغیر کہ شہید کا لفظ کب کیوں اور کہاں استعمال کیا جاسکتا ہے، زیادہ بہتر ہوگا کہ مسلم دنیا کے قاسم سلیمانی سے متعلق رد عمل کا جائزہ لیں۔ تاکہ پاکستان کے علاوہ دوسرے مسلم ممالک میں اس کنفیوژن کا اندازہ لگایا جاسکے۔

ملیشیاکے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے قاسم سلیمانی کی شہادت پر سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کے بعد اب کوئی محفوظ نہیں رہا، وقت آگیا ہے کہ ”امت مسلمہ“ اب متحد ہوجائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”کیا کسی ملک کو میری کوئی بات پسند نہ آئے تو مجھے بھی ڈرون بھیج کر مار دیا جائے گا؟ “

افغانستان میں موجود طاقتور عسکری گروہ افغان طالبان کی جانب سے قاسم سلیمانی کی شہادت پر تعزیتی پیغام بے نظیر تھا۔ کیونکہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ طالبان ایرانی جنرل کے لئے ان الفاظ میں تعزیت پیش کرسکتے ہیں۔ طالبان کے پیغام میں امریکا کی بھرپور مذمت کے بعد کہا گیا کہ ”۔ اللہ تعالیٰ سے اس مجاہدبزرگ کے لئے جنت الفردوس اور ان کے اہل خانہ کے لئے صبرجمیل اوراجر جزیل کی دعا ہے“۔

اسی طرح افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی، سابق نائب صدر اور شمالی اتحاد کے سابق کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ضیاء مسعود نے قاسم سلیمانی کو شہید قرار دیتے ہوئے امت مسلمہ کا ہیرو قرار دیا۔ افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ اور ان کی جماعت اسلامی نے بھی قاسم سلیمانی کو شہید قرار دیتے ہوئے امریکا کی مذمت کی۔

فلسطین میں کئی دہائیوں سے آزادی کی جنگ لڑنے والی عسکری تنظیموں حماس اور جہا د اسلامی نے بھی قاسم سلیمانی کو شہید قرار دیا۔ حماس کے سربراہ اور فلسطین کے سابق وزیر اعظم اسماعیل ہانیہ قاسم سلیمانی کی نماز جناز ہ میں شرکت کے لئے تہران پہنچے جہاں پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ قاسم سلیمانی بیت المقدس کے شہید ہیں۔

پاکستان میں عام طور پر ایسی خبروں کو فرقے کے زاویے میں دیکھا جاتا ہے۔ مگر امریکا کے عراق پر حملے کے بعد سے مشر ق وسطیٰ میں سرد جنگ کے دور کی طرح دو بلاک ابھر رہے ہیں۔ ایک وہ بلاک ہے جو ایرانی اتحاد کا حصہ ہے ا ور دوسرا بلاک امریکا اور اسرائیل کے اتحادیوں کا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل مخالف بلاک کو ”خط مقاومت“ یعنی ”مزاحمت کے محور“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس میں فلسطینی تنظیمیں جیسے حماس اور جہاد اسلامی، لبنان کی حزب اللہ، عراق کی حشد الشعبی، یمن کی انصار اللہ، اور شامی حکومت سمیت دیگر صہیونی مخالف تنظیمیں یا گروہ شامل ہیں۔ جبکہ دوسرا اتحاد صہیونی حامی اتحاد کے نام سے معروف ہے۔

ایک معاشرہ کسی بھی واقعہ پر رد عمل اپنے Perspective یا نقطہ نظر کی بنیاد دکھاتا ہے۔ مثلا جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو ماسکو کے خلاف لڑنے والوں کو ”مجاہدین“ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ مگر جب امریکا نے انہی افغانیوں پر حملہ کیا تو پاکستان نے بھی واشنگٹن کے دہشت گردی کے بیانئے کو قبول کرتے ہوئے اس بار افغانیوں کی بجائے امریکا کی مدد کی۔

میری ایک صاحب سے امریکا، ایران تناؤ پر گفتگو ہورہی تھی۔ انہیں کہا ”کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان خدانخواستہ جنگ ہوئی تو پاکستان براہ راست متاثر ہوگا۔ لڑائی پاکستان کی سرحدوں کے قریب ہوگی۔ آبنائے ہرمز پر جنگ کے شعلے گوادر کی بندر گاہ سے با آسانی دیکھے جا سکیں گے۔ دوسری جانب پاکستان کو خونی دلدل سے نکلے پانچ سال بھی نہیں ہوئے، جب ایک دن میں کئی افراد کی لاشیں گرتی تھیں۔ کبھی کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی خبر آتی تو کبھی کوئٹہ میں خود کش دھماکہ ہوتا، کبھی فاٹا میں ملٹری فورسز پر حملہ ہوتا تو کہیں لوگوں کو بسوں سے اتار کر شہید کیا جاتا۔

ایسے میں دنیا کے حساس ترین خطے میں واقع پاکستان کے عوام کی کم از کم ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ اپنے خطے میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں۔ ”میں اپنی دانست میں جب علم کے سمندر بہاکر خاموش ہوا تو میرے دوست نے عالمانہ انداز میں پوچھا، “ وہ سب تو ٹھیک ہے مگر کیا ایرانی جنرل قاسم سلیمانی شہید ہوئے تھے یا ہلاک؟ ”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *