پرویز مشرف اور سنگین غداری: ہم بحث سے کترا کیوں رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج پاکستان میں ایک اور فیصلہ سنایا گیا۔ اور آج ایک اور بحث کا آغاز ہو گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ جس خصوصی عدالت نے پرویز مشرف صاحب کو سنگین غداری کے جرم پر سزائے موت سنائی تھی، وہ عدالت بنی ہی غیر قانونی اور غیر آئینی طریق پر تھی۔ چنانچہ جب وہ عدالت غیر قانونی تھی تو فیصلہ کیسا؟ چنانچہ خصوصی عدالت کا فیصلہ ختم ہو گیا۔ اس کے قانونی زاویوں پر تو بحث جاری ہے۔ ان سطور میں اس فیصلہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس بارے میں رائے دی جائے گی کہ پرویز مشرف صاحب پر یہ الزام ثابت ہوتا ہے کہ نہیں۔

لیکن ایک بات ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی۔ پاکستان کے آئین کے مطابق دستور کو منسوخ کرنا یا اس کی تخریب کرنا یا اس کو معطل اور ملتوی کرنا سنگین غداری ہے۔ شاید ہی دنیا کا کوئی اور ملک ہو جہاں پر اتنی زیادہ مرتبہ یہ عمل دہرایا گیا ہو۔ اس میدان میں ہمیں اتنا تجربہ حاصل ہو چکا ہے کہ اگر کسی بھی ملک کو اس سلسلہ میں کوئی مدد درکار ہو تو اسے پاکستان سے رابطہ کرنا چاہیے۔ اب تک تو ہمیں تجربہ ہوجانا چاہیے تھا کہ ایسے مقدمے کس عدالت میں چلنے ہیں، کس طرح چلنے ہیں اور ان کے فیصلوں پر کس طرح عملدرآمد ہونا ہے؟ لیکن ہم اب تک اتنے نا تجربہ کار کیوں ہیں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک سانحے سے گزر کر سمجھتے ہیں کہ بات ختم ہوئی جو ہونا تھا ہو چکا۔ اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر سبق حاصل نہ کیا جائے توتاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ آئین میں سنگین غداری کے جرم کی وضاحت آئین کے آرٹیکل 6 میں کی گئی ہے۔ پاکستان کے موجودہ آئین کے بننے سے قبل پاکستان میں آئین کی پامالی دو مرتبہ ہو چکی تھی۔ پہلے ایوب خان صاحب نے ایک آئین کو منسوخ کر کے مارش لاء نافذ کیا اور پھر جنرل یحیٰ خان صاحب نے ایوب خان صاحب کا بنایا ہوا آئین منسوخ کر کے مارشل لاء لگایا۔

ان دونوں دستوروں میں آئین کی منسوخی، معطلی یا پامالی کے جرم کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ لیکن 1973 کے آئین سے قبل صرف یہی واقعات ہمارے سامنے نہیں تھے بلکہ جولائی 1972 کو حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کی پہلی قسط حکومت کو موصول ہو چکی تھی۔ اور اس کی سفارشات میں پہلی سفارش یہ تھی کہ سابق صدر یحیٰ خان، جنرل عبد الحید، جنرل پیرزادہ اور جنرل گل حسن صاحب وغیرہ پر اقتدار پرغاصبانہ قبضہ کرنے کے الزام پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

اور اس الزام پر بھی مقدمہ چلایا جائے کہ انہوں نے یحیٰ خان صاحب کو اقتدار پر قابض رکھنے کے لئے سیاسی پارٹیوں کو دھمکیوں کے علاوہ رشوتیں بھی دی تھیں اور 1970 کے انتخابات میں خاص قسم کے نتائج حاصل کرنے کے لئے سازشیں بھی کیں۔ لیکن نہ یہ مقدمہ چلا اور نہ ہم نے سبق حاصل کیا۔ انجام یہ ہوا کہ بے نظیر صاحبہ کے مقابل پر اتحاد بنانے کے لئے پھر یہ تاریخ دہرائی گئی۔

جب نیا آئین بن رہا تھا تو یہ موقع تھا کہ ایسی قانون سازی کی جاتی کہ یہ تاریخ پھر کبھی نہ دہرائی جائے۔ لیکن یہ کام تو تب ہوتا جب کم از کم آئین بنانے والوں کو ان سفارشات کی کوئی خبر ہوتی۔ کمیشن کی سفارش تو یہ تھی کہ ان حضرات پر پبلک مقدمہ چلایا جائے لیکن اس کمیشن کی رپورٹ ہی پبلک نہ ہو سکی۔ جن حضرات پر مقدمہ چلانے کی سفارش کی گئی تھی ان میں سے ایک صاحب یعنی جنرل گل حسن صاحب کو یحیٰ خان صاحب کے بعد ملک کی فوج کا سربراہ بھی بنادیا گیا۔ پھر انہیں افراتفری میں ہٹانا پڑا۔

اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ جب اسمبلی میں تجویز کردہ آئین پر بحث ہو رہی تھی تو اس وقت اس آرٹیکل پر کیا بحث ہوئی تھی؟ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے یہ پہلی مرتبہ تھا کہ پاکستان کے کسی آئین میں سنگین غداری کے متعلق شقیں شامل کی جا رہی تھی۔ اور پاکستان کا تاریخی پس منظر اس کی اہمیت کو واضح کر رہا تھا۔ سنجیدگی کا عالم یہ تھا کہ سنگین غداری کے بارے میں آئین کی اس شق میں چھ ترامیم پیش کی گئی تھیں، اور جب 9 مارچ 1973 کو اس پر بحث شروع ہوئی تو ان میں سے تین ترامیم کے پیش کرنے والے غیر حاضر تھے۔

اس لئے یہ تین ترامیم تو ویسے ہی بغیر بحث کے ختم ہو گئیں۔ ظفر انصاری صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ سنگین غداری ایک بڑا جرم ہے، اس لئے یہ طے ہونا چاہیے کہ اس کا مقدمہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں ہی چلایا جائے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا مقدمہ کسی ٹریبونل یا عارضی عدالت میں پیش کیا جائے۔ یہ واضح ہے کہ یہی مسئلہ اتنی دہائیوں بعد آج پھر اُٹھ گیا ہے۔ کیونکہ لاہور ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ جس عدالت نے مشرف صاحب کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ سنا ہے اس کی تشکیل ہی غیر آئینی تھی۔

چاہیے تو یہ تھا کہ 1973 میں اس پر سیر حاصل بحث کی جاتی۔ کچھ وقت چوہدری ظہور الہی صاحب نے اپنے اوپر ذاتی مالی الزامات کا جواب دینے میں غارت کیا۔ اور چند منٹ میں وزیر ِ قانون عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب نے یہ نکتہ سنا کر بات ختم کر دی کہ ایسے مقدمات آخر اپیل کی صورت میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پیش ہوتے ہی ہیں۔ اس ترمیم کے حق میں صرف 19 ووٹ آئے تھے۔ اس لئے منظور نہیں ہو سکی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ترمیم منظور نہیں ہوئی۔ بلکہ المیہ یہ ہے کہ اس بات کی اہمیت محسوس نہیں کی گئی کہ اس پر مکمل بحث کی جائے۔

اس موقع پر چوہدری ظہور الہی صاحب کی ترمیم بھی ملاحظہ کریں۔ ان کی ترمیم یہ تھی کہ آئین کو ختم کر کے جو اقتدار پر قبضہ کرے، اس کے مشیروں اور وزیروں کو بھی سنگین غداری کا مجرم قرار دینا چاہیے۔ یہ ترمیم بھی منظور نہیں کی گئی۔ اور پھر انجام یہ ہوا کہ جب جنرل ضیاء صاحب نے تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تو خود چوہدری ظہور الہی صاحب جنرل ضیاء صاحب کے ساتھ تھے۔ اور ان کے خاندان کے چوہدری شجاعت صاحب اور پرویز الہی صاحب نے بھی پرویز مشرف صاحب کے دور میں یہ تاریخ دہرائی اور وزارتیں قبول کیں۔ اس خاندان کی خوش قسمتی تھی کہ چوہدری ظہور الہی صاحب کی ترمیم منظور نہیں ہوئی۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس تاریخی پس منظر کی وجہ سے 1973 میں سنگین غداری کی شق کے بارے میں سیر حاصل بحث ہونی چاہیے تھی اور حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات سامنے رکھ کر ہونی چاہیے تھی۔ لیکن ”مٹی پاؤ سکیم“ کے تحت اُس وقت حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کو سات پردوں میں رکھا گیا۔ بلکہ بحث کے دوران ایک ممبر نے یہ رونا بھی رویا کہ جنرل یحیٰ صاحب اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لوگ ان واقعات کو بھول چکے ہیں، مجھ پر پابندیاں اُٹھائی جائیں۔

حالانکہ اُس وقت سانحہ مشرقی پاکستان کو صرف دو سال ہوئے تھے۔ ہماری یاداشت بھی کتنی مختصر ہے۔ اس شق پر بحث کے دوران حزب ِ اختلاف کے مفتی محمود صاحب نے یہ بھی کہا کہ لوگ اس کمیشن کی رپورٹ کو منظر ِ عام پر لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن حکومت ان اس کا جواب بھی نہیں دیا۔ ان مسائل پر سیر حاصل بحث ہونی چاہیے، بار بار ہونی چاہیے اور تاریخ اور مکمل حقائق سامنے رکھ کر ہونی چاہیے تاکہ یہ تاریخ دہرائی نہ جائے۔ اورحمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ اتنی اہم ہے کہ اسے ملک کے عسکری اور قانونی اداروں کے نصاب میں شامل کرنا چاہیے۔ آخر ہم کب تک ایک جیسی غلطیاں دہراتے جائیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *