لہوڑی دی مبارکاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لہوڑی ایک موسمی تہوار ہے جو موسم سرما میں منایا جاتا ہے۔ یہ سرما کا جشن ہے جسے پنجابی مہینوں کے حساب سے پوہ میں منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار کسانوں کی خوشی کو ظاہر کرتا ہے جو گنے کی فصل کی کٹائی اور اس کے ساتھ جڑے کلچر جس میں گڑ بنانا اور گڑ بننے کے دوران رو یعنی گنے کے گرم رس سے بننے والی ڈشیز جیسا کہ کھیر یا اسے ویسے ہی گنے پہ لگا کے کھانا شامل ہے اس دوران سب کا اکٹھ ہونا الاؤ جلانا، گانے گانا اور رقص کرنا شامل ہے۔ دراصل ہر تہوار ایک علاقے کے رہنے والے لوگوں کی باہمی خوشی اور اسے سلیبریٹ کرنے کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے ہی لوہڑی مذہب، ذات یا کسی دوسری شناخت سے بالا تر ہو کے خوشی منانے کا نام ہے۔

یہ تہوار پنجاب کے سپوت دلا بھٹی کی یاد بھی دلاتا ہے جن سے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے دو ہندو برہمن بہنوں کو بازیاب کروا کے ان کی شادی ہندو لڑکوں سے کروائی تھی۔ ان بہنوں کو ایک مسلمان زمیندار اس لیے لے گیا تھا کیونکہ ان کے چچا نے اس کا قرض ادا کرنا تھا۔ اس لیے یہ اس بات کا بھی عکاس ہے کہ انسانیت سب سے اہم ہے اور اس دور کے لوگ سب عورتوں کو مذہب، ذات، زبان سے قطع نظر یکساں عزت دیتے تھے۔

لہوہڑی کے دوران بچے گاؤں یا اپنے علاقے کے ہر گھر میں جا کے ان سے تحائف کا تقاضا کرتے ہیں۔ اور ہر گھر انہیں شکر، گندم، آٹے یا کسی بھی شکل میں تحائف دیتا ہے۔ اس سے اپنایت کا تاثر ابھرتا ہے کہ سب کے بچے سانجھے ہیں۔

لاہور میں سانجھا ویہڑہ قصور تنظم نے جس کے آرگنائزر عمیر اقبال عمیر اورنزید جوئیہ تھے لوہڑی منانے کے لیے تقریب کا انعقادکیا۔ یہ رنگ، خوشی، محبت، تہذیب، آرٹ، رقص اور گیتوں سے بھرپور موقع تھا۔ یہیں میرا تعارف لوہڑی سے ہوا اور اس کی تاریخ کے متعلق پتہ چلا۔ تقریب میں ڈرم سرکل تھا جو ہم آہنگی اور یکانگت کا مظہر ہے کہ خوشی میں سب کا ردھم و سر ایک ہی ہوتا ہے۔ تقریب میں کینیڈا سے آئی ہوئی تیجی مخلوق ناول کی مصنفہ ہرکیت کور چہال صاحبہ بھی مدعو تھیں۔ انہوں نے سماج کے سب سے زیادہ نظر انداز کیے گئے طبقے یعنی ٹرانس جینڈر کے متعلق قلم اٹھایا ہے جو ایک قابل تحسین اقدام ہے۔

آگ کے آلاؤ کے گرد بیٹھنا ہلکی پھلکی گفتگو کے ساتھ شعر وشاعری جس میں بابا نجمی کی شاعری بھی ان کی زبانی شامل تھی نے بہت رنگ جمایا۔ اسی تقریب میں ایک تھیٹریکل پرفارمنس بھی شامل تھی جس ڈرامے کا نام سمی دی واری تھا جس کے مصنف نجم حسین سید اور سنگت گروپ کے آرٹسٹ اسامہ اور انوش نے پرفارم کیا۔

یہ مختصر ڈرامہ اپنے اندر دانائی کا جہاں رکھتا ہے۔ کہانی تب کی ہے جب آگ کا الاؤ جلایا جاتا تھا اور گاؤں میں ہر کوئی اسی الاؤ سے انگارہ لے کے چولہا روشن کرتا تھا۔ یہ الاؤ اتحاد کی علامت ہے جس میں سب کا رزق بنیادی طور پہ ایک ساتھ جڑا ہے۔ اس کی رکھوالی کرنے والے فقیر کہلاتے تھے لیکن جب ماچس برصغیر میں متعارف کی گئی تو یہ کلچر دم توڑنے لگا۔ یہاں یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ لوگ جو روایات کے پاسدار ہوتے ہیں یا ان کو قائم رکھنا چاہتے ہیں ان کا ماننا یہ ہوتا ہے کہ انہی روایات سے محبتیں قائم ہیں اور اگر روایات ختم ہوئیں تو یہ اکٹھ، محبت چاہت، اپنایت سب ختم ہوجائے گا۔

اسی کو علامتی طور پہ فقیر کے کردار نے ظاہر کیا ہے کہ وہ شدید پریشان ہے کہ ماچس آنے سے سب ختم ہو جائے گا اور اسی وجہ سے اس میں کچھ تلخی بھی پیدا ہو جاتی ہے جو اس کے مزاج کا حصہ نہیں تھی۔ ساتھ ہی اس میں یہ بھی دکھایا گیا کہ مرد وہ نہیں جو رعب داب رکھتا ہے بلکہ وہ ہے جو محبت سمجھتا اور اسے نبھاتا ہے۔ منی کاکردار جو انوش نے نبھایا وہ روایات کو جوڑنے والا اور نئی آنے والی چیزوں کو قبول کرنے والا ہے۔ اسے فقیر سے انسیت بھی ہے لیکن جانتی ہے کہ گراونڈ رئیلٹیز کیا ہیں۔ یہ کھیل لوک دانائی کا منہ بولتا اظہار تھا اور اس کے اختتام پہ فقیر کا جان سے گزر جانا روایت ختم ہونے کی علامت ہے۔

یہ تہوار اور اس طرح کے دیگر تہوار ہمیں آپس میں جوڑتے ہیں۔ پوری تقریب میں محبت، پیار، سکون اور سپیس دینے کا ماحول تھا شاید یہی وہ خصوصیات تھیں جو ہمارے اباؤ اجداد میں موجود تھیں ان میں تحمل، برداشت اور رواداری تھی اور ہم وہ فرصت اور وقت نہیں ڈھونڈ پاتے کہ چند لمحے ساتھ مل بیٹھیں۔ ایک دوسرے کی سن لیں اور ایک دوسرے کو سپیس دے لیں۔ ہمیں ایسی گیدرنگزکی مختلف سوچ کے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا لرنے کی ضرورت ہے تاکہ برداشت اور رواداری کا کلچر پروان چڑھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *