سیاسی سودا بازی اصولی سیاست پر حاوی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف حکومت چند چھوٹی اتحادی جماعتوں کی حمایت اور معمولی عددی برتری سے اقتدار میں ہے، اس وقت اتحادی جماعتیں وفاقی حکومت کے بارے میں شدید تحفظات کا شکار ہیں، انہیں شکایت ہے کہ تحریک انصاف نے حکومت سازی کے وقت تعاون حاصل کرنے کے لیے جو وعدہ کیے تھے، ابھی تک پورے نہیں کیے ہیں۔ پچھلے ڈیڑھ سال کے عرصے میں وقتاً فوقتاً ان کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں آوازیں بلند ہوتی رہیں، جنہیں حکومتی یقین دہانیوں سے وقتی طور پر خاموش کرایا جاتا رہا، لیکن اب ایک توانا آواز ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے اٹھائی گئی ہے جس نے اسلام آباد کے حکومتی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اگرچہ اتحادی جماعتیں حکومت گرانے کے حق میں نہیں، لیکن اپنے مطالبات پر سختی سے قائم ہیں جو پورے نہیں ہوئے تو پاکستان کی عمومی طور پر ناقابل اعتبار سیاست کے حوالے سے اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اتحادی جماعتوں میں بددلی اور خود پی ٹی آئی میں بعض غیر مطمئن ارکان کی موجودگی کی وجہ سے اپوزیشن آس لگائے بیٹھی ہے کہ مارچ تک ملک میں سیاسی تبدیلی آسکتی ہے، ایسی کسی تبدیلی کے بارے میں فی الحال سوچنا بھی محال ہے، مگر اس سے غیر یقینی کیفیت پیدا ہو رہی ہے، سیاسی سودا بازی اصولی سیاست پر حاوی ہونے جارہی ہے۔

اس ماحول میں حکومت کے لئے اپنے دو اتحادیوں کی جانب سے دوبارہ آزمائش شروع ہوتی نظر آرہی ہے جس میں دوسری اپوزیشن جماعتیں وزارتوں کا لالچ دے کر ہلہ شیری دے رہی ہیں۔ یہ ہماری سیاست کا روایتی کھیل ہے جس کا کوئی زریں اصول نہیں ہے۔ اگر اقتدار کی سیاست میں اصولوں کی پاسداری مقصود ہے تو پھر اقتدار اور اصولوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑیگا، جبکہ اقتدار کی روایتی سیاست میں اصولوں کی پاسداری کی بات بے معنی ہوجاتی ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سیاسی قیادت عوام کے مسائل کے تدارک کے نام پر ذاتی مفادات کے تحفظات کو یقینی بناتے ہیں، حالیہ تحریک انصاف حکومت کے لیے اتحادی جماعتوں کی جانب سے پیدا کردہ سیاسی بحران کے پس پردہ بھی ذاتی مفادات کا حصول ہے، اسی لیے پیپلز پارٹی حکومت گرانے کے عوض وزارتوں کی پیش کش کردی ہے۔ حالات کا جبر ہے کہ تحریک انصاف نے اس جماعت کو اپنا اتحادی بنا لیا جس کے خلاف کراچی کے شہریوں نے انہیں ووٹ دیے تھے۔

ایم کیو ایم کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ ہمیشہ حکومت کا حصہ بنتی ہے اور جب حکومت پر کوئی دباؤ آئے تو ایم کیو ایم اپنی حیثیت جتلانے کے لئے الگ ہونے کا اعلان کردیتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اس صورت حال سے متعدد بار گزر چکی ہیں، تاہم تحریک انصاف کے لئے سب کچھ ایک نئے تجربے جیسا ہے۔ تحریک انصاف نے ایم کیو ایم کواپنا اتحادی بناتے وقت کچھ وعدے ضرورکئے ہوں گے، اکثر وعدوں کا تعلق شہر کے خستہ حال ترقیاتی ڈھانچے کی بحالی ’نئے ٹرانسپورٹ نظام کی فرخاہمی اور صحت و صفائی کی سہولیات میں بہتری کے لئے تعاون شامل ہو گا۔

تحریک انصاف حکومت کو عوامی مسائل کے تدارک کے وعدوں کی پاسداری ضرور کرنی چاہیے، مگرعوام کے نام پر سیاسی مفادات کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کو بلیک میل کرنا درست نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کے دفاتر وفاقی حکومت نے بند نہیں کرائے، بلکہ یہ کام قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیاہے، کیو نکہ یہ دفاتر سیاسی سرگرمیوں کی بجائے دیگر کاموں کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ تحریک انصاف حکومت کو یہ کریڈٹ ضرور دیا جانا چاہیے کہ اس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فورسز کے کام میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کی ہے۔ اس لئے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ مرکزی حکومت سے کرارچی میں ایم کیو ایم کے بند دفاتر کھلوانے میں مدد کا مطالبہ معاملات کو محض الجھانے کے لئے کیا گیا ہے۔

درحقیقت ایم کیو ایم کو عوام کے مسائل سے زیادہ اپنی بقاء کی فکر ہے، اس کو بڑی مشکل سے موقع ملا ہے کہ وہ اپنی ماضی کی سیاست اور سیاسی حرکیات کو مثبت شکل دے سکے۔ بلدیاتی الیکشن قریب ہیں اور ایم کیو ایم کے کراچی میں دفاتر بند ہیں، اس صورت حال میں سیاسی مستقبل تاریک ہوتا نظر آتا ہے۔ ایم کیو ایم کا وتیرہ رہا ہے کہ وہ حکو مت میں آتے جاتے رہتے ہیں، اگر ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کی وجہ سے مرکزی حکومت سے تعاون ختم کرتی ہے تو ممکن ہے نتائج اس شکل میں برآمد نہ ہوں جس کی توقع کی جا رہی ہے۔

ایم کیو ایم کے تحفظات کا حل مرکزی حکومت کے پاس ہے، اس لیے انہیں مرکز کو ہی دباؤ میں لا نا ہے، کیو نکہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ( ن) اور جمعیت علمائے اسلام صادق سنجرانی کو ہٹانے ’آرمی ایکٹ میں عدم تعاون اور اسلام آباد دھرنے کی صورت میں حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کر چکی ہیں۔ ایسی تمام کوششوں کے نتائج بتاتے ہیں کہ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والی کسی سرگرمی کو پذیرائی نہیں ملے گی، لیکن تحریک انصاف حکومت کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی اکثریت اتحادیوں کے ستون پر کھڑی ہے۔

اتحادی جماعتوں کے جائز اور قانونی مطالبات کو پورا کرنے میں لیت و لعل سے مسائل بڑھتے جائیں گے، اکثر وعدوں کی تکمیل میں سست روی حالات کو اس موڑ پر لے آتی ہے، جہاں بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت کوایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کراچی کے مسائل کے حل کا روڈ میپ ترتیب دینا چاہیے، اس طرز عمل سے ایم کیو ایم سمیت باقی اتحادیوں کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔

وزیراعظم عمران خان کے بقول ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے مطالبات جائز ہیں تو ان کے اقتدار کے 17 ماہ گزرنے پر بھی یہ جائز مطالبات اب تک کیوں پورے نہیں ہوسکے اور ایم کیو ایم کی قیادت کو باربار اپنے تحفظات کے اظہار کی کیوں ضرورت محسوس ہو رہی ہے، اگر حکومتی اتحادی کی محض سیاسی سودا بازی ہے تو پھر اسے اصولی سیاست پر حاوی کرنے کی مجبوری کیونکر لاحق ہوسکتی ہے۔ اس حوالے سے تحریک انصاف حکو مت کو کوئی واضح لائن آف ایکشن لینی چاہیے۔

حکومتی اتحادیوں کے مطالبات جائز ہیں تو انہیں عملی جامہ پہنانے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا جانا چاہیے اور اگر یہ محض سیاسی سودا بازی ہے تو اس پر اپنے اصول قربان نہیں ہونے دینے چاہئیں۔ جمہوریت کی عملداری میں ہاؤس کے اندر تبدیلی میں کوئی قباحت نہیں، تاہم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جانا چاہیے جس سے سسٹم پر کسی قسم کی زد پڑنے کا اندیشہ ہو، تاہم حکومت روایتی اقتداری سیاست ہی کو تھام کر متحرک ہوئی نظر آتی ہے، یقینا حکومتی اتحادی جماعتوں کو مطمئن کرکے حکومت کو لاحق خطرہ ٹال دیا جائے گا، لیکن سودا بازی کی سیاست میں حکومت پر خطرے کی تلوار لٹکتی ہی رہے گی جس میں اصولوں کی سیاست بھی باربار مات کھاتی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *