سنجیدہ ہونے کے قطعاً کوئی ضرورت نہیں
بات کچھ یوں ہے کہ کچھ عرصے سے ایک عجیب سی کیفیت طاری تھی میرے کچھ مہربان قارئین نے گلہ بھی کیا کہ آپ کہاں غائب ہیں۔ کچھ لکھ کیوں نہیں رہیں۔ بتانے کو وجوہات بہت تھیں مگر حال یہ کہ بتانے کو بھی دل نہ چاہے کہ میں کس غبار میں ہوں۔ خیر مجھ پہ یہ عالم آتے جاتے رہتے ہیں آپ اسے عرف عام میں سستی اور الکساہٹ کہہ لیجیے۔ ایسا نہیں تھا کہ خیال بانجھ تھے۔ بہت کچھ ذہن میں آیا، کچھ خیال، کچھ کہانیاں مگر ان کو شکل نہ دینے پہ خیال اپنی موت آپ مرگیے۔
اک بے تکلف دوست نے یہ استفسار بھی کیا کہ چٹکی کاٹ کے دیکھ لوں میں ہوش میں بھی ہوں یا نہیں۔ سو ہوا یہ کہ چٹکی بھری گئی اور کافی زور سے بھری گئی، سو اس طرح حق الیقین حاصل ہوا کہ تخلیق ہمیشہ درد سے جنم لیتی ہے اور چونکہ یہ کالم ایک تلملاہٹ کا نتیجہ ہے سو اس کے متن اور پیش کردہ تجاویز کو قطعاً سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں۔ بس پڑھیے اور سر دھنیے اس بات پہ کہ ایک عدد چٹکی بھی کس قدر کارآمد چیز ہے۔
قصہ دراصل یوں ہے کہ ایک معروف اداکارہ کی ایک انتہائی سنجیدہ اور پردرد پوسٹ جس میں موصوفہ کم سن بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پہ عمدہ تجاویز پیش کررہی تھیں، کومیں نے پسند کرکے مختلف گروپس میں شئیر کرنے جیسے جرم کا ارتکاب کرڈالا۔ موصوفہ کے ذاتی کردار سے میں ناواقف ہوں۔ بطور اداکارہ وہ بجا طور پہ فخر پاکستان کہلانے کی مستحق ہیں کہ ایسی ورسٹلیٹی کسی کوکم ہی نصیب ہوا کرتی ہے۔ اب یہ شراکت کی عادت بد بھی باپ کی ڈالی ہے کہ کچھ اچھا لگا پڑھا تو ہم باپ بیٹی علم کا دسترخوان بچھا کراس رزق کو بانٹ لیا کرتے تھے۔ اب وہ شراکت دار تو ہے نہیں تو ادبی گروپس میں کچھ اچھا لگے تو بانٹنے کا شوق پورا کرلیتی ہوں۔
اب اس پوسٹ کو شیر کرنے کی دیر تھی کچھ ہی دیر میں مغلظات کا انبار لگ گیا۔ کچھ آپ کی خدمت میں بھی حاضر ہیں شاید آپ بھی چٹکی کا لطف لے سکیں : طوائف، کنجری، بے حیا، بے غیرت، چھوکری، اب اصلاح کریں گی ٹھمکے والیاں، وغیرہ وغیرہ
یہ صرف چند ایک جملے ہیں۔ کچھ جملے لکھنے سے مجھے خدشہ ہے کہ میرے قا رئین چٹکی سے بلبلا اٹھیں گے۔ اب یہ گالیاں کھا، سن کر چچا غالب تو ہیں نہیں کہ سن کے بے مزا نہ ہوا۔ اس چٹکی کا خوب مزا آگیا اور بے اختیار کچھ تجاویز ذہن میں کلبلانے لگیں۔ آپ دیکھیے کہ چٹکی کس قدر کار آمد چیز ہے مگر ایک بار پھر کہے دیتے ہیں کہ اس کو سنجیدہ لینے کی قطعی ضرورت نہیں۔
تجاویز کچھ یوں ہیں :۔ ملک میں اداکاری کو مکمل طور پہ کارو کاری کردیا جائے اور اس طرح جب یہ شعبہ ہی اِنا للہ ہو گیا تو یہ اداکار اوراداکارائیں بے کار ہوکر رخصت لے لیں گی، ہو سکتا ہے کسی دوسرے ملک سدھار جائیں، اچھی بات ہے یہاں سے دفعان ہوں، بھلا اس اسلامی ملک میں ان کا کیا کام، پھر ہم بڑے شوق سے بتایا کریں گے اررے یہ جو ہالی وڈ، بالی وڈ۔ یا فلانے فلانے وڈمیں خاتون دھوم مچارہی ہیں یہ تو پاکستانی ہے۔ جی ہاں ہم ایسے ہی محب الوطن ہیں۔
بالفرض محال اس شعبے کو برقرار رکھنا پڑ جاتا ہے تو ان اداکاراوں پہ پابندی لگائی جائے اور قانون بنایا جائے کہ ایسی خواتین برقع پہن کر تشریف لائیں اور ٹھمکا لگاتے ہوئے ہر حال میں شرعی لوازمات کا خیال رکھیں۔ تمام اداکار شلوار ٹخنوں سے اونچی رکھیں، باریش ہوں جب کہ ریش کی لمبائی ماپنے کے لئے باقاعدہ علما کا بورڈ بٹھایا جائے۔
گر یہ سٹیج، ڈرامے کی قدامت اور اہمیت پہ کچھ چوں چراں کریں تو ان کا ناطقہ بند کردیا جائے۔
عوام کی اس اقدام سے یقینا دلی مراد بر آئے گی کہ پھر غیر ملکی گرم مصالحہ کھلے عام یا بلیک میں بکے گا مگر دیکھیے نا اب ہماری مومنانہ غیرت کسی مسلمان کو اداکاری کرنے کی اجازت کیسے دے سکتی ہے۔ ہماری مومن آنکھیں کفار کو مٹکتے لچکتے دیکھ سکتی ہیں مگر اپنے اداکار اور اداکارہ کو ہم اس جرم کے نتیجے میں کوئی اچھی اور دردمندانہ بات کرنے کی بھی اجازت کیسے دے سکتے ہیں۔ ہاں آنکھیں کیونکہ مومن ہین سو انہیں سب کچھ دیکھنے کی مجبوری لاحق ہے۔
اس ضمن میں ایک انقلابی اقدام اور کرنا بھی بہت مفید ثابت ہوگا کہ فنون لطیفہ کے شعبے کو ہی ختم کردیا جائے، جن یونیورسٹیوں میں یہ مضامین پڑھاے سکھائے جاتے ہیں، ان کفر کے اڈوں پہ بلڈوزر چلا دیا جائے، بھلا آرٹ اور فنون لطیفہ سے ہم مسلمانوں کا کیا علاقہ، ہم انہی مجاہدین کے وارث نہیں جنھوں نے پڑوس میں بامیان کے مجسمے اڑا کر رکھ دیے تھے اور ان تمام اقدامات کے باوجود گر ہمارے بچوں میں، آنے والی نسلوں میں فنکار پیدا ہوتے رہیں تو اس مرض پہ نہ صرف ریسرچ ہونی چاہیے کہ یہ ریسرچ بھی ترقی کے نئے راستے کھولے گی بلکہ دور دیسوں سے لوگ اس ریسرچ کا سن کر ہم عجوبہ قوم کا معائنہ کرنے، سیاحت کی غرض سے آیا کریں گے جس پہ ٹکٹ لگا کر ہم خوب دولت کما سکتے ہیں بلکہ ایسے پیدا ہونے والے بچوں کی کہ جن کے ہاتھوں، آنکھوں اور بدن میں خالق نے ایسا کوئی ہنر ودیعت کیا ہے ان کی آنکھوں میں گرم سلاییاں پھیر دینی چاہیں۔
تعلیمی اداروں میں اس بات پہ زور دیا جائے کہ ڈرامہ، فلم انڈسٹری، آرٹ یہ سب لغویات ہیں جن سے ہمارے دین و ایمان کو سخت خطرہ لاحق ہے۔ ہمیں فنکاروں کی چندہ ضرورت نہیں اور جو ہمارے اصطبل کے گھوڑوں کو سیدھا رکھنے کے لیے اصلبلشمنت کو ضرورت پڑی تو وہ ٹک ٹاک طوائفوں کو فنکار بنا کر دم لے گی کہ جن کو جب دل چاہے گا مومنات ثابت کردیا جائے گا اور جو یہ ممکن نہ ہوا تو اور بھی کئی امکانات ہیں جن کے در کھلیں گے۔
امید کی جانی چاہیے کہ ان اقدامات کے بعد یہ طبقہ خود ہی شرم کھا کر مر کھپ جائے گا کہ سنا ہے آرٹسٹ بڑا حساس ہوا کرتا ہے اور امید واثق ہے کہ اس کے بعد ہماری قوم پکی مومن ہوجائے گی اور اس طرح مدرسوں اور تعلیمی اداروں میں کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی جیسے قبیح واقعات کا قلع قمع ہوجائے گا۔ رہی تفریح کی بات تو ہماری حکومت بڑی مخولیہ ہے۔ وہ پہلے عوام کو زور سے چٹکی بھرتی ہے بلبلانے پہ کوئی نہ کوئی شوشہ ایسا چھوڑ دیتی ہے کہ لوگ خواہ مخواہ ہنستے رہتے ہیں۔ یہ سستی تفریح عوام کے لیے کافی ہے۔ کیا آپ کو اس ”تفریح“ کے سستا کہنے پہ اعتراض ہے؟
تو چلیے میں نے تو پہلے ہی گزارش کی ہے کہ سنجیدہ ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔


