ٹڈی دل کا روہی میں حملہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قدرتی آفات کبھی بھی کہیں بھی، کسی بھی امیر یا غریب ملک پر نازل ہوسکتی ہیں جنہیں ہم اپنے لئے آزمائش اور دوسروں کے لیے اللہ کا عذاب قرار دے کر خود کو مطمئن کرتے رہتے ہیں۔

ان کے آنے میں کسی حکومت کا کوئی قصور نہیں ہوتا لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ کسی بھی حکومت کی بصیرت اور اہلیت کی قلعی ضرور کھول جاتی ہیں۔

جیسا کہ آج کل ریاست بہاولپور میں روہی کے علاقے ”ٹڈی دل“ کے شدید حملے کا شکار ہیں۔ جس کی وجہ سے کسانوں میں بجا طور پر خوف و ہراس کی کیفیت ہے۔

ہمارے بزرگو‌ں نے تو شاید اس بن بلائی بلا کو دیکھا ہو گا لیکن ہم نے تو اس کا ذکر محض کتابوں میں پڑھا ہے جہاں ہمارے مورخ کسی ناپسندیدہ حکمران کی فوج کے لیے لفظ ٹڈی دل بطور استعارہ استعمال کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان سے ہماری واحد آگاہی نائجیرین رائیٹر ”چنووا ایچی بی“ کے عظیم ناول ”تھنگز فال اپارٹ“ تک محدود تھی، جس میں ایچی بی بتاتے ہیں کہ کس طرح ٹڈی دل لشکروں کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں ان کو دیکھ کر وہاں کے لوگوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے کیونکہ یہ ان کے لیے لذیذ کھانا ہوتا ہے۔ لیکن ایچی بی یہ بھی بتاتے ہیں کہ ٹڈی دل کس طرح لمحوں میں ہرے بھرے کھیت چٹ کر جاتی ہیں۔ اور درختوں کی شاخوں تک کو توڑ دیتی ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ایچی بی کے ناول میں ٹڈی دل تباہی اور بربادی کو ”سیمبولائز“ کرتی ہیں۔

اسی طرح ایک دن ہم نے بھی چنووا ایچی بی کی بیان کی گئی منظر کشی کو ایک خوفناک حقیقت میں بدلتے دیکھا۔ ان گنت ٹڈیاں نجانے کہاں سے ظاہر ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا آسمان ٹڈیوں سے بھر گیا۔ وہ کسی بے رحم سپاہ کی مانند ہمارے کھیتوں پہ ٹوٹ پڑیں۔ سہمے ہوئے کسان ایک دم سکتے سے باہر آئے، برتن وغیرہ اٹھائے، بھاگ بھاگ کر، برتن بجا کر اور شوروغل کر کے ان کو اڑانے کی کوشش کرنے لگے۔ ان میں ایک عورت ایسی بھی تھی جو اپنی سرسوں کی فصل میں دوڑنے کے ساتھ ساتھ مسلسل روئے بھی جا رہی تھی، یوں لگتا تھا اس کی سرسوں کی ساری زردی اس کے سہمے ہوئے چہرے پہ آ گئی تھی۔

ہمارے روہی کے علاقوں میں گزشتہ دس دن سے ٹڈی دل کی پھیلائی یہ تباہی جاری ہے۔ اور یہ بن بلائی آفت ہماری فصلوں کو مسلسل تاراج کیے جا رہی ہے لیکن ابھی تک کوئی آواز کہیں سے بھی بلند نہیں ہوئی نہ ہی اس کے تدارک کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش ہوئی ہے۔

لیکن جیسے سندھ اور بلوچستان میں یہ سلسلہ نہیں رکا بد قسمتی سے یہاں بھی نہیں رکے گا۔ یہ یہاں سے آگے بڑھے گا۔ پھر آوازیں بھی بلند ہوں گی میڈیا بھی شور اٹھائے گا اخبار بھی خبروں سے بھرے ہوں گے۔ لیکن وہ خبریں ہمارے لیے کسی کام کی نہیں ہوں گی کیونکہ تب تک ہمارے تو کھیت اجڑ چکے ہوں گے۔

غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں۔

ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ملک شہباز علی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *