غربت، بیروزگاری اور خودکشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیکھئے! ہوسکتا ہے آپ کی طبیعت پر گراں گزرے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کا دل دکھ سے بھرجائے یا کم از کم، جیسا کہ گارشیا مارکیز نے کہا ہے، آپ کے حلق میں کڑوے باداموں کا ذائقہ آجائے۔ لیکن یقین جانیے میرا ارادہ کسی کو تکلیف پہنچانا ہرگز نہیں ہے۔ لیکن سچ پوچھئے تو مجھے بہت دکھ پہنچا تھا۔ بلکہ اگر میں زیادہ حقیقت پسندی سے کام لوں تو ابھی تک اس احساس سے نہیں نکل سکا ہوں۔

بات ہی کچھ ایسی ہے۔ ایک بتیس سال کے نوجوان نے اس لیے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگادی کہ وہ اپنے بچوں کو شدید سردی سے ٹھٹھرتے دیکھ سکتا تھا اور نہ ہی اس میں انہیں گرم کپڑے خرید کر دینے کی طاقت تھی۔ یہ خبر مجھے ٹی وی چینل سے ملی۔ آج کل کے دور میں آپ لاکھ چاہیں خبروں سے نہیں بچ سکتے۔ میں تو چھٹی کے روز نیوز چینلز بالکل نہیں دیکھتا، اخبارات سے بھی خود کو دور رکھتا ہوں۔ ٹی وی پر کارٹون دیکھنا زیادہ پسند کرتا ہوں۔ اس سے میری چھوٹی بیٹی بھی خوش ہوتی ہے۔

آپ تو جانتے ہیں بیٹیاں باپ کی لاڈلی ہوتی ہیں۔ میرحسن، اس خودسوزی کرنے والے نوجوان کا نام میر حسن ہی تھا، کو بھی اپنی بیٹی سے بہت پیار تھا۔ اس کے مستقبل کی بہت فکر تھی۔ جس کا اندازہ میرحسن کے سوسائیڈنوٹ یعنی خودکشی سے پہلے لکھے ہوئے خط سے ہوتا ہے۔ ۔

اس دن میری چھٹی تھی لیکن خلاف معمول نہ جانے کیوں میں نے نیوز چینل لگالیا۔ جہاں میر حسن کی خودکشی کی خبر چل رہی تھی۔

میر حسن اپنی بیوہ اور بچوں کے لیے صدمے، مستقل دکھ، غصے اور محرومیوں کے علاوہ ایک خط بھی چھوڑگیا، جس میں اس نے اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ اس کے بچوں کو گھر دیا جائے اور اس کی بیٹی کو تعلیم کے لیے مدرسے میں داخل کرایا جائے۔

میرحسن ان لاکھوں محنت کشوں میں سے ایک تھا جو بہتر معاشی حالات کی تلاش میں کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ اس نے ضلع سانگھڑ کی تحصیل جام نواز علی سے آکر غریب ماہی گیروں کی بستی ابراہیم حیدری کو اپنا مسکن بنایا تھا۔ لیکن غربت اور معاشی بدحالی کے دیو نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ وہ گدھا گاڑی چلاکر اپنی زندگی کی گاڑی کو گھسیٹتا رہا۔ اس نے غربت اور جہالت کی دلدل سے نکلنے کے خواب دیکھے تھے۔

امید ٹوٹتی ہے اور خواب بکھرتے ہیں تو انسان بھی ٹوٹ جاتا ہے، بکھرجاتا ہے۔ سامنے اگر محرومیوں کا شکار سردی میں ٹھٹھرتے اپنے بچے ہوں تو انسان کہاں تک برداشت کرسکتا ہے۔ میرحسن نے وہ قدم اٹھایا جو اسے نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ کرہی لیتا۔ اس نے غلط راستے کا انتخاب کیا۔

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے میر حسن نے خودسوزی سے پہلے وزیراعظم کے نام ایک خط چھوڑا ہے جس میں اپنے بچوں کے لیے ایک گھر اور بیٹی کو مدرسے میں داخل کرانے کی اپیل کی گئی ہے۔ شاید اس خط کی اطلاع پہنچ گئی اور تین روز بعد پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ عمران اسماعیل پی ٹی آئی کے ارکان سندھ اسمبلی کے ہمراہ تعزیت کے لئے پہنچ گئے۔

ان کا قافلہ میرحسن کے گھر کے سامنے پہنچا۔ گلی میں تعزیت کے لئے آنے والوں کے لئے بچھی چادر لوگوں سے خالی نظر آرہی تھی (یہ منظر میں نے ٹی وی چینل پر دیکھا) ۔ قافلے میں پی ٹی آئی کے سب سے زیادہ سرگرم نظر آنے والے رکن سندھ اسمبلی نے سندھی زبان میں کہا، گھر میں کوئی مرد ہو تو تعزیت کے لئے آجائے۔

اگلے منظر میں گورنر سندھ اور ارکان سندھ اسمبلی میرحسن کے پانچ معصوم بچوں سے تعزیت کرتے نظر آرہے تھے۔ گورنر سندھ اور ان کے ساتھی بہت دکھی تھے۔ میرحسن کی معصوم بچی کے ہونٹوں پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ نظر آرہی تھی۔

صحافیوں سے بات چیت میں گورنر صاحب نے اعلان کیا کہ مرحوم کے اہلخانہ کو امدادی چیک دیدیا ہے اور انہیں رہنے کے لیے گھر بھی دیا جائے گا۔ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا احساس پروگرام بے روزگار نوجوانوں کے لیے ہی ہے۔

سنا ہے کچھ لوگوں نے میرحسن کے بچوں کو سردی سے بچنے کے لیے گرم کپڑے اور رضائیاں بھی دیدئے ہیں۔

مبارک ہو میرحسن۔ تمہاری خواہش پوری ہوگئی۔

یہ نہیں ہے کہ صرف پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کے نمائندے ہی میر حسن کی تعزیت کے لیے پہنچے۔ سندھ میں قائم پیپلزپارٹی کی حکومت کو بھی میرحسن کے بچوں کا پورا خیال ہے۔ گورنر سندھ کے دورے کے ساتھ ہی وزیراعلٰی سندھ کی بھی خبر آگئی کہ انہوں نے خودسوزی کے اس واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا ہے چونکہ میر حسن کا تعلق وسطی سندھ کے علاقے جام نواز علی سے تھا اس لیے انہوں نے کمشنر میرپورخاص ڈویژن سے بھی اس خاندان کے حالات کے بارے میں رپورٹ منگوائی ہے۔ ساتھ ہی وزیراعلٰی مراد علی شاہ نے کہا خودکشی حرام ہے۔ مذہب مسائل کے خلاف جدوجہد کا درس دیتا ہے۔

شاید میر حسن کو غربت اور افلاس کی برائی نے اتنا خوفزدہ کردیا تھا کہ وہ بھول گیا کہ خودکشی حرام ہے۔

ہوسکتا ہے وزیراعلٰی سندھ تک لاڑکانہ کے اس تینتیس سالہ درزی نعیم کی خبر نہ پہنچی ہو، جس نے میرحسن کی خودسوزی کے دو روز بعد ہی موت کو گلے لگالیا۔ مسلسل کام نہ ملنے اور مالی بدحالی کی وجہ سے شاید وہ بھی یہ بھلا بیٹھا تھا کہ خودکشی حرام ہے۔

وزیراعلٰی مراد علی شاہ، گورنر سندھ اور وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کو اطلاع ہو کہ میر حسن اور لاڑکانہ کا نعیم پاکستان میں خودکشی کرنے والو ں کے اعداد و شمار میں صرف ایک ہندسے کا اضافہ ہیں۔ ورنہ تو گزشتہ پانچ سال کے دوران صرف سندھ میں تیرہ سو افراد زندگی کے دکھوں سے بھاگ کر موت کو گلے لگا چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد نوجوانوں اور خواتین کی ہے، جن کی عمریں اکیس سے چالیس سال کے درمیان ہیں۔ خودکشی کی بنیادی وجہ غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کا نہ ہونا ہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *