بے روزگاری کی وجوہات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معیشت اور معاشی ترقی کے لیے اہم عوامل میں سے ایک فیکٹر کام کرنے والے لوگ (مزدور) ہیں، مگر چونکہ کام کرنے والوں سے زیادہ مسائل کام نہ کرنے والے لوگوں کے ہوتے ہیں، اس لیے ہمیشہ بے روزگار اور بے روزگاری کی باتیں زیرِ بحث نظر آتی ہیں۔ اگر آپ کسی یورپی ملک میں بے روزگار ہیں تو امید ہے آپ کو کوئی زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، مگر ایسی عیاشی دنیا کے دیگر ممالک میں ممکن نہیں ہے اس لیے بے روزگاروں کے ساتھ لامحالہ پریشانیوں اور تنگیوں کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ کام کرنے والوں کے حوالے سے عموماً ہمارے تصورات اچھے ہوتے ہیں سوائے چند ایک طبقوں مثلاً چائلڈ لیبر (بچوں سے کام کروانا) اور فورسڈ لیبر (زبردستی کام لینا یا غلام بنانا) وغیرہ کے۔

معیشت کے مکاتب فکر میں سے صرف سوشلسٹس ہی بے روزگاروں کے حق میں اونچی آواز میں بات کرتے ہیں۔ بے روزگاری کے حوالے سے سوشلسٹس مکتبہ فکر کا خیال ہے کہ یہ معاشرے کے علاوہ معیشت کے لیے بھی انتہائی منفی چیز ہے۔ لوگوں کو بے روزگار رکھ کر ہم اپنے دستیاب وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ اس سوچ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ محض ہیومین ریسورسز (افرادی قوت) کا ضیاع نہیں بلکہ اور کئی وسائل کا بھی ضیاع ہے۔ بے روزگار لوگوں کی وجہ سے انڈسٹری کی مشینیں بند پڑی رہتی ہیں اور ان سے ہم مکمل حد تک پیداوار نہیں لے سکتے۔ بے روزگار لوگوں کی مہارتیں پرانی ہو جاتی ہیں اور یوں وہ کچھ عرصے بعد مکمل طور پر معاشرے کے ناقابل استعمال وسائل میں شامل ہو کر معیشت پر بوجھ بن جاتے ہیں۔

اگر اس خیال کو مان لیا جائے تو فطری طور پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگر بے روزگاری سے معیشت کا نقصان ہی نقصان ہے پھر لوگ بے روزگار کیوں رہ جاتے ہیں؟ بے روزگاری کی کچھ اہم وجوہات میں سے ایک وجہ روزگاروں کا پیدا ہو کر ختم ہو جانا ہے۔ فرض کریں ایک امیر شخص عید قرباں کے لیے رمضان کے آخر میں ہی قربانی کے کچھ جانور خریدتا ہے۔ ان جانوروں کا خیال رکھنے کے لیے وہ پانچ اشخاص کی نوکری لگاتا ہے۔ جونہی یہ جانور دو مہینے بعد قربان کیے جائیں گے تو یہ پانچ اشخاص بھی بے روزگار ہو جائیں گے۔

ہو سکتا ہے آپ کہیں کہ چند دن بعد کسی اور امیر کو اس طرح کے ملازم کی ضرورت پڑ سکتی ہے، مگر ان دونوں روزگاروں کے درمیان اسے کچھ عرصہ لازمی بے روزگار رہنا پڑتا ہے۔ یہ روزگاری کے درمیان کی بے روزگاری (شارٹ ٹرم بے روزگاری) دراصل سب سے اہم بے روزگاری ہے۔ بے روزگاری کی ایک دوسری اہم وجہ کسی مہارت کی اہمیت کا کم یا ختم ہو جانا ہے۔ اس کی مثال کسی بھی ایسی نوکری کی شکل میں آپ سوچ سکتے ہیں جس کی جگہ ٹیکنالوجی نے لی ہو۔

مثال کے طور پر خطاطوں کا کام کمپیوٹرز اور پرنٹرز کے آنے کے بعد بہت کم ہوا اور بہت سے لوگ بے روزگار ہوئے۔ ایک تیسری اہم وجہ دوسری وجہ سے کسی حد تک ملتی جلتی ہے، وہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے مہارت کی بجائے کسی چیز کی ڈیمانڈ (طلب) وقتی طور پر ختم ہو اور اس انڈسٹری سے منسلک لوگ وقتی طور پر بے روزگار ہو جائیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ سردیوں کے ملبوسات تیار کرنے والی فیکٹری میں یومیہ مزدوری کی بنیاد پر کام کرتے ہوں اور گرمیوں کا کچھ حصہ فیکٹری بند رہنے کی وجہ سے انہیں بے روزگار رہنا پڑتا ہے۔ ان تین عوامل کے علاوہ گورنمنٹ کی پالیسیوں اور مزدور یونینز کی وجہ سے بھی لوگ بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر گورنمنٹ کسی شعبے میں کوئی تنخواہ مقرر کرے اور کوئی مزدور یونین ان تنخواہوں کو قبول نہ کرے اور ہڑتال میں مزدور استعفیٰ دے کر بے روزگار ہو جائیں۔

بے روزگاری کی ایک اور اہم وجہ سرمایہ دار ہیں۔ سرمایہ داروں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کام مشینوں سے لیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشینیوں پر ایک دفعہ کا خرچہ ہوتا ہے اور پھر بہت کم پیسے ان پر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ ذی روح مزدوروں کی طرح مشینیوں کے کوئی ڈیمانڈز (مطالبے ) بھی نہیں ہوتے۔ مشینوں کو کوئی معاشرتی مسائل کی وجہ سے چھٹی کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ مشینوں کے دکھ سکھ کے جذبات بھی نہیں ہوتے کہ ان کی وجہ سے کسی دن زیادہ کام کریں یا کبھی کم۔

مزدوروں کو بے روزگار رکھنے کے لیے سرمایہ دار مل کر مختلف چال چلتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب ایک نوکری پیشہ شخص ایک کمپنی چھوڑ کر کسی دوسری کمپنی میں جاتا ہے تو اس کو نوکری نہیں دی جاتی اس وجہ سے کسی بھی شخص کے لیے نوکری چھوڑنا بے روزگاری کی ڈر کی وجہ سے بہت خطرناک ہوتا ہے۔ اس کا فائدہ سرمایہ دار کو یہ ہوتا ہے کہ مزدور کے نخرے ختم ہو جاتے ہیں اور سرمایہ دار اس سے زیادہ سے زیادہ پیداوار لیتا ہے۔

بے روزگاری کو ماپنا ایک مشکل کام ہے۔ ایک آسان طریقہ یہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ سارے لوگ شمار کیے جائیں جو کام نہیں کرتے، مگر یہ اعداد و شمار کوئی خاطر خواہ معلومات نہیں دیتے۔ کام نہ کرنے والوں میں تو وہ سب بھی شمار ہوتے ہیں جو عمر رسیدہ ہوں یا پھر بہت چھوٹے ہیں، عموماً پندرہ سال سے کم عمر والے بچے سمجھے جاتے ہیں اور پینسٹھ سال سے زائد عمر والے بوڑھے شمار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے لوگ بھی اس شمار میں شامل ہو جاتے ہیں جو جان بوجھ کر کام نہیں کرنا چاہتے ہوں۔

جیسے کوئی شخص تعلیم حاصل کر رہا ہو اور ابھی نوکری کا خواہش مند نہ ہو یا پھر اپنے گھر میں کوئی کام کرتا ہو اور اسے کسی نوکری کی ضرورت ہی نہ ہو۔ ان سب پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے آج کل بے روزگاری ماپنے کے لیے صرف ان لوگوں کا شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے کسی نوکری کے لیے درخواست تو دے دی مگر ابھی اس کے پاس روزگار نہیں۔ اس حساب سے پاکستان میں بے روزگاری کی شرح چھے فی صد کے قریب ہے جبکہ دنیا کے ایک سو بیس سے زائد ملکوں میں بے روزگاری کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہے۔ بے روزگاری کے اس طرح کے اعداد و شمار پاکستان جیسے ملک کے لیے کوئی خاص معنی خیز نہیں کیونکہ ہمارے ہاں نوکری کے لیے درخواستیں بہت کم دی جاتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply