یہی تو فرق ہے ہماری اور دشمن ملک کی عدالتوں میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور ہائی کورٹ نے جنرل مشرف غداری کیس کا دوبارہ فیصلہ سنایا ہے۔ معزز عدلیہ نے جسٹس مطاہر اکبر نقوی کی سربراہی میں بننے والے تین رکنی بینچ نے خصوصی عدالت کا پھانسی کی سزا کا فیصلہ ہی نہیں ختم کیا بلکہ عدالت کی تشکیل کو بھی غیر آئینی قرار دے دیا ہے اور پچھلے فیصلے کے بخیے ادھیڑ ڈالے۔ جنرل مشرف کے سنگین غداری کیس کا سزائے موت کا فیصلہ چند ہفتے بھی برقرار نہیں رہ سکا۔ جسٹس وقار سیٹھ نے مذکورہ فیصلے میں پیرا ایک سو چھیاسٹھ کی پخ لگائی تھی جس کی وجہ سے کچھ حلقوں میں فیصلے کی وجہ سے پائے جانے والے اضطراب میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔

قوم نے سجدہٕ شکر بجا لایا کہ ایک محب وطن جنرل کے ماتھے پر لگے غداری کے داغ کو یکبارگی دھو دیا گیا ہے۔ ابھی تو صرف جنرل کے خلاف فیصلہ دینے والی خصوصی عدالت ہی ختم کی گئی ہے اگر زیادہ گڑ بڑ ہوئی تو آئین کو بھی غیر آئینی قرار دیا جا سکتا ہے۔ غضب خدا کا سابق آرمی چیف، جی دار کمانڈو، فاتح کارگل اور بطور صدر پاکستان گیارہ سال تک پاکستان کی خدمت کرنے والا جنرل غدار وطن کیسے ہو سکتا ہے۔ غداری اور ملک دشمنی کا طوق تو ہمیشہ کرپٹ اور چور سیاستدانوں کو زیبا ہے۔

بھٹو منتخب وزیر اعظم تھا اس کا سر عام عدالتی قتل کر دیا گیا جبکہ جنرل مشرف محب وطن تھا اس کے لیے عدالت ہی قتل کر دی۔ سولین وزیر اعظم کے خلاف کیس چلے تو وہ تا حیات نا اہل اور محب وطن جنرل کے خلاف کیس چلے تو عدالت ہی نا اہل۔ ہم جیسا انصاف کون کر سکتا ہے؟ اللہ کا شکر ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے بر وقت حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے ریاستی اداروں کے خلاف مذموم اور منظم سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی بیخ کنی کرکے آئین، قانون اور عدل انصاف کا بول بالا کیا ہے۔

اس موقعے پر ہمیں دشمن ملک کی عدلیہ کا ایک مشہور زمانہ بلکہ بدنام زمانہ مقدمہ یاد آ رہا ہے۔ ایک خاتون نے اپنے شوہر پر کیس کر دیا کہ میرے شوہر نامدار نامرد ہیں اور وظیفہٕ زوجیت ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ عدالت سے درخواست ہے کہ وہ حقائق کی روشنی میں فیصلہ صادر فرمائے اور مجھے خلع دلوائے۔ کچھ روز بعد دشمن ملک کی اسی عدالت میں ایک دوسری خاتون نے اسی شخص پر مقدمہ دائر کر دیا کہ نہ صرف اس نے میرے ساتھ لا تعداد مرتبہ زیادتی کی ہے بلکہ مجھے حاملہ بھی کر دیا ہے۔

معزز عدالت سے گزارش ہے کہ وہ بیان کیے گئے حقائق کی روشنی میں متعلقہ شخص کو قرار واقعی سزا دے تاکہ آئندہ کوئی موالی ایسی گری ہوئی حرکت نہ کر سکے۔ دشمن ملک کی عدالت میں دونوں کیس کچھ عرصہ چلتے رہے۔ کئی سماعتیں ہوئیں۔ گواہان و ثبوت پیش کیے گئے۔ جائے وقوعہ کے دورے کیے گئے۔ دونوں متاثرہ خواتین اور ملزم کو بلایا جاتا رہا۔ آپ کو یہ جان کر یقیناً خوشی ہو گی کہ دشمن ملک کی عدالت نے نالائقی اور پیشہ ورانہ نا اہلی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم کو دونوں کیسوں میں مجرم قرار دے کر انصاف کا منہ کالا کیا۔ یعنی وہ شخص دونوں کیس ہار گیا۔ مگر یہ سب کچھ دشمن ملک کی ان کینگرو کورٹس میں ہوتا ہے جو طاقتوروں کی خوشنودی کے لیے عدل و انصاف کو سر عام قتل کر تی ہیں۔ ہماری عدالتیں تو ماشا اللہ مکمل آزاد، حق گو اور میرٹ پر فیصلہ کرنے کی روشن روایات کی پاسداری کرتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *