جوتے کو بھلے عزت دیں جوتا آپ کو عزت نہیں دے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوتا انسانی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، دور قدیم سے اسے اپنے پاوں کو سردی، تپش، کانٹے، پتھر، کیل وغیرہ مطلب ہر اس چیز سے آپ کے پاوں کو محفوظ رکھنے کے لئے پہنتے ہیں، جوتا پاپوش کو کہتے ہیں یعنی انسان اپنے پاؤں کو اس سے ڈھانپتا ہے۔ مختلف ثقافتوں میں اس کی کئی شکلیں ہیں۔ انسانی مختلف ضرورتوں کے اعتبار سے اس کی متعدد اقسام ہیں۔ جوتے کو کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے، پہلے عربی میں اسے نعل کہتے تھے اب حذا کہتے ہیں۔ اسے پاپوش، کفش، شو بھی کہتے ہیں۔ زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ جوتے کی بہت سی قسمیں ہوگئی ہیں۔ بوٹ، شو، گرگابی، سلیم شاہی، ملتانی، مکیشن، پمپی، ناگرا، سینڈل، سلیپر، چپل، کھڑاؤں، لانگ بوٹ Combat Boot وغیرہ۔

لانگ بوٹ جنہیں عام طور پر Combat Boot کہاجاتا ہے، یہ جنگی جوتے کہلاتے ہیں۔ جنگی جوتے فوجی جنگجوؤں یا جنگجو تربیت کے دوران فوجیوں کی طرف سے پہنے جاتے ہیں، یہ کافی مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں۔ جدید جنگی جوتے گندگی والے ماحول کے لئے موزوں گرفت، ٹخنوں کی استحکام، اور پاؤں کے تحفظ کے ایک مجموعہ فراہم کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہوتا ہے۔ وہ روایتی طور پر باہر سے سخت اور اندر سے بالکل نرم ہوتے ہیں۔ ان جوتوں کی تہہ میں سخت قسم کا ربڑ لگایا جاتا ہے۔ جو بعد ازاں اگر ٹھڈے کی صورت لگ بھی جائے تو بہت تکلیف دہ ہوتا ہے خیر۔

جوتے کو عام طور پر کئی پرانے خیالات نے بھی گھیر رکھا ہے۔ اس سے کئی قدیمی منگھڑت تو کئی سبق آموز کہاوتیں بھی منسوب ہیں۔ جوتے سے کئی منگھڑت باتیں بھی منسوب ہیں جیسے سیاہ جوتا نہ پہننا چاہیے۔ کیونکہ یہ غم و رنج کا باعث ہوتا ہے۔ جوتے کا سب سے عمدہ رنگ زرد اور اس کے بعد سفید ہے۔ کافی مشاہیر کا یہ ماننا ہے کہ جو آدمی زرد جوتا پہنے ہمیشہ خوش حال رہے گا جب تک کہ وہ جوتا پرانا ہو اور پھٹ جائے۔ لیکن پھر بھی کمپلسری جوتوں سے لے کر عام پہناوے میں بھی بلیک رنگ ٹاپ پر ہے زرد رنگ کا تو کہیں نام نشان نہیں البتہ کہیں کوئی ہوبھی تو لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔ سفید رنگ عام طور پر اسپورٹس شوز میں پہنا جاتا ہے۔ جب کہ کالا رنگ شاہکار ہے اور لانگ بوٹ بھی کالا ہوتا ہے۔

عرب و عجم، مغربی و مشرقی ثقافت میں کسی کو جوتا دکھانا حقارت کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔ کسی کو جوتا مارنا اس سے زیادہ قابل حقارت عمل ہے۔ اس لیے جوتا مارنا، جوتے کی نوک پر رکھنا، جوتوں کو چاٹنا، جوتے پالیش کرنا، جوتے اٹھانا، جوتے پہنانا، جوتے سیدہے کرنا، تسمے باندھنا، تسمے کھولنا، جوتے سونگھنا وغیرہ یہ سیاسی و سماجی زندگی میں اعلی پائے کے محاورے مانے جاتے ہیں اور روز مرہ زندگی میں سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔

جوتے کی حقارت سے دنیا کی بڑی شخصیات نا بچ سکیں کسی کو جوتا دکھایا گیا تو کسی کق مارا گیا اس کے علاوہ دنیا کی قدیم تاریخ سے لے کر آج تک ان جوتوں نے کئی معصوم لوگ کچل دیے۔ کئی ان کو چاٹ کر اعلی ایوانوں تک پہنچے کئی ان سے ٹکرا کر امر ہوگئے کئی ان سے ٹکرا کر زندگی کی جنگ ہار گئے۔

2008 میں عراقی دارالحکومت بغداد میں اس وقت کے عراقی وزیر وزیراعظم نوری المالکی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر جارج بش پر دو جوتے پھینکے گئے۔ پریس کانفرنس کے دوران ایک عراقی صحافی المنتظر زیدی نے اپنے جوتے صدر بش پر پھینکے اور انہیں ’کتا‘ کہا۔ اس کے بعد سکیورٹی گارڈز اس صحافی کو حراست میں لے کر پریس کانفرنس سے باہر لے گئے۔

اس کے علاوہ برطانوی سابق وزیراعظم ٹونی بلئیر۔ ترک صدر رجب اردوان۔ سابق یونانی صدر جارج پائنڈو۔ سابق آسٹریلوی صدر جان ہاورڈ۔ سوڈانی سابق وزیراعظم عمر البشیر اور سابق ایرانی صدر احمدی نژاد، بھارت میں اروند کجریوال کو جوتا ہی نہیں تھپڑ بھی پڑا۔ سیاہی اور موبل آئل کے داغ بھی لگے۔ وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کو 70 کے عشرے میں لیاقت آباد کی سپر مارکیٹ کے افتتاح کے موقع پر مجمع میں انہیں جوتے دکھائے گئے تب بھٹو نے اپنی حاضر دماغی کا ثبوت دیتے ہوئے جواب دیا کہ ہاں ہاں ”مجھے پتہ ہے جوتے مہنگے ہوگئے ہیں“۔

پاکستان میں پہننے میں جوتوں کا پوری دنیا کی طرح استعمال ہوتا ہے لیکن سیاست میں ان جوتوں کا خاص مقام ہے۔ یہ جوتے پاکستان میں مہرے بھی ہیں تو پیادے بھی۔ ہر بازی ان کے بدلنے سے بدلتی ہے۔ جیسے مارشل لا کے لئے جوتوں کی آواز سنائی دینے جیسی سابق پیر پگاڑا صاحب کی پیشنگوئیاں مشہور ہوئیں۔ پاکستانی سیاست میں آج بھی بوٹ کا ایک الگ مقام ہے جو کہ ایک بوٹ اپنی پوری واردات سمیت نجی چینل اے آر وائی کے پروگرام میں پہنچ گیا۔ اور یہ کوئی عام بوٹ نہیں تھا نا ہی اسے اٹھا کر لانے والا بندہ کوئی عام تھا۔ یہ اس ستر سالا ملکی روایت کا تسلسل تھا جو آج منظر عام پر آگیا۔ میں تو حکومتی وزیر کو داد دوں گا کہ

بہت دیر کردی مہرباں لاتے لاتے،

اس پروگرام میں جو کہ نواز شریف کی حالیہ وائرل ہونے والی تصویر پر بحث کے لئے سوال رکھے گئے تھے جس میں حکومتی وزیر فیصل واوڈا صاحب لانگ بوٹ Combat Boot ٹیبل پر رکھ کر ن لیگ سے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر غیرمشروط حمایت پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ، یہ جو آپ نے لیٹ کر بوٹ کو عزت دی، یہ ہے آج کی ن لیگ جنہوں نے لیٹ کر نہیں چوم کر بوٹ کو عزت دو کا بیانیہ جاری کیا ہے۔ میں تو ہر پروگرام میں بوٹ کو لاکر رکھوں گا۔ وغیرہ وغیرہ

مجھے پہلی دفعہ فیصل واوڈا بہت اچھا لگا اس نے ن لیگ کی نہیں اس ملک کی سیاست سے ساتھ اس بوٹ کے کھلواڑ کو ببانگ دہل لائیو پروگرام میں بیان کردیا جو بات اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیز کے نمائندوں کو نہایت بری لگی اور وہ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ آج مجھے سندھ دھرتے کے وکیل رسول بخش پلیجو صاحب بہت یاد آئے۔ اور اس کی یہ نظم جو غالبا سندھی میں لکھی گئی تھی بہت یاد آئی۔

چمکتے لانگ بوٹ

نہیں! تیرے اور میرے بوٹوں کو بھی

ایسا صاف اور چمکدار بنانے کے لیے

ایسی پالش بازار میں نہیں ملے گی

یہ پالش

جس نے ان لانگ بوٹوں پر لگی

اتنی صدیوں کی غلاظت

اوراتنی نسلوں اور اتنی قوموں کے

خون کے دھبے دھو کر

انھیں ایسا صاف اور چمکدار کیا ہے

یہ (پالش) دنیا کے کسی کارخانے میں نہیں بن سکتی

یہ ایک منفرد ہنر ہے

جو رات کی تاریکی یا دن کے اُجالے میں

انھیں چاٹ کر

ایسا صاف اور دمکتا رکھتا ہے

تیرے، میرے جیسے لوگوں کی زبانیں

یہی وہ کاریگر زبانیں ہیں

جو کل

ہمارے ساتھ

جلسوں، جلسوں، تھانوں اور بند وارڈوں میں

قوم اور دھرتی، دین ومذہب

اور جمہوریت و سوشلزم کے

فلک شگاف نعرے لگا کر

اقتدار کے ایوانوں پر لرزہ طاری کر دیتی تھیں

اور جو کل دوبارہ یہی نعرے لگا کر

خود میں مطلوبہ تاثیر پیدا کر کے

پھر اگلے روز

رات کی تاریکی یا دن کے اُجالے میں

انھیں چاٹ کر ایسا صاف اور چمکدار رکھنے کی

کاریگری کے دھندے میں مصروف ہو جائیں گی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *