جشن سال نو اور ازلی بے بسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اختتامِ شام ہجراں کے انتظار میں نجانے کتنے ہی چاند بے آواز رونے میں مصروف ہیں۔ نہ جانے کتنے سورج سمندر میں آگ لگائے بیٹھے ہیں۔

مایوسی لے کے خالی ہاتھ پلٹنا کیسا تڑپا دینے والا ہے۔ اس بات کا اندازہ وہ انسان اچھی طرح کر سکتا ہے جو چائلڈ کورٹ کے سامنے بیٹھا اپنے بچوں سے ملاقات کی امید باندھے ہر گزرتے لمحے کو قیامت کی طرح جھیلتا آیا ہو اور طے شدہ وقت سے چند لمحے پہلے اسے اس بات کا علم ہو کہ بچے سے ملاقات کے لئے اسے اب عدالت کی اگلی تاریخ کا انتظار کرنا پڑے گا۔

عہدِ الفت باندھتے وقت سمجھ بوجھ سے کام لینا اور اپنے کیے گئے وعدوں کو وقت کی تمازتوں کے باوجود وفاکرنا ہی تعلق میں سب سے پر کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔

صباحتوں کو اپنے اوپر حاوی کرنے والے لوگ اکثر تعلقات میں منافقانہ کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگی کو بھی جہنم بنا دیتے ہیں۔ ان کے اس رویے کا شکار سب سے زیادہ ان کا اپنا ہمسفر ہوتا ہے جو اس بات سے تاحیات ناآشنا ہی رہتا ہے۔

گزرتے وقت کے ساتھ محبوب کی طرف سے ملنے والی بے اعتنائیاں جہاں روح پر آبلے ڈال دیتی ہے وہیں شاخِ دل جو جذبات کے جوبن پر آنے کی وجہ سے ہری ہوکر رنگ خوشبو اور مسرتیں وجود میں گھولنے کے ساتھ ساتھ سرشاری پیدا کرنے کا موجب بنی تھیں، ان بے وفائیوں اور منافقانہ رویوں کی بھینٹ چڑھ کر خزاں رسیدہ ہو جاتی ہے۔

اپنے دامن میں تمام وحشتوں کو سمیٹ کر ایک نئی صبح امنگوں کے جوبن کے ساتھ نئے سال کی شکل میں زندگی کی دہلیز پر ہرسال اپنے قدم جماتی چلی جاتی ہے۔ زندگی میں آنے والا ہر نیا سال کتابِ ماضی میں موجود تلخ یادوں کی سیاہی کو پھیکا کرتا چلا جاتا ہے اور لوگ تجربات کی بھٹی میں خود کو کندن کرتے ہوئے بہتر مستقبل کی آس لگائے نئے سال کو خوش آمدید کرتے رہتے ہیں۔ زندگی سے موت کی جانب سفر کا یہ مرحلہ خوب جوش و خروش اور سال نو کی آمد کے سلسلے میں منائے جانے والے جشن کے ساتھ جاری رہتا ہے۔

ہر گزرتے سال کے ساتھ رفاقتوں کی متلاشی آنکھیں جہاں ذات سے منسلک لوگوں کے جہان فانی سے کوچ کرنے پر غمزدہ ہوتی ہیں وہیں محبتوں کی تلاش میں دربدر جسم سوگواری اور آہ و زاری کے عالم میں سسکتی یادوں کا باڑاٹھائے بلکتے رہتے ہیں۔

نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے بھاگ دوڑ میں مصروف فانی جسم کے بوجھ تلے موجود روح انسان کی لاعلمی پر ماتم کناں ہوتی ہے۔

چاند کی ٹھنڈی روشنی میں میں باندھے گئے عہدوپیماں، مصلحت کی اندھیری قبروں میں دفن کرکے انسان کی روح جسم سے بغاوت کا اعلان کر دیتی ہے۔

یہ نہ سمجھ انسان زندگی کے آخری ادوار تک سال نو کا جشن منانے کے لیے کبھی شعوری اور کبھی لاشعوری طور پر ہمہ تن گوش رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *