سیاست میں بداخلاقی کا کلچر ایک بہت بڑا المیہ ہے
سیاست میں بداخلاقی کا کلچر ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ یہ بات مجھے ایک ٹی وی پروگرام میں وفاقی وزیر کے جوتا اٹھا کر لے آنے اور پھر میز پر رکھنے پر کہنی پڑی۔ اس پر بانو قدسیہ کا قول بھی یاد آ گیا کہ ”کسی کی بدتہذیبی سے مت گھبرائیں بس وہ اپنا تعارف کراتے ہیں سمجھداری اسی میں ہے کہ آپ انہیں پہچان کر آگے چل دیں“۔ اکثر سیاست کے مقام میں سنا کرتے ہیں۔
سیاست ہوتی اگر مذہب سے جدا تو لے جاتی چنگیزی اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت سیاست اگر صحیح معنوں سے کی جائے تو وہ مذہب سے جدا کیسے ہو سکتی ہے اور اگر مذہب سے جدا نہیں تو پھر اس میں اخلاقیات کا دائرہ کار کس حد تک ہو سکتا ہے۔ مگر بدقستی سے ہماری سیاست میں بداخلاقی کا کلچر فروغ پا رہا ہے کہ یہ ہماری قومی سیاست کا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ کئی سالوں سے سے کچر گالم گلوچ سے ہوتا ہوا یہاں تک پہنچا کہ ایک وزیر کے عدم برداشت کا رویہ اس حد تک جا رہا ہے کہ وہ دو مختلف موقعوں پر تھپر رسید کرتا ہے۔
پھر آج اس حد تک یہ بداخلاقی کا معیار ہو جاتا ہے کہ ایک وفاقی وزیر فیصل واڈا ARY نیوز کے کاشف عباسی کے پروگرام میں جوتا اٹھا کر لے آتاہے اور اسی مناسبت سے گفتگو کرتا ہے تو پھر ہر عام انسان کو بھی یہ سوچنے پہ مجبور کرتا ہے کہ کیا یہ ہماری سیاست میں ایک بہت بڑا المیہ نہیں کہ ہمارے ملک کی بھاگ دوڑ اب ایسے ہاتھوں میں ہے جو اخلاقیات اور تہذیب اور معاشرتی اقدار اور معاشرتی اعلی رویوں سے ناآشنا ہیں۔ کیا کوئی کسی مخالف کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کرے۔ گالم گلوچ پہ اتر آئے۔
مونچھوں سے گھسیٹنے کی باتیں کرے۔ کیا یہ اس وطن مدینے کی ریاست بنانے کے دعوے دار ہیں۔ جس ریاست میں تو اخلاقیات اور تہذیب کی وہ مثالیں تھیں کہ بڑے سے بڑے دشمن بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے تھے اور غیر مسلم ان رویوں سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتے تھے۔ تاریخ اسلام میں امیرالمومنین حضرت علی کی مثال موجود ہے کہ مقابلے کے بعد مشرک کے سینے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اسے قتل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے چہرے مبارک پر تھوک دیتاہے توپھر آپ اس کے سینے سے اتر جاتے ہیں۔ وہ دشمن حیران رہ جاتا ہے کہ پہلے تو قتل کرنے کا ارادہ تھا مگر اب تھوکنے کے بعد اب چھوڑ دیاتو حضرت علی نے فرمایا کہ پہلے میں نے تو اللہ کی رضا کے لئے قتل کر رہا تھا مگر اب تمہارے تھوکنے سے اس میں میری ذات شامل ہو گئی اس لئے چھوڑ دیتاہوں تو وہ مشرک اس رویے سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیتا ہے۔
ایسی مثالیں ہیں تاریخ اسلامی میں کہ مدینے کی ریاست میں اخلاقیات اور برداشت اور رواداری کی۔ اگر ہماری سیاست میں عدم برداشت کا رویہ ختم نہ ہوا اور اخلاقیات کا جنازہ نکلتا رہا تو ہم دوسری اقوام کے سامنے خود کو ایک زندہ قوم کیسے اور کس منہ سے کہہ سکیں گے؟ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے کیا اخلاقیات کا سبق چھوڑیں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے لئے سدباب کرنے کی اشد ضرورت ہے۔



