بوٹ والوں کو حقیقی عزت دو، تمسخر نہ اڑاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میڈیا بھی کیا چیز ہے یہاں اگر آپ طاقتور ہو تو آپ کے ہاتھ میں کوا بھی باز بن جاتا ہے۔ کتا بھی ہاتھی بن جاتا ہے اورمعصوم شخص بھی دنیا کا بدکار ترین مجرم بن جاتا ہے۔ ٹاک شوز میں تو حکومتی ارکان اپنے سامنے والے انسان کو انسان تک نہیں سمجھتے۔ بداخلاقی کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار مانتے ہیں۔ اپنی شہرت کوبام عروج تک پہنچانے کے لئے وہ اپنے معتبر اداروں کی عزتوں سے کھیلنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ایسے ہی ایک شہرت کے رسیاحکومتی وزیرکا ”پروگرام دیکھا حال“ مختصراًآپ کے سامنے رکھنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں۔

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کاشف عباسی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں واقعی آف دی ریکارڈ باتیں کر کے اور اپنے ساتھ فوجی بوٹ لاکر انتہا ہی کر دی۔ پروگرام میں ان کے علاوہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ اور ن لیگ کے مرتضی جاوید عباسی شریک تھے۔ پروگرام میں آرمی ایکٹ کے ترمیم بل پراپوزیشن کی حمایت سے بننے والے قانون پر بات ہو رہی تھی۔

کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ بے وقوف دوست سے عقلمند دشمن بہتر ہوتا ہے۔ آج بھی ہماری پاک فوج کے بے وقوف دوست نے اپنی طرف سے تو عقلمندی کا شاہ کار نمونہ پیش کرنے کی کوشش کی۔ ’بوٹ‘ کے زیر سایہ فیصل واوڈا نے جارحانہ انداز میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ن لیگ کی طرز سیاست پر سوالات اٹھا ئے، انہیں پاناما اور ڈان لیک یاد کرائے، ججوں کے سامنے عدالت میں لوہے کے چنے کا بیان بھی نہیں بھولے۔

نواز شریف کے سعودی عرب بھاگنے، ووٹ کو عزت دو کے بیانئے اور پھر بوٹ کے سامنے لیٹ جانے کی کہانی سنائی۔ نواز شریف کی ریسٹورانٹ میں لی گئی تصویر پرطنز کے تیر برساتے ہوئے فرمایا ”وہ تصویر یں آپ نے دیکھی جس میں آپریشن تھیٹر کے اوزار کی جگہ نہاری، نلی، پائے تھے، اور سارے بھگوڑے اشتہاری ساتھ بیٹھے تھے۔ جب آدمی بے حیا، بے حس اور بے شرمی پر اتر آئے تو وہ اتنا گر سکتا ہے آج مریم نواز کا ٹویٹر کیوں بند ہے وہ یہ تاثر دے رہی ہیں کہ کہیں پر ڈیل ہو رہی ہے۔ مریم نواز یہ سوچ رہی ہیں کہ 2013 کی طرح سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آپ نے لیٹ کر بوٹ کو عزت دی ہے۔ میں اب سے ہر پروگرام کے اندر یہ (فوجی بوٹ) ساتھ رکھا کروں گا۔ آج کی جمہوری ن لیگ نے لیٹ کر اسے (بوٹ ) چوم کر ووٹ کو عزت دی ہے۔ آپ پھر اس (بوٹ) کی عزت پہلے دن سے کرتے جیسے ہم کر رہے ہیں۔ آپ باتیں ان کے خلاف کرتے ہیں بغض بھی ان کے لئے رکھتے ہیں یہ شہادتیں دیتے ہیں۔ ان کے پاس شرم حیا کوئی چیز ہے، قوم نے ان کی اصلیت دیکھ لی۔

ان کا اشتہاری بیٹا کہتا ہے ہوا خوری کے لئے نکلے تھے۔ آپ کا اندر دم گھٹ رہا ہے جو کورٹ نے اس لئے اجازت دی تھی کہ آپ کی سانسیں گنی جا چکی ہیں، اللہ معاف کرے۔ آپ کے پلیٹ لیٹس نہاری کھا کر ٹھیک ہونا تھا۔ آج مریم نواز اور نواز شریف اس بوٹ کو پکڑ کر چیخ چیخ کر پبلک کو بولے کہ جب ہماری چوری اور پکڑ کی بات آئے گی تو ہم اس کو چوم کر لیٹ کر ووٹ کو عزت دیں گے۔ ہم اس حد تک گر جائیں گے کہ ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے ہم کریں گے۔ (بوٹ کو دکھاتے ہوئے ) ہم نے ن لیگ کی سیاست کو ایکسپوز کر دیا ہے۔ بوٹ کی چمک انسان کے ہاتھ کی نہیں ہو سکتی۔ جس حد تک یہ جا سکتے ہیں یہ زبان سے چمکا ہوا بوٹ ہے۔”

فیصل واودا کی رعونت بھری اخلاق سوز گفتگو سن کر قمر رمان کائرہ نے میزبان کو کہا کہ اگر پروگرام میں اس طرح کی ہی گفتگو چلنی ہے تو آپ اپنا پروگرام کریں یہ اپنی حکومت کریں۔ ہم قوم کے سامنے نہ گالیاں سنتے ہیں نہ دیتے ہیں۔ ساری قوم دیکھ رہی ہے، یہ بوٹ سامنے رکھ کے میرا بھائی فوج کو کہہ رہا ہے کہ سارا کچھ فوج نے کرایا ہے۔ بڑے جذباتی ہو کرپوری قوم کے سامنے بوٹ رکھ کر فوج کوتماشا بنا دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن یا اپوزیشن کی وہ جماعتیں جنہوں نے آرمی ایکٹ کو ووٹ دیا ہے انہوں نے ان کے کہنے پر نہیں بلکہ فوج کے دباؤ میں آ کر دیا ہے۔

نہ آپ کے پروگراموں کا یہ انداز ہونا چاہیے۔ ہمیں کسی کے چمچے بننے کا شوق نہیں ہم تاریخ میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں اور اداروں کے خلاف نہیں ہیں یہ جو ایک خاص تاثر دیا جاتا ہے ناں کہ یہ (بوٹ کی طرف اشارہ کر کے ) جو اتنی ننگی اور کھلی مثالیں ہمیں دے رہے ہیں، یہ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ہم نے بوٹ پالش کیے اور آپ انہیں اٹھائے پھر رہے ہیں۔ ہر پروگرام میں بوٹ ساتھ رکھناآپ کے لئے باعث عزت ہوگاحالانکہ آپ نے پاکستان کی فوج کو نمائش بنا دیا ہے، اپنے سر پر رکھیں بوٹ کو۔ ہمارا اپنی فوج سے کوئی اختلاف نہیں، ہم نے ہمیشہ اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کی باتیں کی ہیں۔ ہمیں ایک سیاسی رول پر اعتراض ہے کہ سیاست میں مداخلت ان کا کام نہیں ہے وہ نہیں ہونا چاہیے۔ مارشل لاء لگا ہمارا قائد ختم ہوا اس کے باوجود ہم نے فوج کے اوپر اعتراض نہیں کیاہمارے اندر فوج کا احترام ہے عزت ہے۔

ن لیگ کے مرتضی جاوید عباس بولے اگر مجھے پتا ہوتا کہ ایک وزیر اس طرح کی حرکت کرے گا تو میں اس پروگرام میں آتا ہی نہ۔ کائرہ صاحب بولے کہ حکومت کا وزیر کہہ رہا ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت کر کے اپنا ووٹ اس بوٹ کے ذریعے لیتی ہے۔ اتنا کچھ سمجھانے کے باوجود واوڈا صاحب بولے کہ پہلے ان کا نعرہ تھا ووٹ کو عزت دو پھر ان کا نعرہ بنا نوٹ کو عزت دو اب ان کا نعرہ ہے بوٹ کو عزت دو۔ اس صورتحال کے بعد قمر زمان کائرہ اور ن لیگ کے جاوید عباسی پروگرام چھوڑ کر چلے گئے۔ لیکن فیصل واوڈانے اپنی لائن نہیں چھوڑی۔

مزکورہ پروگرام کے کچھ نکات کو باریک بینی سے سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔ پھر سوچا کہ یا تو یہ واقعی بہت نالائق اور نا اہل ہیں کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ اس حرکت سے ن لیگ یا پیپلز پارٹی نہیں بلکہ آرمی کو بے توقیر کیا گیا ہے، یا یہ سوچی سمجھی سازش کے تحت ہماری فوج کو بدنام اور متنازعہ کرنے کی متواتر کوشش ہو رہی ہے۔ پہلے آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ حکومت کی نا اہلی سے سپرئم کورٹ میں آ گیا اب سیاست میں بوٹ کا ایشو ہر جگہ زیر بحث ہے۔

بوٹ ساری دنیا کو دکھا کر یہ وزیر کیا کہناچاہتا کہ فوج سیاست میں مداخلت کراتی اورسیاستدانوں سے بوٹ پالش کرواتی ہے؟ جس طرح ہماری پاک افواج نے ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا اس کے بعدقوم میں ان کی عزت مزید بڑھ گئی ہے۔ سیاستدانوں کا تو فرض بنتا ہے کہ بوٹ والوں کی حقیقی عزت کریں۔ بوٹ کو ایشو بنا کر ان کا تمسخر اڑئے جانے کا تاثر دیا جا رہا ہے۔

آپ کو مجھ سے اختلاف کرنے حق ہے مگر فیصل واوڈا نے اپنی سیاسی بصیرت کے مطابق بوٹ کو عزت دینے کی کوشش کی لیکن انہیں نہیں پتا کہ ان سے کیا غلطی سرزد ہو چکی ہے۔ پاکستان ایک بڑا اسلامی ملک ہے جس کے تمام ادارے فوج سمیت قابل احترام ہیں، اس کے باوجود اداروں میں کمیاں، کمزوریاں ہوتی ہیں۔ اپنے اداروں کی تمام غلطیوں کو کمیوں کو باعزت طریقے سے ملک کے بڑے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو بڑے اپنے اداروں اور اپنے سیاسی مخالفین کو ساری دنیا میں ننگا کرتے ہیں ان کی غلطیوں، کجیوں اور کمیوں کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑتے ہیں انہیں دنیا سیانا نہیں بلکہ عقل کا اندھا کہتے ہیں ان پر دنیا ہنستی ہے۔

ان کی باتوں کو کوئی سیرئس نہیں لیتا۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دنیا فتح کر لی۔ وہ ساری دنیا کے واحد لیڈر ہیں۔ وہ امن کے داعی ہیں وہ کسی بھی ملک کا کسی بھی ملک کے ساتھ تصفیہ کرا سکتے ہیں۔ ان کی عقل اتنا بھی کام کرنے کے قابل نہیں رہتی کہ وہ اتنی سیدھی سی بات بھی سمجھیں کہ وہ سعودی عرب کے قرض میں گردن تک دبے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کا جہاز استعمال کرتے ہیں، پھر سعودی عرب اور ایران ان کو اپنا ثالث ماننے پر تیار ہو جائے گا۔ اس حکومت کی آئے روزنا اہلی کی ایک الگ غضب کہانی سامنے آتی ہے۔

ہر پاکستانی کو اپنی فوج پر شروع دن سے فخر ہے۔ اگر کوئی چھوٹا موٹا اختلاف بھی ہوتو اسے ڈھکے چھپے انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ ہماری فوج کی عزت اور توقیر پر ذرہ برابر حرف نہ آئے، مگر افسوس ہماری قوم کو یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ سیاسی نا اہلی چھپانے کے لئے فوجی بوٹوں کو کھلے عام حدف تنقید بنایا جائے گا۔ یہ بوٹ ان محافظوں کے ہیں جن کی مائیں بہنیں اوردلہنیں اپنے بیٹوں بھائیوں اور سہاگوں کو خوشی خوشی شہادت جیسے عظیم رتبے کے لئے محاذ پر بھیجتی ہیں۔

ان کی شہادت پر روتی نہیں بلکہ خوشی مسرت اور فخر سے اللہ تعالی کاشکر ادا کرتی ہیں۔ خدارا اپنی چند دنوں کی گندی سیاست کو طول دینے کے لئے ساری دنیا میں ہماری بہادراور غیورفوج کا تمسخر نہ اڑاؤ۔ ضروری نہیں کہ ہمارے فوجی جوانوں کے بوٹ میدان جنگ میں ہی ان کے پاوں کی زینت بنتے ہوں۔ ان بوٹوں کی دہشت ہیبت اور دبدبے کو دیکھنا ہے تو ہر روز لاہور میں واہگہ باڈر پر جا کر دیکھوجہاں بھارت کے سکیورٹی ادارے ان ہی بوٹوں کی گھن گھرج سے ڈرتے نظر آتے ہیں۔

انہیں مذاق نہ بناؤ انہیں عزت نہیں دے سکتے تو انہیں اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے مت اچھالیں۔ اپنے سیاسی مخالفین کو اگرمیدان سیاست میں شکست دینی ہے تو اپنے زور بازو سے دو۔ اپنی لڑائیاں اپنے تک رکھیں، لوگوں کے مسائل بھی حل کریں سیاسی میدان میں اہلیت دکھائیں۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ اپنی نا اہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے بوٹوں کا سہارا لینا چھوڑدیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply