بوٹوں اور جوتوں میں فرق۔ ایک غیرسیاسی تقابل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حکومت کی اچھی بات یہ ہے کہ بھلا آئے روز عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیستی ہو، پر پیستے وقت عوام کی دل پشوری کا خیال ضرور رکھتی ہے۔ گزشتہ روز ایک انتہائی مضحکہ خیز منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب تحریک انصاف کے صف اول کے رہنما فیصل واوڈا، نامی گرامی ٹالک شو میں اپنے ساتھ ’فوجی بوٹ‘ لیے چلے آئے۔ بہت سارے لوگوں کی نظر میں یہ حرکت جمہوریت کے ساتھ ایک مذاق تھا۔ پر یہاں تسلیم کرنا پڑے گا کہ دیگر معاملات کی طرح ہماری حس مزاح بھی سطحی جملے اورعامیانہ حرکتوں تک محدود ہو گئی ہے۔

خیر مزاح یہ تھا کہ محترم واوڈا صاحب نے بوٹ میز پررکھنے کے بعد نہایت رعونت سے فرمایا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے لیٹ کر بوٹ کو عزت دی ہے ’۔ اس کے علاوہ انہوں نے قوم کو بوٹ کی چمک کی وجہ کچھ سیاسی جماعتوں کا زبان سے صاف کرنا بتایا۔ جانے کیوں وفاقی وزیرکو آرمی ایکٹ میں ترامیم پراپوزیشن کی غیر مشروط حمایت پر اتنا غصہ تھا۔ شاید واوڈا صاحب کی لعن طعن کی وجہ وہ حسد تھا جو ایک محبوب کو پانے کے لئے مختلف شریکوں کے درمیان میں ہوتی ہے۔

پر اگر واوڈا صاحب تھوڑی زیادتی نا کرتے اور پارسائی کی دیوی بنتے ہوئے ایک پارٹی پر انگلی اٹھانے کی بجائے، سیاست کے تمام کامیاب پارٹیوں پر جوتا چاٹنے کا الزام لگاتے تو کیا پتہ اس سچ پر سپریم کورٹ کے ججوں کو مثال اس طریقے سے تبدیل کرنا پڑتی کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پرعمل درآمد کیا گیا تو پارلیمنٹ میں موجود تمام اراکین میں سراج الحق اور فیصل واوڈا ہی بچتے ہیں۔ اگر تاریخ اٹھا کر دیکھا جائے تو جوتا کلب تو منسوب ہی سیاستدانوں کے نام پر ہے۔ لیکن بوٹوں کا ستر سالوں میں 35 سال تک کا کردار ہونے کے باوجود اس طریقے کا کھلم کھلا سیاسی ناتا نہیں مل سکتا تھا، جس طرح کا واوڈا صاحب نے ایک ہی دن میں ڈھونڈ کر دیا ہے۔

چلیں چھوڑئیں نا جانے کیوں ایک ”بے ضرر“ سی شے پر فدوی بے پر کی سیاست اڑا رہا ہے۔ سیدھا مدعا پر آتے ہیں اور ماہر کھوجی کی طرح تلاش کرتے ہیں کہ بوٹوں اور جوتوں میں فرق کیا ہوتا ہے۔ نیز اس کاوش میں کسی قسم کی مماثلت ڈھونڈے والوں کو اپنی سوچ کا ذمہ دار خود ہونا پڑے گا۔ کچھ چیدہ چیدہ نکات حاضر خدمت ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جوتوں کا کردار بالکل ڈھکا چھپا نہیں ہے جبکہ بوٹوں کا کام ہمیشہ رازداری والا ہی رہا ہے۔

جوتا ایک ٖغیر پایئدار چیز ہے۔ جس کے ٹوٹنے کا اندیشہ ہر دم ہر وقت لاحق رہتا ہے جبکہ بوٹ ایک نہایت مضبوط چیز ہے۔ جو کہ تلوے گھسنے کی صورت میں بھی بخوبی کام سرانجام دیتے رہتے ہیں۔

ایک جوتا کئی ہاتھوں کی کمائی سے مل کر بنتا ہے جبکہ بوٹ ریڈی میڈ ہی ملتے ہیں۔

جوتوں کا مصرف پہننے، کھانے کے ساتھ بوٹوں کے ساتھ چلنا ہوتا ہے، جبکہ بوٹوں کا کام صرف یا تو جوتے پہننے والوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے یا پھر ان کو مسلنا ہوتا ہے۔

جوتے اپنی مرضی کے نہیں پہنے جا سکتے لیکن خریدتے وقت انتخاب کرنے کی سہولت ضرور موجود ہوتی ہے۔ جبکہ بوٹ میں کہیں کوئی انتخاب نہیں کیا جا سکتا، یہ ایک وراثتی سلسلہ ہے۔

جوتا کلب میں شامل ہونے والوں کو جوتے کھانے والوں کی طرف سے بھی تصیحک کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ بوٹ کلب کے ارکان کو ملک و قوم کی طرف سے حسرت کی ہمہ وقت نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

عوام جوتے کھانے کے انتہائی شوقین ہوتے ہیں، کچھ سیاستدانوں کو بھی نا چاہتے ہوئے کھانے پڑتے ہیں پر واوڈا صاحب کی نئی معلومات کے مطابق بوٹ کو صرف چاٹا جاتا ہے، چاٹنا بھی صرف قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتا ہے۔

جوتے کو جوڑی کی شکل میں پہننا لازمی نہیں ہوتا۔ آپ ایک جوتے کی جوڑی کو دوسرے جوتے کی جوڑی سے پہن سکتے ہیں لیکن بوٹ ہمشہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔

جوتے چمکانے کے لئے خون کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بوٹ چمکانے کے لئے جوتوں کی سیاہی کی ضرورت پڑتی ہے۔

جوتے کو جوتے کے اوپر ہر گز نہیں پہنا جا سکتا لیکن بوٹوں کو جوتوں کے اوپر پہنا جاسکتا ہے۔

جوتے ناکارہ ہونے کی صورت میں کچرے میں جاتے ہیں۔ جبکہ بوٹ کبھی ناکارہ نہیں ہوتا بلکہ اس افادیت زندہ ہاتھی لاکھ کا تو مرا ہوا سوا لاکھ جیسی ہوتی ہے۔

جوتے پڑنے پر نا صرف جوتے کی زور کی آواز آتی ہے بلکہ پڑنے والے کی آواز بھی نکلتی ہے جبکہ بوٹ کے ساتھ یہ کام خاموشی اور تسلی بخش سے لیا جا سکتا ہے۔

جوتا تنگ کرئے تو اتارنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ جبکہ بوٹ میں یہ سہولت میسر نہیں ہے۔

جوتے کی بیماری پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا سکتا ہے لیکن بوٹ کی بیماری کا مذاق نہیں بنایا جا سکتا۔

جوتوں کو نا صرف نا اہل کیا جا سکتا ہے بلکہ بو وقت ضرورت غدار بھی ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ کسی بوٹ کو غدار بنانے کی سازش کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے۔

مندرجہ بالا افادیتوں کے باوجود جوتوں اور بوٹوں کا حقیقی مصرف پیروں کی حفاظت کرنا ہی ہونا چاہیے۔ لیکن مملکت خداداد میں یہ سلسلہ برسوں سے موقوف ہے۔ شاید ایک دن مسلے ہوئے پیروں میں اگلا قدم اٹھانے کی سکت ختم ہو جائے گی اس سے پہلے ضروری ہے کہ جوتوں کو جوتوں کے خانے اور بوٹوں کو بوٹوں کے خانے میں رکھنے کے لئے اجتماعی عملی اقدامات کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *