پاکستان میں نیشنل سکلز یونیورسٹی کا با قاعدہ آغاز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ امریکی شہری ہیں تو اس وقت تک آپ بے روز گار تصور کیے جائیں گے جب تک آپ کو ایسی نوکری نہ مل جائے جس میں آپ مہارت رکھتے ہیں، یعنی آُ پ مارکیٹنگ کی ڈگری لینے کے بعد گزارہ کرنے کے لئے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ میں لگ جائیں، خواہ ُٓ لاکھوں میں کما لیں لیکن آپ Un۔ employed ہی کہلائیں گے۔ اب کی سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان میں نیشنل سکلز یونیورسٹی کا با قاعدہ آغاز ہونے جا رہا ہے۔ جو کہ اپنی نوعیت کی پاکستان کی نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد میں ہونے والے سیمینار میں پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے مختلف ممالک کے دو درجن سے زیادہ سفیروں اور پاکستان کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے اعلی تعلیمی درسگاہوں کے وائس چانسلر صاحبان، اور معزز مہمانوں کو خطاب کرتے ہوئے بتایا، کہ ہنر مندی کی تعلیم سے آپ لاکھوں روپے کما لیں آپ Un۔ employed کہلائیں گے۔

پاکستان میں ایسا نہیں ہے، یہاں پرآ پ سرکاری ملازمت قابو میں کرنے کے لئے ایم فل کے بعد ڈرائیور کے لئے بھی ایپلائی کرنے سے باز نہیں آتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے با لخصوص جامعات تعلیم و تحقیق اور تربیت سے عاری ہوتے جا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے اندر گھٹن اور بے چینی کی کیفیت ہے۔ بے روز گاری کے عفریت نے نوجوان نسل کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔

ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تعلیم اور ہنر مندی کے حوالے سے 130 ممالک میں 125 ویں نمبر پر ہے جبکہ پاکستان دوسرے جنوبی ایشیائی ممالک سے بھی کافی پیچھے ہے، رپورٹ کے مطابق نیپال جیسا ملک بھی 98 ویں نمبر پر ہے، اسی طرح ہمارا روایتی حریف انڈیا 103 ویں اور ہم سے عمر میں بچوں جیسا بنگلہ دیش 111 ویں پوزیشن پر ہے۔ اسی طرح عالمی مسابقتی رپورٹ 2017 / 18 کے مطابق پاکستان اعلیٰ تعلیم اور تربیت کے شعبوں میں 120 ویں پوزیشن پر ہے جبکہ سری لنکا 85 ویں، نیپال 88 ویں، انڈیا 40 ویں، بنگلہ دیش 99 ویں، ایران 69 ویں، بھوٹان 82 ویں اور ملائیشیا 23 ویں پوزیشن پر ہے۔

ایسے حالات میں 2020 کی سب سے بڑی خوشخبری میرے نزدیک یہ ہے کہ پاکستان میں نیشنل سکلز یونیورسٹی کا با قاعدہ طور پر آغاز ہونے جا رہا ہے۔ یہ یونیورسٹی اپنی نوعیت کی پاکستان میں پہلی یونیورسٹی ہوگی جہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے اداروں کے معیار پر پورا اتریں گے کیونکہ یہاں کاغذی کارروائیوں سے آگے بڑھتے ہوئے عملی طور پر سیکھنے سکھانے کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ پاکستان میں تربیت اور ہنر مندی کی تعلیم کے حوالے سے Skill Based یونیورسٹی کا قیام خوش آئند ہے۔

نیشنل سکلز یونیورسٹی کے لئے معروف تعلیمی ماہر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار جوکہ پہلے اسلامیہ یونیورسٹی بہالپور میں بطور وائس چانسلر اپنی قابلیت کا لوہا منوا چکے ہیں کو بطور وائس چانسلر تعینات کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر محمد مختار نے یونیورسٹی کا چارج سنبھالتے ہی ملک بھر کے وائس چانسلرز اور سفارت کاروں کو یونیورسٹی میں مدعو کیا اور ان سے تبادلہ خیال کیا اور ان کے تجربات سے افادہ کیا۔ نیشنل سکلز یونیورسٹی کا مقصد نہ صرف ہنر مندی کی تعلیم ہے بلکہ ہنر مندوں کو ان کے مقامات تک پنہچانے اور پاکستانی نوجوان نسل میں چھپے ہنر اور صلاحیتوں کو دنیا بھر کے سامنے اجاگر کرنا بھی ہے۔ ڈاکٹر مختار کے مطابق پاکستان میں ہنر مندی کی کمی نہیں ہے، اعلی ہنر مندی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ملک کی ہنر مندی کو بچانے کی اہم ضرورت ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے نیشنل سکلز یونیورسٹی میں نیشنل سکلز ولیج کے قیام کو بھی یقنی بنایا جائے گا جہاں ڈیجٹل پاکستان کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے عملی کاوش کی جائے گی۔ ڈیجٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، سرچ انجن آپٹمائزیشن، سرچ انجن مارکیٹنگ جیسے کئی کورسز سیکھنے کو ملیں گے۔ وائس چانسلرز اور سفارت کاروں کی اعزازی تقریب میں ڈاکٹر مختار نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ نیشنل سکلز یونیورسٹی اکیسویں صدی میں استعمال ہونے والی ہنرمندی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ قومی ہنرمندی کو بھی دنیا میں روشناس کرائے گی۔

2020 کی ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ حکومت پاکستانیوں کے پے پال (Paypal) اکاؤنٹس بنوانے کے لئے سنجیدہ دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے جو لوگ ای ٹریڈنگ یا ای کامرس کرتے ہیں وہ پے پال کے فوائد سے بخوبی واقف ہیں۔ پے پال اکاؤنٹ اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کر کے آن لائن ہی بنوایا جا سکتا ہے اور کسی بھی بڑے ای کامرس پلیٹ فارم کے ساتھ اگر آُ پ پے پال اکا ؤنٹ منسلک کر دیں تو دنیا بھر کے آن لائن صارفین اعتماد کے ساتھ شاپنگ کر تے ہیں کیونکہ پے پال انہیں محفوظ ترین خریداری کی ضمانت دیتا ہے۔ اور سیلر (Seller) کی جانب سے کسی بھی قسم کی دھوکا دہی یا خریدار کے مطمئن نہ ہونے پر سیلر کے اکاؤنٹ سے رقم ریٹرن کرنے کا حق بھی پے پال کے پاس محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے آن لائن خریدار پے پال پر اعتماد کرتے ہیں۔

اس وقت پاکستان میں بے شمار صنعتیں جن کا سارا دارو مدار آن لائن کاروبار پر ہے وہ پے پال کی عدم دستیابی کی وجہ سے سخت مایوسی کا شکار ہیں۔ کچھ روز قبل سیالکوٹ میں کھیلوں کی مصنوعات بنانے والے کچھ مینو فییکچررز سے ملاقات ہوئی تو سب نے یہی شکوہ کیا کہ کاش (AMAZON) اور پے پال تک ہماری رسائی ہوتی۔ بڑی صنعتوں کے پاس مستقل گاہک موجود ہیں لیکن چھوٹی اور نئی صنعتوں کو فی الوقت گاہکوں کی تلاش ہے اور مستقل گاہک اب مختلف سائٹس پر ہی ملے گا جن میں ایک بڑا نام ایما زون (Amazon) ہے جس نے امریکہ کے کئی بڑے بڑے اسٹورز کی سالانہ آمدن کو جھٹکا دیا ہے۔ پاکستان اس میدان میں بھی ابھی تک شکست سے دو چار ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسا وزیر یا سفیر نہیں جو ہمارا مقدمہ ایما زون کے ہیڈ آفس میں لڑ سکے اور انہیں یقین دلوا سکے کہ پاکستانی صنعتوں میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ دنیا بھر کے ایما زون صارفین کے معیار پر پورا اتر سکیں۔

دنیا بھر کو کھیلوں کی مصنوعات فراہم کرنے والا ملک پاکستان، دنیا کی بہترین کٹلری پاکستان میں بنتی ہے، دنیا بھر میں ہاتھ سے بننے والی ڈماسکس سٹیل کی چھری (Hunting Knives) ، تلوار، کلہاڑی بنانے کی صلاحیت بھی صرف پاکستانیوں کے پاس ہے، چائنہ جیسا ملک بھی یہ سب آئٹمز 100 فیصدہاتھ سے بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا، لیکن یہ سب صلاحتیں بروئے کار لانے کے لئے اب ہمیں ڈیجیٹل دنیا میں آگے بڑھنا ہوگا۔ بھارتی شہری با آسانی ایما زون اکاؤنٹ بنا سکتے ہیں جبکہ کئی اور ممالک جو کئی مہارتوں میں ہم سے بہت پیچھے ہیں وہ بھی ان سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں مگر ہمارے وزیر سائنس فواد چوہدری تا حال مفتی منیب الرحمان سے آگے نہیں بڑھ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *