قصور وار کون؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”زاہدہ میں تم سے کہہ چکا ہوں کہ مجھے تم سے کبھی محبت تھی ہی نہیں۔ ابا جان بھی اس بات سے واقف تھے۔ مگر تم ابا جان کی ضد تھی جو انہوں نے زبردستی مجھ پر مسلط کر دی۔ وہ اس بات سے بھی بخوبی واقف تھے کہ میں صدف سے محبت کرتا ہوں۔ لیکن اپنی دی ہوئی زبان کی خاطر انہوں نے مجھے سولی پر چڑھا دیا۔ میرے ارمانوں کا، میری محبت کا گلا گھونٹ دیا“۔

”تو اب کیوں آئے ہو تم یہاں؟ کس لئے آئے ہو یہاں؟ کیا رکھا ہے تمہارا یہاں پر؟ سوائے تم سے ملے ہوئے اس بڑے سے خالی گھر کے اور مجھ جیسی زندہ لاش کے“۔ زاہدہ تڑخ کر بولی ”میری بیٹی ہے یہاں“۔ جاوید بولا۔

بیٹی؟ کون سی بیٹی؟ وہ جسے چھوڑ کر چلے گئے تھے تم، جب وہ محض ایک ماہ کی تھی۔ کس بیٹی کی بات کرتے ہو تم؟ جس کو انگلی پکڑ کر چلانے والا اس کا باپ نہیں تھا۔ جسے چوٹ لگ جانے پر اسے اپنی بازؤں میں سمو کر اس کی چوٹ کو سہلانے والا اس کا باپ نہیں تھا۔ اس کے آنسوؤں کو سمیٹ لینے والا اس کا باپ نہیں تھا۔ اس کا محافظ اس کا باپ نہیں تھا۔ زاہدہ چیخ اٹھی۔

چلاؤ مت، شریعت تمہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ تم اپنے شوہر سے اس لہجے میں بات کرو۔ جاوید بولا۔

کمرے کے در و دیوار زاہدہ کے قہقہے سے گونج اٹھے۔ شریعت؟ جاوید؛ جانتے ہو تم کہ شریعت کہا کسے کہا جاتا ہے؟ شریعت میں بیوی کے کیا حقوق ہیں؟ پیدا ہونے کے بعد بیٹی کو یتیموں جیسی زندگی گزارنے پر شریعت کیا کہتی ہے؟

لاوارث نہیں ہے میری بیٹی۔ جاوید تڑپ اٹھا۔

تمہاری بیٹی جاوید؟ تمہاری بیٹی؟ تمہیں نظر نہیں آئی جب اسے باپ کی شفقت اور محبت کی ضرورت تھی۔ پر تب تم اسے چھوڑ کر، اپنی بیٹی کو چھوڑ کر صدف کے پہلو میں جا بسے تھے۔

بس زاہدہ بہت ہوا میں مزید طعنے برداشت نہیں کر سکتا۔

یہ کہتے ہوئے جاوید بے رحمی سے دروازے کو ٹھوکر مارتے ہوئے باہر چلا گیا۔

باہر جاتے ہوئے اسے دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی اریشہ نظر ہی نہ آئی۔ مانو جیسے اس کا وجود چیونٹی سے بھی زیادہ چھوٹا ہو گیا ہو۔

پچھلے دس سالوں سے اریشی یہی سب دیکھتے آ رہی تھی۔ عدالتی حکم کے مطابق ہر مہینے جاوید جب اس سے ملنے جاتا تو زاہدہ اسے زبردستی جاوید کے آنے سے پہلے ہی سلا دیا کرتی۔ مگر وہ سوتی کہاں تھی؟ اس کے خواب، وہ خوفناک خواب اسے سونے نہیں دیتے تھے۔ انہیں خوابوں کے درمیان سوتی جاگتی کیفیت میں اسے چلانے کی آوازیں آتیں۔ جب وہ غور کرتی تو یہ اس کے ماں باپ ہوتے۔ وہ انہیں ایک دوسرے کی تذلیل کرتے ہوئے سنتی۔ اس کا معصوم سا ذہن الجھ سا جاتا۔ وہ خود سے پوچھتی کیا یہ میرے ماں باپ ہیں؟ کیا ایسے ہوتے ہیں والدین؟

اریشہ کے لئے باہر کی دنیا اس کے گھر کی دنیا سے بالکل مختلف تھی۔ گھر میں گھٹن تھی۔ گھر میں نفرت تھی۔ باہر کی دنیا اس کے لیے رنگوں سے بھری تھی۔ جہاں اس کے لئے کھلا آسمان تھا۔ جس میں دن کے وقت سورج کھلکھلاتا اور رات کے وقت تارے دمکتے تھے۔ شام کے وقت غروب ہوتا ہوا سورج اریشہ کے من میں شفق بکھیرتا۔ اس کی تصوراتی دنیا میں ہر طرف رنگ بکھرے تھے۔ خوبصورت وادیاں، اونچے پہاڑ، سر سبز باغ جس کے خوبصورت پھول ہمیشہ اریشہ کے ہاتھوں میں آنے کے لئے بے قرار رہتے۔

رنگوں سے اریشہ کو یوں بھی بہت محبت تھی۔ وہ چھوٹی سی بچی مصوری کرتی تھی۔ اس کے بنائے ہوئے شاہکار ہر کسی کا دل موہ لیتے۔ وہ نہ صرف مصوری کرتی بلکہ اپنی کلاس میں بھی اول آتی۔ اس کی خوشی کی انتہا نہ رہتی۔ مگر اس کی ہر خوشی اس سے اس وقت منہ موڑ لیتی جب وہ اپنی مصوری یا کلاس میں اول آنے کی بات اپنی ماں کو بتاتی۔ زاہدہ اسے ہر بار یہی کہتی ”تم وقت برباد کرتی ہو اپنا، تم بھی اپنے باپ جیسی ہی ہو۔ وہی شکل، وہی آنکھیں، وہی، ہونٹ اور ان آنکھوں میں ویسی ہی دھوکے بازی کی چمک۔

اس کی ذہین آنکھوں کی چمک ماں کو دھوکے بازی لگتی کیونکہ وہ اپنے باپ کے مماثل تھی۔ اریشہ الجھ جاتی آنسو پلکوں کی باڑ توڑ دینے کو بے قرار ہو جاتے اور وہ معصوم سی بچی اپنے آپ میں سمٹ جاتی۔ خود سے سوال کرتی کے آخر میرا قصور کیا ہے؟

ایک دن اریشہ کو سکول سے واپسی پر اپنے گھر کے باہر اجنبی مرد کھڑا نظر آیا۔ اریشہ پوچھنے لگی ”آپ کون ہیں“ بیٹا ہمسایہ ہوں آپ کا، ابھی تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے مجھے یہاں آئے ہوئے۔ میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ”جی انکل فرمائیے۔ اریشہ بولی۔

مجھے اکثر آپ کے گھر سے کچھ بلند آوازیں آتی ہیں۔ آپ مجھے بتا سکتی ہیں وہ کن کی ہیں؟ اریشہ تھوڑا سا سہم گئی۔

اجنبی اریشہ کو سہمتا ہوا دیکھ کر اسے کہنے لگا، بیٹا آپ مجھے اپنے جیسا باپ ہی سمجھو میں آپ کو کچھ نہیں کہوں گا۔ آپ تو بہت ہی پیاری سی بچی ہو۔ میں روز آپ کو سکول جاتے دیکھتا ہوں۔ دیکھو میں آپ کے لیے چاکلیٹس بھی لایا ہوں۔ عثمان نام ہے میرا۔ اجنبی نے چاکلیٹس اریشہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ باپ کا لفظ سن کر اریشہ کا چہرا کھل اٹھا۔ جیسے اندھے کو آنکھیں مل گئی ہوں، جیسے صحرا میں بارش، جیسے پیاسے کو پانی۔ رفتہ رفتہ اریشہ عثمان کو ہر بات بتانے لگی جو اس کے گھر کا راز تھی۔ عثمان اریشہ کی باتیں سنتا۔ اس سے محبت بھرا سلوک کرتا۔ اسے چاکلیٹس دیتا۔ یہ معمول بن گیا تھا۔ اریشہ عثمان پر مکمل اعتماد کرنے لگی تھی۔ پر کیا وہ شخص اعتماد کے قابل تھا؟

ایک روز جب اریشہ سکول سے واپس آئی تو زاہدہ اسے گھر اکیلا چھوڑ گئی۔ اس کے جاتے ہی گھریلو ملازمہ بھی نکل کھڑی ہوئی۔ عثمان یہ سب دیکھ رہا تھا۔ زاہدہ کے جاتے ہی عثمان نے دروازے پر دستک دی۔ اریشہ عثمان کو دروازے کے سامنے کھڑا پاکر کھل اٹھی۔ مجھے ایک گلاس پانی پلا دو۔ عثمان نے ماتھے سے پسینہ پونچتے ہوئے کہا۔ جی ضرور۔ اریشہ مسکراتے ہوئے عثمان کے لئے پانی لینے چلی گئی۔ عثمان معنی خیز مسکراہٹ لئے فوراً گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہو گیا۔

اریشہ عثمان کو گھر کے ا اندر ٹی وی لاؤنج میں کھڑا پاکر حیران ہو گئی۔ عثمان نے کشمکش میں مبتلا اریشہ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑا اور کہنے لگا، میں پہلی بار آیا ہوں تمہارے گھر مجھے پینٹنگز نہیں دکھاؤ گی؟ گھبراؤ مت میں دوست ہوں تمہارا۔ عثمان نے اریشہ کی الجھن کو بھانپ لیا۔ میں گھبرا نہیں رہی۔ اریشہ نے نا سمجھی سے کہا اور عثمان کو پینٹنگز دکھانے کمرے میں لے گئی۔ اریشہ خوش دلی سے عثمان کو پنٹنگز دکھانے لگی۔

عثمان دیکھتے ہوئے اریشہ کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ زاہدہ جلد واپس نہیں آئے گی۔ بالوں کو سہلاتے ہوئے اس نے اریشہ کا ہاتھ پکڑا تو اریشہ اضطراب کی کیفیت میں دو قدم پیچھے ہوئی اور پیننٹنگ اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ شیشے کا نازک فریم کرچی کرچی ہو گیا۔ عثمان پینٹگ پیروں تلے کچلتا ہوا آگے بڑھا۔ ہوس میں اندھے بھیڑیے نے معصوم بچی کی کلائی زور سے دبوچی اور غصے سے کہنے لگا، بس بہت ہو گیا باپ بیٹی کی محبت والا ناٹک۔

ایسی خوفناک آواز اور دہشت زدہ آنکھیں اریشہ نے اپنی زندگی میں نی کبھی دیکھیں نہ سنیں۔ معصوم سی جان سہم کر رہ گئی۔ وہ بس بھاگ جانا چاہتی تھی دور بہت دور۔ وہ کب جانتی تھی کہ اس گل بدن کو اب کتنی بے رحمی سے کچل دیا جائے گا۔ اریشہ کی چیخ و پکار اس کمرے کے در و دیوار میں گونج رہی تھی۔ عثمان کے ہاتھ اس چیخ و پکار کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے تو اس نے گھبراہٹ کے عالم میں پاس پڑے تکیے کو اس کے منہ پر رکھ دیا۔ ہوس میں مبتلا اس درندے کو احساس تک نہ ہوا تکیے کے نیچے سسکیاں لیتے ہوئے مدھم سی آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی اور مصوری کے خوبصورت رنگ فرش پر بکھر گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اقصیٰ اشفاق کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *