پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ ہفتے صحافت کے حوالے سے دو شاہکار سامنے آئے۔ ایک وفاقی اردو یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے سابق سربراہ ڈاکٹر توصیف احمد خان کی کتاب ”پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ“ اور دوسرا پاکستان ٹیلی ویژن کی معروف نیوز کاسٹر مہ پارہ صفدر کے یوٹیوب چینل پر پاکستان ٹیلی ویژن کے سابقہ جنرل منیجر اورکنٹرولر پی ٹی وی اکیڈمی اور اظہر لودھی اور سابقہ ڈائریکٹر نیوز عبدالشکور طاہر کی گفتگو، جن کے مطالعے اور گفتگوسے صحافت کی اس تاریخ اور ان رموز سے آگہی ہوئی جس سے عصرِ حاضر کے قارئین کی ایک بڑی تعداد ناواقف ہے۔ خواہش تھی کہ دونوں پر خوب بات ہو لیکن کالم کے دامن کی تنگی نے مجبور کیا کہ پہلے کتاب کا تعارف ہو اور پھر پی ٹی وی کی ان عقبری شخصیات کی گفتگو کا خلاصہ بھی قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے۔

کتاب کا انتساب اُن تمام مدیروں اور صحافیوں کے نام ہے جنہوں نے آزادی صحافت اور جمہوریت کی بقاء کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ کتاب بنیادی طور پر احاطہ کرتی ہے ان اخبارات و رسائل اور صحافیوں کاجنہوں نے بے باکی سے حاکم وقت کے سامنے نہایت جرات کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کیا۔ وہ اقوام جنہوں نے سماجی اورمعاشی طور پر ترقی حاصل کی اس کی ایک اہم وجہ ان کے یہاں پریس کی سنسر شپ کو ختم کرنا تھا۔

جس سے عوام کو حکومتی اقدامات سے آگاہی ہوتی اور وہ حکومت کے فیصلوں پر تنقید کرتے جن سے حکومت اپنی اصلاح کرتی، جیسے کہ 1694۔ 6 ء میں برطانیہ میں ہوا تھا۔ لیکن پاکستان میں فوجی آمریت اور بورژوا حکومتوں نے اپنے اپنے مفاد ات کے لیے پریس کی آزادی پر جو پابندیاں عائد کیں کتاب اس کی روداد بیان کرتی ہے اور ساتھ ہی ان عناصر کی چیرہ دستیوں کو بھی بیان کرتی ہے جنہوں نے حکمرانوں کی خوشنودی پانے کے لیے پریس کی آزادی خلاف کیں۔

کتاب میں ہفت روزہ لیل و نہار، روزنامہ امروز، ڈیلی پاکستان ٹائمز، ڈیلی پاکستان ٹائمز، روزنامہ مساوات، روزنامہ آزاد، ہفت روزہ الفتح، روزنامہ امن، ہفت روزہ معیار، ویکلی ویو پوائنٹ، روزنامہ عوامی آزاد، ویکلی آؤٹ لک، روزنامہ عوامی آواز، مسلم، پنجا ب پنج، پنجا ب ٹائمز کی صحافتی جدوجہد کے پر مفصل مضامین موجود ہیں۔

کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ میاں افتخار الدین کی پروگریسو پیپرز لمیٹیڈ نے 1957 ء میں ہفت روزہ لیل و نہار کاآغاز کیا۔ جس کے پہلے ایڈیٹر بائیں بازو کے دانشور سید سبط حسن اور فیض احمد فیض چیف ایڈیٹر تھے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ لیل و نہار بائیں بازو کا رسالہ سمجھا جاتا تھا لیکن اس کی ادارتی عملے میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے عبدالقادر حسن بھی شامل تھے۔ جنہوں نے بعد میں یہ اعتراف کیا کہ لیل و نہار میں وہ جتنا عرصہ بھی لیل و نہار سے وابستہ رہے ان پر کیمونسٹ نظریات کی حمایت پر لکھنے کے لئے کوئی دباؤ نہیں تھا۔

حالانکہ لیل و نہار سوشلزم کا سخت حامی اور امریکی سامراج کا سخت مخالف تھا۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ نظریاتی مخالفت کے باوجود سماجی تعلقات نفرت اور بدگمانی سے ابھی آلودہ نہیں ہوئے تھے۔ پی پی ایل کے دائیں یا بائیں بازو سے متعلق بیان کرتے ہوئے آئی اے رحمٰن اور مسعود اشعر کا کہنا ہے کہ میاں افتخار الدین پروفیشنل صحافیوں کا تقرر کیا کرتے تھے اور وہ کیمونسٹ صحافیوں کے حق میں نہیں اور نہ ہی ان اخبارات کو کیمونسٹ پارٹی کا ترجمان بنانا چاہتے تھے۔

عصرِ حاضر میں اخبارات کے مالکان کی ایک بڑی تعداد اپنی اپنی ترجیحات اور نظریات کے حوالے سے اس قدر شدید مؤقف رکھتے ہیں کہ ان نظریات اور ترجیحات کے خلاف ایک لفظ ان اخبارات میں شائع نہیں ہوسکتا ہے۔ لیکن میاں افتخار الدین نے پی پی ایل کے زیر اہتمام شائع ہونے والے ہفت روزہ لیل و نہار، امروز اور پاکستان ٹائمز میں ایڈیٹر کے ادارہ کو مکمل با اختیار بنایا اور ادارتی امور اخبار کے ایڈیٹر کی صوابدید پر طے کیے جاتے تھے۔ اسی طرح کا معاملہ 4 مارچ 1948 ء کو شائع ہونے والے روزنامہ امروز کا معاملہ بھی ہے کہ جہاں فیض صاحب چیف ایڈیٹر اور مولانا چراغ حسن حسرت ایڈیٹر تھے۔ حسرت کی شہرت ایک مزاح نگار کی تھی جنہوں نے برطانوی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ میں کام کے دوران انگریز سے اخبار کی تیکنیک سیکھیں۔

نظریاتی ہم آہنگی اور صحافتی ذمہ داری کی ایک مثال کہنہ مشق صحافی محمود شام کی شخصیت میں بھی نظر آتی ہے۔ محمود شام جنہوں نے ستر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوریت کے لیے کی جانیوالی جدوجہد اور سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف مہم کی شدومد کے ساتھ کوریج کی تھی۔ مگر جب انہوں نے جنوری 1976 ء میں ہفت روزہ معیار کا آغاز کیا تو پیپلز پارٹی کی حکومت کی مایوس کارکردگی، بیوروکریسی کے حکومت مخالف ہتھکنڈوں اور بلوچستان کے حالات پر خصوصی فیچر شائع کیے۔ بھٹو حکومت کے دوران بلوچستان میں فوجی آپریشن پر بھی رپورٹیں شائع کیں اور بھٹو حکومت کے خلاف تنقیدی رویہ اختیار کیا۔ معیار کی سرخیاں بھی نہایت دلچسپ ہوا کرتی تھیں۔ ایک زمانے میں جب کراچی میں چوری کی وارداتیں بڑھ گئیں تو ان ہی دنوں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کراچی آئے تو معیار کی سرخی تھی ”وزیراعظم شہر میں، چوریوں میں اضافہ“۔

کتاب میں ایک مفصل مضمون ڈیلی ڈان پر بھی ہے جو اس کے قیام کے اسباب اور واقعات سے پر مشتمل ہے۔ کہ کس طرح بانی پاکستان نے مسلم لیگ کے اعلیٰ انگریزی اخبار کے لیے اپیل کی جو 7 جون 1937 ء کو روزنامہ ٹریبیون لاہور میں شائع ہوئی۔ اگرچہ مسلم لیگ کے رہنما ایم اے اصفہانی جب انگریزی اخبار اسٹار آف انڈیا کے ایڈیٹر مقرر ہوئے تو انہوں نے ایک مشہور عیسائی صحافی پوتھن جوزف کو اخبار کا ایڈیٹر مقرر کیا جنہوں نے اسٹار آف انڈیا کو مسلمانوں کا ایک مؤثر اخبار بنایا۔

اسی طرح خواجہ نورالدین نے کلکتہ سے اگست 1942 ء میں مارننگ نیوز کا اجراء کیا لیکن مسلم لیگ کا اپنا کوئی انگریزی روزنامہ اور ہفت روزہ نہ تھا۔ مگر بانی پاکستان کی کوششوں سے 26 اکتوبر 1941 ء کو ڈان کا اجرء بطور ہفت روزہ ہوا۔ حسن احمد ہفت روزہ ڈان کے پہلے ایڈیٹرمقرر ہوئے جب کہ زیڈ اے سلہری اور عزیز احمد بھی اس کی ٹیم کا حصہ بنے۔

کتاب پڑھ کر اس کوفت سے نجات ملی جو ہماری سیاسی جماعتوں نے ایک آئینی ترمیم کی منظوری کی صورت میں پیدا کی تھی۔ نواز شریف جو کچھ عرصہ قبل اکبر ؔالہ آبادی کا یہ شعر نہایت جذباتی انداز میں پڑھا کرتے تھے کہ:

اکبرؔ نے سنا ہے اہل غیرت سے یہی

جینا ذِلّت سے ہو تو مرنا اچھا

آج وہ اور ان کی صاحبزادی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان کی جماعت عُذرِ گناہ بدتر از گناہ کے مصداق تاولیں دیتی دیتی اپنی سیاسی تدفین پر ماتم کی بجائے بغلیں بجا رہی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *