حکومتی اتحادی جماعتوں کا مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان کی حکومت کا ایک مسئلہ یقینی طور پر اتحادی جماعتیں ہیں۔ ان میں ایم کیوایم، مسلم لیگ ق، بلوچستان میں مینگل گروپ اور سندھ میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ہے۔ یہ جماعتیں وقتا فوقتا حکومت کے لیے اپنی شرائط کو سامنے رکھ کر نئی سے نئی مشکلات پیدا کرتی ہیں اور پھر کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر یا مستقبل کے وعدوں کو بنیاد بنا کر مسائل سے نمٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک بار پھر حکومت کی چاروں اتحادی جماعتیں حکومت سے نالا ں نظر آتی ہیں۔

ان سب کو گلہ ہے کہ حکومت ان کے ساتھ وہ سلوک نہیں کررہی جس کے وہ مستحق ہیں او ربلاوجہ ہم کو حکومتی امور سمیت فیصلہ سازی کے عمل میں نظر انداز کیا جارہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے بطور وزیر استعفی دے کر حکومتی ایوانوں میں نئی کھلبلی پیدا کی ہے۔ اگرچہ انہوں نے وزرات سے علیحدگی اختیار کی ہے مگر ان کے بقول وہ او ران کی جماعت حکومت کی حمایت کو بھی جاری رکھے گی۔

ایم کیو ایم کو بنیادی طو رپر تین باتوں پر حکومت سے اختلاف ہے۔ اول کراچی کا ترقیاتی پیکج جس کا وفاقی حکومت نے اعلان کررکھا ہے مگر یہ پیکج دینے میں تاخیری حربے اختیار کیے جارہے ہیں۔ دوئم ان کو لگتا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی میں ایم کیو ایم کے مقابلے میں اپنا سیاسی کنٹرول بڑھانا چاہتی ہے او را س کے لیے وہ فروغ نسیم کے ساتھ مل کر پس پردہ کچھ نیا کھیل کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سوئم ایم کیو ایم کے بقول وہ حکومت کا اتحادی جماعت ہے مگر اس جماعت کے مسائل سمیت کراچی یا ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی کے معاملات کو پس پشت ڈال کر ایم کیو ایم کے اندر مایوسی پیدا کی جارہی ہے۔ ایم کیو ایم کو لگتا ہے کہ ایک طرف صوبائی حکومت ان سے تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں تو دوسری طرف وفاقی حکومت بھی ان کے لیے مسائل پیدا کررہی ہے۔

ایم کیو ایم کی طرف سے وفاقی وزیر کی علیحدگی وفاقی حکومت کو ایک اشارہ کی طور پر دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کے مسائل کو حل نہ کیا تو وہ متبادل راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔ کچھ دن قبل پیپلز پارٹی نے عملی طور پر ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی، اگرچہ ایم کیو ایم حالیہ مہم جوئی کو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت میں شمولیت سے نہیں دیکھ رہی۔ کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ اگر ان کو کچھ ملے گا تو وہ صوبائی حکومت کے مقابلے میں وفاقی حکومت سے مل سکتا ہے۔

ایم کیوایم ماضی میں بھی سندھ کی سطح پر پیپلز پارٹی کی حکومت کی اتحادی رہی ہے مگر اس کا نتیجہ ایم کیو ایم کی توقعات کے برعکس نکلا۔ ویسے بھی پیپلز پارٹی کی کوشش ہوگی کہ وہ کسی بھی شکل میں ایم کیوایم کے مردہ جسم میں کوئی نئی طاقت پیدا نہ کریں۔ سندھ میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ وفاق سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرے تاکہ یہ اتحاد سندھ میں اپنی جگہ بناسکے، جب کہ وفاقی حکومت کسی بھی طور پر موجودہ صورتحال میں سندھ حکومت سے ٹکراؤ کی پالیسی کی حامی نہیں ہے۔

پنجاب میں چوہدری برادران سمجھتے ہیں کہ صوبہ پنجاب کے حوالے سے ہونے والی فیصلہ سازی میں ان سے کوئی مشاور ت نہیں کی جارہی او ر جونئی انتظامی تبدیلیاں صوبہ میں لائی گئی ہیں اس پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔ پنجاب کے معاملات بظاہر چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کی مدد سے چلائے جارہے ہیں اور وہ اس میں خود کو نظرانداز محسوس کررہے ہیں۔ بلوچستان میں مینگل کی جماعت نے وفاقی حکومت سے چھ نکات پر ایک ماہدہ کیا تھا او ران کا موقف ہے کہ ان کے مطالبات کو وفاقی حکومت نے سنجیدگی سے نہیں لیا او رتاخیری حربے اختیار کرکے ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت وفاقی حکومت سے چاروں اتحادی جماعتیں نالاں ہیں۔ وہ کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر اپنے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کو اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں سے ان کو کچھ نہیں ملنا او رنہ ہی وہ کوئی حزب اختلاف کی سیاست میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں۔

چاروں اتحادی جماعتیں حزب اختلاف کے موجودہ ایجنڈے جس میں مائنس ون، ان ہاؤس تبدیلی، اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات میں کوئی بڑی دلچسپی نہیں رکھتی اور وہ بھی چاہتی ہیں کہ یہ حکومت پانچ برس مکمل کرے۔ ان اتحادی جماعتوں کا مسئلہ ان کے حکومت کے امور سے جڑے مسائل ہیں او روہ ان کا حل چاہتے ہیں۔ جہانگیر ترین، اسد عمر، پرویز خٹک، گورنر سندھ سب اس وقت اتحادی جماعتوں کو منانے کا ٹاسک لیے ہوئے ہیں اور وہ اس میں کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر نئے معاملات طے کرکے ان ہی اتحادیوں کو پرانی تنخواہ پر کام کرنے پر راضی کرسکتے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اتحادی جماعتیں کسی کے اشارے پر حکومت کے اتحاد سے علیحدہ ہونے کا کھیل کھیل کر کوئی نسی سیاسی تبدیلی کی جانب بڑھ رہی ہیں، اس کا امکان بہت کم ہے۔

پاکستان میں بنیادی طو رپر اتحادی جماعتوں کے ساتھ حکومت کرنا کوئی آسان تجربہ نہیں ہے۔ اتحادی جماعتوں کو جائز و ناجائز طریقے سے حکومت اپنے ساتھ جوڑ کر آگے بڑھتی ہے۔ کیونکہ حکومت کو احساس ہوتا ہے کہ عددی تعداد میں ان اتحادی جماعتوں کی اہمیت ہے اور ہم ان کی مدد کے بغیر حکومت نہیں چلاسکیں گے۔ یہ ہی وہ ہتھیار ہے جو اتحادی جماعتیں بھی حکومت کے خلاف اپنا کارڈ کھیل کر اسے استعمال کرتی ہیں۔ وفاقی حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے اس برے معاشی حالات میں اپنی اتحادی جماعتوں کو بہت زیادہ ریلیف دینے کے لیے نہیں ہے۔

اسی طرح یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے زیادہ با اختیار او رمالی طور پر زیادہ وسائل رکھتے ہیں۔ ایسے میں ان صوبائی اتحادی جماعتوں کو اپنے مسائل کا سارا رونا وفاقی حکومت پر نہیں ڈالنا چاہیے۔ ان کے مسائل کی ایک حد تک بڑی ذمہ دار صوبائی حکومتیں ہیں او ران پر دباؤ ڈال کر اپنے مسائل صوبائی سطح پر بھی حل کرنے چاہیے۔

البتہ عمران خان کی وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت کی سطح پر اتحادی جماعتوں کے بارے میں بھی اپنی پالیسی زیادہ شفاف بنانی چاہیے۔ یقینی طور پر ان اتحادی جماعتوں کے بہت سے مطالبات میں سیاسی جان بھی ہوگی او ران کوحل کرناوفاقی حکومت کی ذمہ داری بھی ہے۔ لیکن اصل بات جس پر وفاقی حکومت کو توجہ دینی چاہیے کہ سارے مسائل کی بنیاد پیسہ یا وسائل نہیں بلکہ وفاقی حکومت کا رویہ بھی ہے۔ اتحادی جماعتوں کی سطح پر یہ احساس کا پیدا ہونا کہ ان کو فیصلوں میں نظرانداز کیا جاتا ہے یا ان کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی تو اس کا مداوار یقینی طو ر پر وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت کو کرنا چاہیے۔

اسی طرح مشاورتی عمل او روزیر اعظم، وزیر اعلی، گورنرز سمیت اہم وفاقی وزرا کا اپنی اپنی اتحادی جماعتوں سے تسلسل سے ملنا او ران سے حکومت کی بہتری کے لیے تجاویز لینے یا ان کو بڑے فیصلوں پر اعتماد میں لینے کا عمل موثر ہونا چاہیے۔ یہ کام وزیر اعظم کو خود کرنا چاہیے او راتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا طریقہ بھی آسان بنانا ہوگا۔ کیونکہ عمران خان کی حکومت عملی طور پر اتحادی جماعتوں کی وجہ سے ہے۔ اس لیے جب اس کی حکومت میں اتحادی جماعتوں کی عددی تعداد اہمیت رکھتی ہے تو پٖھر عملا حکومت کو بھی اپنے معاملات پر اتحادی جماعتوں کے تناظر میں نظرثانی کرنی چاہیے۔

جہاں تک لوگ اتحادی جماعتوں کی ناراضگی کو بنیاد بنا کر کوئی بڑی مہم جوئی پیدا کرنا چاہتے ہیں یا اس عمل سے حکومت تبدیل ہوسکتی ہے اس کے فوری طو رپر کوئی آثار نہیں ہیں۔ وفاقی حکومت کو بھی اندازہ ہے کہ ان اتحادی جماعتوں کے ساتھ کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔ اسی طرح ان اتحادی جماعتوں کو بھی سوچنا ہوگا کہ ان کے مسائل اہم ہوسکتے ہیں لیکن ان کی جانب سے بھی بار بار کی سیاسی دھمکیاں دینا یا حکومت کو سیاسی بلیک میل کرنا درست حکمت نہیں۔

اس وقت ملک کے جو مسائل ہیں اس میں اتحادی جماعتوں کو خود بھی حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ حکومت کے پاس پانچ برس کا مینڈیٹ ہے او رہم محض سولہ ماہ کی بنیاد پر اپنے سارے مطالبات منواکر اپنی سیاسی برتری چاہتے ہیں جو ممکن نہیں ہوگا۔ اتحادی جماعتو ں کے مطالبات کو منوانے کے لیے حکومت او راتحادی جماعتوں کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہوگا او ریہ ہی مسئلہ کا حل بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *